وضو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
وضو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 26 فروری، 2017

بے وضو شخص کا قرآنی آیات ٹائپ کرنا

بے وضو شخص کا قرآنی آیات ٹائپ کرنا


سوال:- اگر کوئی شخص کمپیوٹر پر بغیر وضوء قرآنی آیات ٹائپ کرے تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:-
                اگر کوئی شخص کمپیوٹر پر قرآنی آیات اس طور پر ٹائپ کر رہا ہے کہ وہ اس کو چھو نہیں رہا ہے تو ایسے شخص کے لئے اس طرح کرنا جائز ہے درانحالیکہ وہ محدث ہو۔ جیسا کہ امام نوویؒ نے اس کی وضاحت فرمائی۔
".. وهل للبالغ كتابة القرآن وهو محدث أوجنب، وكذلك المرأة؟. الجواب:.. وأما البالغ من الرجال أو النساء، فلا يجوز له كتابةُ القرآن إِلا أن يكتبه بحيث لا يمسّ المكتوبَ فيه. ولا يحمله بأن يضعه بين يديه ويرفع يده في حالل الكتابة[1] "(فتاویٰ للامام النووی ص 33)

"یہ حکم جس طرح کتابت کے لئے اسی طرح ٹائپ اور کمپوزنگ کے لئے بھی ہے۔1ھ"(جدید فقہی مسائل 1/103)



[1]  نیز دیکھئے:- التھذیب 1/278؛ مغنی المحتاج 1/150؛ عجالۃ المحتاج 1/80؛ حاشیۃ البجیرمی علی شرح منھج الطلاب 1/68؛ العباب المحیط 89؛ اسنی المطالب 1/119۔

بدھ، 22 فروری، 2017

نا محرم کو چھونے سے وضوء ٹوٹنے کے دلائل مع عدم نقض والی روایات کے جوابات

نا محرم کو چھونے سے وضوء ٹوٹنے کے دلائل مع عدم نقض والی روایات کے جوابات

سوال : کونسی عورت کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی کیا دلیل ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:-
                بلا حائل اجنبی مرد و عورت کی چمڑی کا آپس میں چھوجانا ایسی صورت میں دونوں کا وضوء ٹوٹ جائے گا  (اور دونوں کی عمر اتنی ہو کہ عرفاً ایک سلیم الفطرت کو انہیں دیکھ کر غالباً شہوت آسکتی ہے اس کے جذبات اُبھر سکتے ہیں۔)
                جیسا کہ امام نوویؒ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے
"قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ مَذْهَبَنَا أَنَّ الْتِقَاءَ بَشَرَتَيْ الْأَجْنَبِيِّ وَالْأَجْنَبِيَّةِ ينتقض سواء كان بشهوة وبقصد أم لا ولا ينتقص مَعَ وُجُودِ حَائِلٍ وَإِنْ كَانَ رَقِيقًا[1]" (المجموع 1/37)
دلائل:-
ہمارے مسلک پر بہت ساری احادیث دلالت کرتی ہیں
1) اللہ تعالیٰ کا فرمان "أو لمستم النساء"(سورہ مائدہ آیت 6) لمس کا اطلاق ہاتھ سے چھونے پر ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان " فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ"(سورہ انعام آیۃ 7) ؛ آپ ﷺ کا حضرت ماعز رضی اللہ عنہ  سے ارشاد فرمایا "لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ" رواہ البخاری فی الحدود 6824 بلفظ  "«لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ»"؛ نهى عن بيع الملامسة أخرجه البخاري 2146 واليد زناها اللمس في حديث ابي هريرة عند المسلم 2657 بلفظ واليد زناها البطش ؛  نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث  قَلَّ يَوْمٌ إلَّا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَيْنَا فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ" أخرجه البيهقي باب الوضوء من الملامسة 1/123 زاد ما دون الوقاع
قال اهل اللغة : اللمس يكون باليد وبغيرها وقد يكون بالجماع المعجم الوسيط ص 838
امامنا الشافعیؒ نے ایک شعر کہا:
وَأَلْمَسْتُ كَفِّي كَفَّهُ طَلَبَ الْغِنَى                وَلَمْ أَدْرِ أَنَّ الْجُودَ مِنْ كَفِّهِ يُعْدِي
                اسی طرح مالك عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله بن عمر عن  أبيه قال قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنْ الْمُلَامَسَةِ فَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ أخرجه مالك في الموطأ باب : الوضوء من قبلة الرجل إمرأته، وأخرجه الشافعي في الأم باب : الوضوء من الملامسة والغائط۔
                مزید براں امام شافعیؒ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال فرمایا:
وَإِذَا أَفْضَى الرَّجُلُ بِيَدِهِ إلَى امْرَأَتِهِ أَوْ بِبَعْضِ جَسَدِهِ إلَى بَعْضِ جَسَدِهَا لَا حَائِلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا بِشَهْوَةٍ أَوْ بِغَيْرِ شَهْوَةٍ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ وَوَجَبَ عَلَيْهَا أخرجه البيهقي 1/124، وعبد الرزاق 497.

عدم نقض والی روایات کے جوابات

بہر حال وہ احادیث جس میں عدم نقض کا حکم ثابت ہوتا ہے ان کی تفصیل مع الجوابات یہ ہے۔
1) عن حبيب ابن أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أخرجه الترمذي في الطهارة 1/86
الجواب: دو وجہ سے
1) احسن و اشهر جواب یہ ہے:
باتفاقِ حفاظ یہ حدیث ضعیف ہے۔ ان میں سفیان ثوری ، یحیی بن سعید القطان، احمد بن حنبل، ابو داود، ابو بکر نیسابوری، ابو الحسن دار قطنی، ابو بکر بیہقی اور متأخرین و متقدمین ہیں بلکہ امام احمد بن حنبل و ابو بکر نیسابوری اور ان کے علاوہ حضرات رقمطراز ہیں:
غلط حبيب من قبلة الصائم الى القبلة في الوضوء 
امام ابو داود رحمہ اللہ نے فرمایا: " رُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ مَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إلَّا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ يَعْنِي لَا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعُرْوَةُ الْمُزَنِيّ مَجْهُولٌ وَإِنَّمَا صَحَّ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صائمبخاری 1928، مسلم 1107
2) والجواب الثانی : اگر اس حدیث کو بالفرض صحیح بھی مان لے تو یہ کہا جائے گا کہ یہ بوسہ لینا حائل کے ساتھ ہو جیسا کہ دیگر ادلہ کے درمیان جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے۔
2) عَنْ أَبِي رَوْقٍ عَنْ إبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ثُمَّ لَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ أخرجہ الترمذی باب: ماجاء فی ترک الوضوء من القبلۃ
الجواب: ائمۃ محدثین نےا س حدیث کو ضعیف قرار دیا دو (2) اعتبار سے
                1)یحیٰ بن معینؒ نے ابوروق کو ضعیف کہا
                2) ابراھیم تیمیؒ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا
قال الترمذي باب ما جاء في ترك الوضوء من القبلة
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»، وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا البَابِ شَيْءٌ
امام بیہقیؒ نے فرمایا:
وَقَدْ رَوَيْنَا سَائِرَ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَبَيَّنَّا ضَعْفَهَا فَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ عَنْ عَائِشَةَ فِي قُبْلَةِ الصَّائِمِ فَحَمَلَهُ الضُّعَفَاءُ مِنْ الرُّوَاةِ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ (المجموع 2/32)
3) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهُوَ حامل أمامة بنت زينب رضي الله عنهما فَكَانَ إذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ رَفَعَهَا رواه البخاري 516، 5996 ومسلم543 فی المساجد
الجواب:- اس حدیث کے مختلف جوابات دئے گئے
1)اظهر: رفع و وضع کی وجہ سے التقاء بشرتین لازم نہیں آتا۔
2) وہ چھوٹی تھیں اور چھوٹی بچی کو چھونے سے خود شوافع کے یہاں وضوء نہیں ٹوٹتا
3) وہ تو آپ کی نواسی محترمہ تھیں، جس بناء پر وہ محرم ٹہریں اور محرم کو چھونے سے عندنا نقضِ وضو نہیں ہوتا۔
4) صحیحین کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی دوسری حدیث
أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهي معترضة بينه وبين القبلة فإذا أراد أن يسجد غمز رجلها فقبضتها أخرجه البخاري في الصلاة باب الصلاة في الفراش 382،383،384،508،511،512،513،514،519،997،1209
ومسلم في باب الاعتراض بين يدي المصلي 512
الجواب: اس حدیث کو حائل پر محمول کریں گے

5) نسائی کے صحیح الاسناد حدیث کے ذریعہ  " فإذا أراد أن يوثر مسني برجله أخرجه النسائي 1/101،102
الجواب: آپ ﷺ نے حائل کے ساتھ چھویا اور یہ بات بستر پر سونے والے شخص کے حق میں ظاہر ہے اور یہ دونوں جوابات ملموس کے طھر کو ماننے کی صورت میں ہے ورنہ اس کی کوئی ضرورت نہیں

6) قیاس کیا محارم اور بالوں پر اور کہا  کہ لمس ناقض وضوء ہے تو لمس الرجل الرجل بھی ناقض وضوء ہونا چاہئے جیسا کہ جماع الرجل الرجل جماع المرأۃ کی طرح ہے۔
الجواب: بالوں کو چھونے پر تلذذ حاصل نہیں اور محرم و رجل مظنۂ شہوت نہیں اس باب میں امام الحرمین نے قیاس کو باطل کیا۔ (انظر ھذا التفصیل : المجموع 2/38 تا 43) 




[1]  نیز دیکھئے :- تحفۃ الطلاب 1/18؛ نھایۃ المحتاج 1/116؛ تحفۃ المحتاج 1/53؛ العزیز 1/161؛ عجالۃ المحتاج 1/78۔

منگل، 26 اپریل، 2016

خفین پر مسح کے مسائل( متن ابی شجاع)

تین شرائط کے ساتھ خفین پر مسح کرنا جائز ہے :
۱۔ مکمل طہارت پر ان پر مسح شروع کیا ہو،
۲۔ دونوں پیروں کے (وضو کی )فرض جگہ کو وہ دونوں ڈھانپے ہو اور
۳۔ ان دونوں پر مستقل چلا جاسکتا ہو۔
مقیم ایک دن اور ایک رات مسح کرے گا اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے گا۔
خفین کے پہننے کے بعد جب حدث (وضو ٹوٹے) ہو اس وقت سے مسح کی مدت کی شروعات ہوگی۔
پس اگر حضر میں مسح کرے پھر سفر کرے یا  سفر میں مسح کرے پھر مقیم ہوجائے تو مقیم کی مدت (یعنی ایک دن اور ایک رات) مکمل کرے گا۔
خفین پر مسح  تین چیزوں سے باطل ہوتا ہے:
۱۔ ان دونوں کو اتارنے سے،
۲۔ مدت مکمل ہونے پر اور

۳۔ اس چیز سے جو غسل واجب کرے۔

نواقضِ وضو(متن ابی شجاع)

چھ چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:
۱۔ جو کچھ سبیلین(دونوں شرمگاہوں )سے نکلے،
۲۔ غیر متمکن ہیئت پر سونا،
۳۔ عقل کا زائل ہونا نشہ یا بیمار کی وجہ سے
۴۔ نا محرم عورت کو بغیر کسی حائل کپڑے کے چھونا
۵۔ ہتھیلی کے اندرونی حصہ سے آدمی کا شرمگاہ اور

۶۔ اپنے دبر(سرین)  کے دائرہ کو چھونا جدید قول کے مطابق

وضو(متن ابی شجاع)

مسواک ہر حال میں مستحب ہے  سوائے روزہ دار کے لئے زوال کے بعد۔
اور مسواک کرنا تین جگہوں میں بہت زیادہ مستحب ہے:
۱۔ بہت دیر خاموش رہنے  وغیرہ  سے منہ کا بدل جانا،
۲۔ نیند سے بیدار کے بعد اور
۳۔نماز کے لئے اٹھنے کے وقت۔
فصل: وضو کے چھ فرائض ہیں:
۱۔ چہرہ دھوتے وقت نیت کرنا،
۲۔ چہرہ دھونا
۳۔دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا،
۴۔ سر کے کچھ حصہ کا مسح کرنا،
۵۔ دونوں پیروں کا ٹخنوں سمیت  دھونا اور
۶۔  جیسا ہم نے (فرائض ) ذکر کئے ہیں اسی ترتیب سے کرنا۔
اور اس کی سنتیں دس چیزیں ہیں
۱۔ بسم اللہ پڑھنا،
۲۔ دونوں ہتھیلیوں کا برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھونا،
۳۔کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا،
۴۔ پورے سر کا مسح کرنا،
۵۔ دونوں کانوں کا  کے ظاہر اور اندرونی حصہ کا نئے پانی سے مسح کرنا،
۶۔ گھنی داڑھی کا خلال کرنا
۷۔ ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرنا،
۸۔ دائیں کو بائیں پر مقدم کرنا،
۹۔ وضو تین تین مرتبہ کرنا اور

۱۰۔ پے در پے کرنا

خفین پر مسح

خفین پر مسح کا بیان
۹۰۔ صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا:
اللہ کے رسول ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے جب ہم سفر مین ہوتے  کہ ہم اپنے خفین کو تین دن اور تین رات نہ اتاریں مگر جنابت کی حالت میں لیکن پائخانہ،پیشاب اور نیند سے نہ اتاریں۔ اس کو نسائی اور ترمذی نے روایت کیا  ہے اور امام ترمذیؒ اسے حسن صحیح فرمایا۔ اور ابن خزیمہؒ اور ابن حبانؒ نے اور امام بخاریؒ نے فرمایا: (خفین کے) وقت کے متعلق یہ صحیح ترین حدیث ہے۔
۹۱۔ ابو بکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے خفین پر مسح کرنے کی مسافر کے لئے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات کی رخصت دی ہے جب وہ اپنے خفین کو طہارت کی حالت میں پہنا ہو۔
اس کو ابن خزیمہؒ اور ابن حبان نے  اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور امام شافعیؒ نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔ اور امام بخاریؒ نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔
۹۲۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک میں وضو فرمایا تو آپ ﷺ نے خف کے اوپر اور نچلے حصہ پر مسح فرمایا۔
اس کو ابو داود،ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام احمد وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابن السکنؒ نے اسے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے۔
۹۳۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: اللہ کے  رسول ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو وضو کررہا تھا اور وہ اپنے خفین کو دھو رہا تھا پس وہ اس کو اپنے ہاتھ سے چبھویا اور فرمایا: بے شک ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے پھر انہیں اپنے ہاتھ سے بتلایا خفین کے سامنے سے پنڈلی کی جڑ تک اور انگلیوں کے درمیان کشادگی کی۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا اور فرمایا: اسمیں بقیہ اکیلے ہیں۔
(ابن ملقن)میں نے کہا: اور وہ (بقیہ) ثقہ ہے ان کی حدیث مسلم نے لائی ہے لیکن وہ مدلس ہے۔
۹۴،۹۵۔ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی وضو کرے اس حال میں کہ وہ خفین پہنا ہو تو چاہئے کہ وہ ان دونوں پر مسح کرے اور اور ان دونوں میں نماز پڑھے اور ان دونوں کو نہ نکالے اگر چاہےت و سوائے جنابت کہ(یعنی جنابت کی وجہ سے اتارے)
اور انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
ان دونوں کو دار قطنی نے روایت کیا ہے اسد السنہ(اسد بن موسیٰ) کے طریق سے اور انہیں امام نسائی وغیرہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابن حزم کو وھم ہوا اور کہا: اسد مُنکَر الحدیث ہے اور اضافہ کیا: کہ اس حدیث کو نہیں روایت کیا حماد بن سلمہ کے اصحاب میں سے ثقہ راویوں میں سے کسی نے۔
(ابن ملقن) میں کہتا ہوں: اس کو روایت کیا ہے عبد الغفار بن داود الحرانی نے حماد بن سلمہ سے جیسا کہ اس کو دار قطنی  اور حاکم نے روایت کیا اور (حاکم نے)  کہا: مسلم کی شرط پر ہے اور فرمایا: عبد الغفار ثقہ ہیں۔
۹۶۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ کئے تو آپ ﷺ نے ہمیں  حکم فرمایا تین دن اور تین راتیں خفین پر مسح  مسافر کے لئے اور ایک دن اور ایک رات مقیم کے لئے جب تک وہ اسے نہ اتارے (یا  ہم نہ اتارے۔)
اس کو بیہقی نے روایت کیا اور کہا: اس روایت کو نقل کرنے میں عمر بن ردیح منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔

میں(ابن ملقن) کہتا ہوں: ابن معینؒ نے فرمایا: (عمر بن ردیح) صالح الحدیث ہے۔
تحفة المحتاج إلى أدلة المنهاج (على ترتيب المنهاج للنووي)

منگل، 6 اکتوبر، 2015

باب اسباب الحدث یعنی نواقض وضو احادیث کی روشنی میں

باب اسباب الحدث(وضو کے ختم ہونے کا بیان)
سبیلین سے کچھ بھی  نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا:-
          ۱۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: وضوء نہیں ہے مگر آواز سے یا  بو  سے۔"(رواہ ابن ماجہ، ترمذی)
          امام ترمذیؒ نے حسن صحیح فرمایا۔
۲۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: مجھے مذی بہت زیادہ آتی تھی پس میں  اس وجہ سے کہ آپ ﷺ کی بیٹی میرے نکاح میں تھی رسول اللہ ﷺ سے(حکم ) دریافت کرنے سے شرمایا تو میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آپ ﷺ سے پوچھ لیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"(مذی خارج ہونے پر)اپنے ذکر(پیشاب گاہ) کو دھولے اور وضو کرلے۔"(متفق علیہ)
۳۔ اور انہی سے یہ بھی مروی ہے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: سرین کا بند آنکھیں ہیں پس جو سو جائے تو چاہئے کہ وہ وضو کرے۔(رواہ ابو داود، ابن ماجہ)
اس کی سند میں کلام ہے، لیکن ابن سکنؒ نے اسے اپنی  سنن الصحاح الماثورہ میں نقل کیا ہے۔
۴۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب سو جاتے تھے پھر نماز پڑھتے تھے اور وہ وضو نہیں کرتے تھے۔(رواہ مسلم،ابو داود)
ابو داود کی روایت میں مزید یہ ہے: یہاں تک کہ انکے سر (نیند کی وجہ سے)جھک جھک جاتے تھے اور یہ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں ہوتا تھا۔
اس سند کے تمام رجال(راوی) ثقہ ہیں۔
شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:-
۵۔ حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
          "جو اپنے ذکر(شرمگاہ) کو چھوؤئے تو چاہئے کہ وہ وضو کرے"(رواہ ابو داؤد،ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،ابن حبان،احمد،دارقطنی،حاکم)
اس کو اربعہ(ابو داؤد،نسائی،ترمذی اور ابن ماجہ) نے ایسی سند سے روایت کیا ہے جس میں کوئی طعن نہیں ہے۔ اور امام احمدؒ ،ترمذیؒ،ابن حبانؒ، دارقطنیؒ اور حاکمؒ نے صحیح قرار دیا ہے، اور امام حاکمؒ نے فرمایا کہ یہ شیخیں(بخاری و مسلم) کی شرط پر ہے۔ امام بخاریؒ نے فرمایا:" اس موضوع پر یہ صحیح تریں روایت ہے"۔
ابن حبان ؒ وغیرہ نے فرمایا: طلقؓ کی حدیث جس سے وضو ناقض نہیں ہوتا مروی ہے وہ اس حدیث کے ذریعے منسوخ ہے۔
۶۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو اپنی شرمگاہ تک پہنچائے اور ان دونوں کے درمیان کوئی  ستر(پردہ/حائل) نہ ہو تو چاہئے کہ وہ وضو کرے۔(رواہ ابن حبان)
امام ابن حبان ؒنے  فرمایا: ہم نے اس میں نافع بن ابو نعیم (یہ ثقہ ہیں)سے احتجاج کیا ہے نہ کے یزید بن عبد الملک النوفلی (یہ ضعیف ہے)سے۔
وضو نماز کی کنجی ہے:-
۷۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"نماز کی کنجی طہور(وضو ) ہے اور اس کی تحریم تکبیر(یعنی اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کردینے سے تمام چیزیں حرام ہوجاتی ہیں) ہے اور اس کی تحلیل سلام (یعنی سلام کے بعد نماز اور تحریم ختم ہوجاتی ہے )ہے۔"(رواہ ابوداود،ترمذی،ابن ماجہ ،الحاکم)
امام حاکمؒ نے فرمایا یہ حدیث مشہور ہے۔
امام ترمذیؒ نے فرمایا:یہ حدیث اس باب میں صحیح ترین اور احسن ہے۔
۸۔ حاکم کی ایک روایت میں جس کی سند صحیح ہے مسلم کی شرط پر یہ ہے:
"نماز کی کنجی وضو ہے۔"
طواف نماز ہی ہے:-
۹۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" خانہ کعبہ کا طواف  نماز ہے سوائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تمارے لئے کلام(بات چیت) کو حلال کیا ہے پس جو بات کرے تو وہ خیر کی ہی بات کرے۔(رواہ الحاکم)
مستدرک میں حاکم نے اس کو روایت کیا ہے سفیان ثوری عن عطاء ابن السائب عن طاووس عن ابن عباسؓ کے ذریعہ، اور سفیان الثوری نے عطاء سے اختلاط سے پہلے سنا ہے جیسا کے امام احمدؒ وغیرہ نے اس کی وضاحت کی ہے،
امام حاکمؒ نے اس کے بعد فرمایا: یہ حدیث صحیح سند سے ہے اور اس پر جماعت (محدثین) متفق ہے۔
۱۰۔ امام حاکم نے اپنی مستدرک میں کتاب التفسیر میں قاسم بن ابو ایوب عن سعید بن جبیر عن ابن عباس روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"طواف نماز کی طرح ہے سوائے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں بات چیت کو حلال کیا ہے پس جو بات کرے وہ صرف خیر کی ہی بات کرے۔"
پھر فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے مسلم کی شرط پر۔
قاسم جو اس سند میں ہے وہ ثقہ ہیں جیسا کے ابو داودؒ وغیرہ ان کے بارے میں فرمایا۔
بے وضو شخص قرآن کو نہ چھوئے:-
۱۱۔ ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے مروی ہے وہ اپنے والے سے اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اہل یمن کو خط لکھا اس میں فرائض،سنن اور دیات کے احکام تھے اور اس میں تھا:
"قرآن کو صرف طاہر شخص ہی چھوئے۔"(رواہ ابن حبان،حاکم)
امام حاکمؒ نے فرمایا: اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے۔
شک سے وضو نہیں ٹوٹتا:-
۱۲۔ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ پائے اور اسے شک ہو کچھ اس سے نکلا یا نہیں تو وہ ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کے وہ کوئی آواز سنے یا بو سونگھے۔(رواہ مسلم)
نامحرم کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے:
۱۳۔حضرت ابن  عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  انہوں نے فرمایا:
"جو شخص عورت کا بوسہ لے یا اسے ہاتھ سے چھوئے، اس پر وضو لازم ہے۔"(رواہ مالک،الشافعی)
۱۴۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا:
"بوسہ لینا بھی لمس میں داخل ہے اور اس سے وضو لازم ہے، لمس سے مراد جماع سے کمتر امور ہیں۔(رواہ البیہقی)
نوٹ: اس سلسلے میں قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر  6 اصل  ہے اس میں أَو لامستم النِّسَاء  یعنی عورتوں سے ملامسہ ہے۔ لمس کے حقیقی معنی چھونا ہے جیسا کہ بعض احادیث میں بھی یہ لفب اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔

مرتب: فرحان باجرائی شافعی

پیر، 5 اکتوبر، 2015

بے وضو شخص پر یہ امور حرام ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم
وہ امور جو بے وضو حرام ہیں
سوال 1: محدث(یعنی بے وضو) پر کیا کیا چیزیں حرام ہیں؟
جواب: بے وضو شخص پر یہ چیزیں حرام ہیں۔
1۔نماز،
2۔طواف،
3۔قرآن کو چھونا اور
4۔ قرآن کو اٹھانا
سوال 2: کیا بے وضو شخص سجدہ تلاوت ، سجدہ شکر کرسکتا ہے؟
جواب: نہیں، بے وضو پر سجدہ تلاوت و شکر بھی حرام ہیں۔
سوال 3:بے وضو شخص پر طواف کیوں حرام ہے؟
جواب: کیوں کہ طواف بھی نماز کے حکم میں ہے اس لئے طواف کرنا بھی حرام ہے۔
سوال 4: کیا بے وضو شخص جزدان یا صندوق جس میں قرآن ہو چھو سکتا ہے؟
جواب: نہیں، بے وضو شخص کا قرآن پاک کو چھونا، صندوق، جزدان یا تھیلی جس میں قرآن ہو تو ان کا بھی چھونا حرام ہے۔
سوال 5: کیا بے وضو شخص کا قرآن کے صفحات کو کسی لکڑی سے الٹنا جائز ہے؟
جواب: جی بے وضو شخص کا قرآن کے صفحات کو کسی لکڑی سے الٹنا جائز ہے۔
سوال 6: کیا بے وضو شخص اپنی آستین کو ہاتھ پر لپیٹ کر اس سے صفحات پلٹ سکتا ہے؟
جواب: نہیں بے وضو شخص کا اپنی آستین کو ہاتھ پر لپیٹ کر اس سے صفحات پلٹنا حرام ہے۔
سوال 7: کیا قرآن کی تفسیر کو بے وضو شخص ہاتھ لگا سکتا ہے؟
جواب: قرآن کی تفسیر میں اگر تفسیر کے الفاظ قرآن کے الفاظ سے زائد ہوں تو کراہت کے ساتھ چھونا وغیرہ جائز ہے، لیکن اگار دونوں الفاظ برابر ہوں یا قرآن کے الفاظ زائد ہوں تو حرام ہے۔
سوال ۸: کسی تختی پر سیکھنے کے لئے قرآن کی آیت لکھی گئی ہو تو کیا اس کو چھو سکتے ہیں؟
جواب: کسی تختی پر قرآن کی آیت لکھی گئی ہو تو اس کو چھونا حرام ہے۔
سوال ۹: کیا نابالغ  بچے کو قرآن کو چھونے سے روکا جائے گا؟
جواب: نہیں نابالغ  بچا جو باشعور ہو اس کو قرآن کو چھونے سے نہیں روکا جائے گا۔ ہاں اگر نابالغ بچا بے شعور ہے اور قرآن کے احترام کو نہیں سمجھتا اسے قرآن دینا جائز نہیں ہے۔
سوال 10: کیا سکوں یا دیوار وغیرہ پر قرآن لکھا ہو تو ان کا چھونا بھی حرام ہے؟
جواب:نہیں، پڑھنے پڑھانے کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے کسی چیز پر قرآن کی آیت تحریر کی گئی جیسے سکہ،کپڑا،عمامہ،کھان اور دیوار وغیرہ پر تو اس کا چھونا اور اٹھانا حرام نہیں ہے۔
نوٹ:- مسجد یا کسی دوسری دیوارپر اورکپڑوں پر قرآن کا لکھنا مکروہ ہے۔
نوٹ:
۱۔ تفصیل کے لئے علماء کرام سے ربط پیدا فرمائیں۔

          ۲۔ تمام مسائل منھاج الطالبین لنوویؒ  ص 71 اور تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی ۱/97سے مأخوذ ہیں۔
(مرتب فرحان باجرائی الشافعی)



منگل، 17 فروری، 2015

وضو کے فرائض : ۶ ترتیب سے وضو کرنا

۶۔ ترتیب:
جیسا بتایا گیا اسی ترتیب سے وضو کرنا ضروری ہے یعنی پہلے نیت کرنا، پھر چہرہ دھونا پھر ہاتھ ، پھر سرکا مسح اور آخر میں پیر دھونا۔
ترتیب مستفاد ہوئی ہے اس آیت سے جس میں وضو  کے فرائض کا ذکر ہے یعنی سورہ المائدہ آیت ۶، اور رسول اللہ ﷺ کے فعل سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے وضو نہیں کیا مگر اسی ترتیب سے جس طرح آیت میں آیا ہے۔ یہ بات صحیح صریح احادیث سے ثابت  ہے جیسا کہ ہم نے ہاتھ دھونے کے مسئلہ میں ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ والی حدیث ذکر فرمائی۔
امام نووی شافعیؒ فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے
علماء شوافع نے قرآن کریم کی آیت سے دو دلیل لی ہیں ترتیب پر۔
۱۔ اللہ تعالیٰ نے دھونے کے اعضاء کے درمیان مسح کرنے کا ذکر کیا ہے یعنی جس اعضاء کو دھونا ہے وضو میں ان کے درمیان سر کے مسح کو ذکر کیا ہے اور عرب کی عادت ہے کہ جب وہ دو الگ الگ جنس کی چیزوں کا ذکر کرتے تو پہلے ایک جنس کی تمام چیزوں کا ذکر کرتے پھر دوسری جنس کی چیزوں کا ذکر کرتے ۔ وہ لوگ اس کے خلاف نہیں کرتے مگر جب ہی تب کے کچھ فائدہ ہو چنانچہ اگر ترتیب واجب نہ ہوتی تو کیوں نظیر کو توڑا جاتا۔ لہٰذا  مغسول اعضاء کے درمیان مسح کرنے کا ذکر اس بات کی دلالت ہے کہ وضو میں ترتیب شرط ہے۔
۲۔ دوسری دلیل اس آیت پاک میں یہ ہے کہ عرب کے لوگ جب چیزوں کا ذکر کرتے  اور بعض کو بعض پر اگر عطف کرتے تو  قریب والے سے شروع کرتے پھر اس سے قریب والے کا ذکر کرتے اور وہ لوگ اس کی مخالفت نہیں کرتے مگر جب کوئی مقصد ہو ۔ چنانچہ جب اللہ سبحانہ تعالیٰ  نے چہرے سے شروع فرمایا پھر ہاتھوں کا ذکر کیا پھر سر کا ذکر فرمایا اور پھر دونوں پیروں کا ذکر فرمایا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ترتیب پر۔ ورنہ اس طرح کہا جاتا اپنے چہروں کو دھو پھر سر کا مسح کرو  پھر دونوں ہاتھوں کو دھو پھر دونوں پیروں کو دھو۔
چنانچہ آیتِ کریمہ سے صاف واضح ہورہا ہے کہ وضو میں ترتیب فرض ہے۔
اور ساتھ میں احادیثِ صحیحہ جو وضو کی صفت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان تمام میں اسی ترتیب پر وضو کا ذکر ہے  کثرت سے روات کے اختلا ف کے ساتھ اور کثرت  سے وضو کی صفت میں اختلاف کے باوجود جیسا کہ ایک مرتبہ ،دو دو مرتبہ تین تین مرتبہ اعضاء وضو کو دھونا روایات میں ہیں اس کے باوجود تمام صحیح روایات میں  یہی ترتیب موجود ہے، اور ثابت نہیں ہے ترتیب کے علاوہ وضو کرنا صفات میں اتنا اختلاف ہونے کے باوجود۔
لہٰذا قرآن کریم کی آیت اور صحیح صریح احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وضو میں ترتیب  فرض ہے ۔(المجموع شرح المھذب ۱/۴۴۵)
مسئلہ: بھول کر یا عمداً ترتیب کی خلاف ورزی ہو تو وضو صحیح نہیں ہوگا۔ البتو چہرہ کا دھونا معتبر ہوگا اور اس کے بعد ترتیب سے جو ادا کرے وہ بھی معتبر ہوگا۔
مسئلہ: چار اشخاص نے کسی کے چاروں اعضاء وضو کو اس کی اجازت سے بیک وقت دھویا تو صرف چہرہ کا دھونا شمار ہوگا۔
مسئلہ: کسی نے پانی میں غوطہ لگا کر وضو کی نیت کرلی تو کافی ہے۔
مسئلہ: ترتیب کے تحقق کے لئے تھوڑی دیر پانی میں ٹھہرنا ضروری نہیں ہے۔
(ملخصاً تحفۃ الباری فی فقہ الشافعی ۱/۸۳)
(الفقہ المنھجی علی مذھب الامام الشافعیؒ)
مرتب : فرحان باجري الشافعی۔

جمعہ، 13 فروری، 2015

وضو کے لغوی و شرعی معنی اور اس کے فرائض

وضو:  


لفض وضوء، وَضَاءَۃ سے مشتق ہے، جس کا مطلب لغت میں پاکیزہ اور خوبصورت ہونا ہے، شرعاً نیت سے شروع کرتے ہوئے بعض مخصوص اعضاء میں پانی کے استعمال کو وضو کہتے ہیں، جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ چونکہ اس کی برکت سے گناہوں کی تاریکی چھٹ کر نورانیت حاصل ہوتی ہے ۔ اس لئے اسے وضو سے تعبیر کیا گیا۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سابقہ شریعتوں میں بھی وضو مشروع تھا۔ اس لئے معراج کے واقعہ سے قبل بھی مسلمان باوضو ہی نماز ادا کیا کرتے تھے، لیکن معراج میں نماز کے ساتھ ساتھ وضو بھی فرض کیا گیا۔ مخصوص کیفیات کے ساتھ، یا اعضاء وضو کا قیامت کے دن پرنور ہونا امت محمدیہ(علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کی خصوصیت میں داخل ہے۔
اعضاء اربعہ کی حکمت:

وضو میں صرف چار اعضاء کے پاکی کی حکمت  سارے بدن کو دھونے کا حکم باعث مشقت ہوتا اس لئے شریعت نے تخفیفاً وضو میں صرف چار اعضاء کو مشروع کیا، اور اس لئے بھی کہ خیر و شر کا صدور انہیں اعضاء سے ہوتا ہے۔
وضو کے فرائض
وضو کے چھ فرائض ہیں:
1.نیت کرنا
2.چہرہ دھونا
3. دونوں ہاتھ کھنیوں سمیت دھونا
4. سر کا مسح کرنا
5. دونوں قدم ٹخنوں سمیت دھونا
6. ترتیب سے وضو کرنا۔

وضو کی مشروعیت اور وضو کے ارکان میں اصل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے 
" يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق وأمسحوا برؤوسكم وأرجلكم إلى الكعبين"
(سورہ المائدہ آیت ۶)
ترجمہ: ائے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو دھؤو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک(کے ساتھ) دھؤو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک( کے ساتھ) دھؤو۔(سورہ المائدہ آیت ۶)