تحفہ توحید بجواب انبیاء و اولیاء سے مدد مانگنا کیسا؟
مصنف مولانا مدثر بن وزیر مقادم االشافعی استاذ جامعہ فیض القرآن کالستہ
فقہ شافعی کی مشہور و معروف کتاب تحفة الباری پر کئے گئے اعتراضات اور فقہاء شوافع کی عبارتوں پر کتر و بیونت کر کہ ان کے بارے میں "غیر اللہ سے مانگنے " کے
امام شافعی کے فقہی مسلک کو مذہب شافعی
کہتے ہیں۔ آپ کا نام محمد بن ادریس الشافعی ہے۔ امام ابوحنیفہ کا سال وفات اور امام
شافعیکا سال ولادت ایک ہی ہے آپ 150ھ میں فلسطین کے ایک گاؤں غزہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی
زمانہ بڑی تنگدستی میں گزرا، آپ کو علم حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا۔ 7 سال کی عمر
میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا، 15 برس کی عمر میں فتویٰ دینے کی اجازت مل گئی تھی۔
آپ امام مالک کی شاگردی میں رہے اور ان کی وفات تک ان سے علم حاصل کیا۔ آپ نے
اصولِ فقہ پر سب سے پہلی کتاب ’’الرسالہ‘‘ لکھی ’’الام‘‘ آپ کی دوسری اہم کتاب ہے۔
آپ نے مختلف مکاتیب کے افکار و مسائل کو اچھی طرح سمجھا اور پرکھا پھر ان میں سے
جو چیز قرآن و سنت کے مطابق پائی اسے قبول کر لیا۔ جس مسئلے میں اختلاف ہوتا تھا
اس پر قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل بحث کرتے۔ آپ صحیح احادیث کے مل جانے سے قیاس
و اجتہاد کو چھوڑ دیتے تھے۔ فقہ شافعی کے ماننے والوں کی تعداد فقہ حنفی کے بعد سب
سے زیادہ ہے اور آج کل ان کی اکثریت ملائشیا، انڈونیشیا، حجاز، مصر و شام اور
مشرقی افریقہ میں ہے۔ فقہ حنفی کی طرح فقہ شافعی بھی کافی وسیع ہے۔ فقہ شافعی کی
ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بڑے بڑے محدثین پید ا ہوئے انہوں نے اپنی تحریر سے
اس دبستان فقہ کی خوب خوب خدمت کی اور فقہی تالیفات کے ڈھیر لگا دیئے۔امام شافعی
نے 204ھ میں مصر میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فقہ شافعی تاریخ وتعارف‘‘ فقہ
اکیڈمی انڈیا کی طرف سے 2013ء میں امام شافعی اور فقہ شافعی کے تعارف کے سلسلے میں
منعقد کیے گئے ایک سیمینار کی روداد ہے اس سیمینار میں اچھی خاصی تعداد میں اہل
علم نے اپنے مقالات پیش کیے ۔یہ مجموعہ انہی مقالات پر مشتمل ہے۔ جس میں امام
شافعی کے حالات وخصوصیات ،فقہ شافعی کی تاریخ، اس کے امتیازات اور فقہ شافعی کی توضیح
کرنے والی تالیفات نیز اس سلسلے میں علما ہند کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی
ہے ۔اردو زبان پر اپنے موضوع پر اولین منفرد کتاب ہے۔ اس کتاب کو مفتی سراج الدین
قاسمی نے مرتب کیا ہے اور فقہ اکیڈمی ہند نے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔
جس میں مولانا نوید
ابو الحسن پورکر (شافعی) معلم جامعہ حسینیہ عربیہ شریوردھن دامت برکاتہم نے عمرہ کے
آداب و مسائل کو نہایت اختصار اور جامعیت کے بیان کیا ہے۔
لب اللباب في تعليم فقه الامام
الشافعي للأحباب (اردو)
یہ کتاب "لب
اللباب فی تعلیم فقہ الامام الشافعی للاحباب " علامہ فقیہ محمد علی بن شیخ
عبد الرحمن سلطان العلماء حفظہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ہے، جس کو مولانا نے
فارسی میں لکھا تھا پھر عربی میں اس کا ترجمہ ہوا اور اب حضرت مولانا ڈاکٹر عبد
الحمید اطہر ندوی صاحب دامت برکاتھم نے اس کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
حضرت مولانا محمد
شفیع قاسمی شافعی بھٹکلی مدظلہ العالی کے تراویح کے موضوع پر تحریر کردہ 5 رسائل
ہے جس میں حضرت مولانا نے تراویح کے فضائل کے ساتھ ساتھ 20 رکعات تراویح اہل سنت
کی علامت ہے ثابت کیا ہے نیز حضرت کی کتاب پر ایک سلفی کے جائزہ کا جائزہ بھی لیا
ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تراویح 20 رکعات ہی سنت ہے۔
1.رمضان کی دو اہم عبادتیں
2. 20 رکعات تراویح اہل سنت والجماعت کی علامت ہے
3. جمہور اہل سنت والجماعت کے نزدیک تراویح بیس رکعات سنت ہے
4. تروایح بیس
رکعات سنت ہے
5. جائزہ پر جائزہ (بیس رکعات تراویح سنت ہے بجواب کیا بیس
رکعات تراویح سنت ہے)
یہ کتاب محترم مولانا احمد یار جنگ رحمۃ اللہ علیہ کی ہے،
یہ بڑی تفصیلی بھی ہے اور بڑی مفید بھی، یہ فقہ شافعی کی معتبر کتاب متن التقریب
جس کو اردو میں خود مولانا نے ہی المختصر کے نام سے لکھا تھا کی ایک ضخیم
شرح ہے، جس میں فقہ شافعی کے تفصیلی احکام آگئے ہیں۔ شوافع ہند کے لئے عظیم تحفہ۔
المختصر شیخ ابو شجاع رحمہ اللہ کی کتاب
"متن الغایۃ" کا ترجمہ ہے جسے مولانا احمد اللہ (احمد یار جنگ)
رحمہ اللہ حیدرابادی نے کیا تھا، نہایت مقبول و مختصر۔