عید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 12 ستمبر، 2016

عيدين کے متفرق مسائل


بسم اللہ الرحمن الرحیم
عيدين کے متفرق مسائل

مسئلہ: عید کے دن آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد دینا اور مصافحہ کرنا مباح ہے(جمل 2/105 (
مسئلہ: میز بچوں کو عید کی نماز کے لئے لانا مباح ہے۔(المجموع 5/9(
مسئلہ: عید کے دن اپنے اہل و عیال پر خرچ میں وسعت کرنا۔ اپنی حیثیت کے مطابق کثرت سے صدقہ کرنا، مسلمان بھائی کی ملاقات کے وقت خوشی کا اظہار کرنا اور خوشی کے اظہار کے لئے رشتہ داروں کی ملاقات کرنا مندوب ہے۔(الفقہ الاسلامی 2/1415(
مسئلہ: عید الفطر کی مبارکبادی کا وقت تکبیر کی طرح غروب سے اور عید الاضحی کا عرفہ کے دن فجر سے ہے۔(بغیہ ص 89(
مسئلہ: عورتوں کو گھر میں باجماعت  نماز عید ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس صورت میں ایک عورت (نماز کے بعد) ان کو وعظ و نصیحت کرسکتی ہے۔
مسئلہ: جو عورتیں نماز کے لئے (عید گاہ وغیرہ) نہ جائیں ان کے لئے زینت مندوب ہے۔
مسئلہ: عید کی طرح دیگر عبادات میں بھی پیدل جانا اور عامد و رفت میں راستہ کی تبدیلی، نیز جاتے وقت طویل اور واپسی میں مختصر راستہ اختیار کرنا مستحب ہے۔ البتہ حج اور غزوہ میں سوار ہونا مسنون ہے۔
مسئلہ: عید الفطر میں نماز سے قبل کھانے کی سنت راستہ میں یا مسجد میں بھی ادا کرے تو عذر کی وجہ سے یہ خلاف مروت نہیں ہے۔
مسئلہ: عید کی نماز میں زائد تکبیرات کا ترک ، اس میں کمی بیشی، ان میں رفع یدین نہ کرنا، یا درمیانی ذکر کا ترک کرنا مکروہ ہے۔(بشری الکریم 2/ 18،19(
)مأخوذ تحفة الباري جلد اول ص 268(


جمعہ، 17 جولائی، 2015

عیدین کا خطبہ

عید کے خطبہ کا وقت اور اس کا طریقہ
مسئلہ: عید کا خطبہ نماز کے بعد ہے۔
حدیث:  (۱)حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے آپ ﷺ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ خطبہ سے پہلے نماز عید ادا کرتے تھے۔(رواہ البخاری و مسلم)
حدیث : (۲) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں، میں آپ ﷺ کے ساتھ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن نکلا تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا۔(رواہ البخاری)
لہٰذا امام نماز سے فراغت کے بعد منبر پر چڑھ کر سلام کر کے (جمعہ کی طرح بقدر اذان) بیٹھ جائے، پھر دوبارہ کھڑے ہو کر دو خطبے دے، اور ان دونوں خطبوں کے ارکان جمعہ کے خطبہ کے مانند ہیں۔ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنا مستحب ہے۔
مسئلہ : ان خطبوں کو قیام پر قدرت کے باوجود بیٹھ کر دینا جائز ہے۔
مسئلہ: اگر صرف نماز پڑھے اور خطبہ نہ دے تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
مسئلہ: کوئی منفرد(اکیلا) عید کی نماز  ادا کرے تو اسے خطبہ دینے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ: عید الفطر کے خطبہ میں صدقہ فطر کے احکام اور عید الاضحیٰ میں قربانی کے احکام بتلانا مستحب ہے۔
مسئلہ: پہلے خطبہ کے ابتداء میں پے در پے (اور جدا جدا) نو (۹) تکبیرات اور دوسرے خطبہ کے ابتداء میں سات تکبیرات پڑھنا مستحب ہے۔
مسئلہ: ان تکبیرات کے درمیان اللہ تعالیٰ کی حمد و تہلیل اور ثنا کے کلمات پڑھنا جائز ہے۔
مسئلہ: مذکورہ نو اور سات تکبیرات نفس خطبہ میں سے نہیں ہیں، بلکہ یہ خطبہ کے لئے بطور مقدمہ کے ہیں۔
مسئلہ: خطبہ کہ دھیان و توجہ سے سننا مستحب ہے اور نہ سننا مکروہ ہے۔
عید کی نماز شروع ہونے کے بعد یا خطبہ کے دوران  آنے والے کے متعلق احکام
مسئلہ: عید کی نماز اگر عید گاہ میں پڑھی گئی اور نماز کے بعد دوران خطبہ کوئی آئے تو وہ تحیۃ المسجد نہ پڑھے بلکہ بیٹھ کر خطبہ سنے اور خطبہ ہونے کے بعد عید کی نماز چاہے عید اہ میں ادا کرے یا اپنے گھر جاکر۔
مسئلہ: اگر عید کی نماز مسجد میں پڑھی گئی اور نماز کے بعد دورانِ خطبہ  کوئی آئے تو سب سےپہلے عید کی نماز ادا کرے پھر خطبہ سنے اور تحیۃ المسجد الگ سے پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ تحیۃ المسجد کا ثواب عید کی نماز کے ضمن میں مل جائے گا۔
مسئلہ: امام نماز سے پہلے ہی خطبہ دے تو خطبہ شمار نہ ہوگا جیسا کہ فرض کی نماز پچھلی سنت فرض سے پہلے پڑھے تو شمار نہیں ہوتی۔
عید کی نماز کی قضاء
مسئلہ: عید کی نماز اگر فوت (چھوٹ) ہو جائے تو اس کی قضاء کرنا مستحب ہے۔
مسئلہ: رمضان کی تیس تاریخ کو زوال سے اتنی دیر پہلے، جس میں لوگوں کا جمع ہو کر عید کی نماز ادا کرنا ممکن ہو ، اور دو عادل شخص گذشتہ رات (یعنی تیسویں رات) چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو روزہ توڑ کر نماز پڑھیں اور یہ نماز ادا شمار ہوگی۔ قضاء نہ ہوگی۔
مسئلہ: اگر غروبِ شمس کے بعد گواہی دیں تو نماز کے  سلسلہ میں گواہی قبون نہ کریں کیوں کہ گواہی قبول کرنے کی صورت میں سوائے نماز چھوڑنے کے کچھ فائدہ نہیں۔ لہٰذا دوسرے دن نماز اداءً پڑھے قضاء نہ ہوگی۔
مسئلہ: اگر زوال کے بعد غروب سے پہلے یا زوال سے اتنی دیر پہلے جس میں نماز پڑھنا ممکن نہ ہو گواہی دیں تو روزہ توڑ دیں البتہ نماز فوت ہو جائے گی، اب اس کی قضاء کرے خواہ اسی دن قضاء کرے یا دوسرے دن۔ لیکن اگر شہر کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے لوگوں کا اُسی دن جمع ہونا ممکن ہو تو اسی دن پڑھنا افضل ہے، ورنہ دوسرے دن پڑھنا افضل ہے۔
حدیث: ایک قافلہ آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں آکر گذشتہ رات چاند دیکھنے کی گواہی دینے لگا تو آپ ﷺ نے انہیں روزہ افطار کرنے اور (دوسرے دن) صبح کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔( احمد،نسائی، بیہقی، صححہ الخطابی)
مسئلہ: دو آدمیوں نے زوال سے پہلے یا مغرب سے پہلے گواہی دی اور زوال کے بعد یا مغرب کے بعد عادل قرار دئے گئے تو جس وقت عادل قرار دئے گئے اس وقت کا اعتبار ہوگا، لہٰذا پہلی صورت میں نماز قضاء پڑھے اور دوسری صورت میں اداء پڑھے۔
نوٹ:- یہ مذکورہ ساری تفصیل اس صورت میں ہوگی جب کہ تمام لوگوں کو اشتباہ ہوجائے اور سب کی نماز فوت ہوجائے۔ لیکن اگر چند افراد کو اشتباہ ہونے کی وجہ سے نماز فوت ہوجائے( تو ادا کی گنجائش نہیں) بلکہ قضاء کرے ۔

جمعہ کے دن عید کا مسئلہ

            جمعہ کے دن عید آجائے اور عید کی نماز کے لئے ایسی بستیوں کے لوگ آجائیں جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہے تو ایسے لوگوں کو جمعہ چھوڑ کر واپس اپنی بستی میں جانے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر ان لوگوں کے جانے سے پہلے جمعہ کا وقت شروع ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں جمعہ چھوڑنے کی اجازت نہیں۔(فتح الوھاب)
(مأخوذ ملخصاً تحفة الباری فی الفقه الشافعی ازشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب حفظہ اللہ)

عید کی زائد تکبیرات کے متعلق مسائل

زائد تکبیرات کے متعلق مسائل
زائد تکبیرات میں شک
مسئلہ: اگر زائد تکبیرات کی تعداد میں شک ہو جائے تو کم سے کم عدد لے کر بقیہ تکبیرات پوری کرے۔
مسئلہ: آٹھ تکبیرات کہنے کے بعد شک ہوجائے کہ ان میں سے کسی تکبیر سے تکبیرِ تحریمہ کی نیت کی یا نہیں تو نئے سرےے سے نماز شروع کرے اور یہ  شک پیش آجائے کہ ان تکبیرات میں کس تکبیر سے تکبیر تحریمہ کی نیت کی تو آخری تکبیر کہ تکبیرِ تحریمہ قرار دیتے ہوئے زائد تکبیرات کا اعادہ کرے۔
مسئلہ: کسی رکعت میں زائد تکبیرات کہنا بھول جائے اور رکوع میں یا رکوع کے بعد یاد آجائے تو نماز جاری رکھے تکبیرات کہنے کے لئے واپس لوٹنے کی ضرورت نہیں۔ اگر لوٹے گا تو نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ: اگر قرأت کے بعد اور رکوع سے پہلے یاد آجائے تب بھی تکبیریں کہنے کی ضرورت  نہیں۔
مسئلہ: زائد تکبیرات کے چھوٹنے کی صورت میں (چاہے بھول سے چھوٹ گئی یا عمداً دونوں صورتوں میں) سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ عالماً عامداً سجدہ سہو کرنے سے نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ: امام کو دوران قرأت یا دوران تکبیرات پالے تو مقتدی کے لئے فوت شدہ(چھوٹی ہوئی) تکبیرات کہنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ: امام کو رکوع میں پائے تو مقتدی بھی امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہوجائے، زائد تکبیرات کہتے نہ بیٹھے۔
مسئلہ: اگر مسبوق (جس کی کوئی رکعت چھوٹ گئی ہو) امام کو دوسری رکعت میں پائے تو امام کے ساتھ پانچ تکبیریں کہے اور پھر اپنی دوسری رکعت میں بھی پانچ ہی تکبیریں کہے۔
مسئلہ: اگر ایسے امام کے اقتداء میں جو تین یا چھ تکبیرات کہنے کا قائل ہو نما ادا کرے تو تکبیرات کی تعداد میں امام کی اقتداء کرے اس سے زائد تکبیریں نہ کہے۔
مسئلہ: عید کی نماز با جماعت پڑھنا سنت ہے جیسا کہ حضرت ابو سعید خدریؓ کی حدیث سے واضح ہے۔(الفقہ المنھجی)

(مأخوذ ملخصاً تحفة الباری فی الفقه الشافعی ازشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب حفظہ اللہ)

عیدین کی تکبیرات اور متفرق مسائل

تکبیرات کا بیان
تکبیرات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہے جو نماز اور خطبہ میں پڑھی جاتی ہے جس کا بیان گذرچکا ہے اور دوسری قسم ان دونوں کے علاوہ ہے ۔ پھر اس کی دو قسمیں ہیں۔
(۱)تکبیرِ مُرسَل(مطلق)
(۲) تکبیرِ مقَیّد
(۱)تکبیرِ مرسل :تکبیرِ مرسل اسے کہتے ہیں جو کسی ایک حال کے ساتھ خاص نہ ہو، بلکہ مسجدوں ،گھروں، راستوں اور رات و دن میں میں پڑھی جائے۔ تکبیرِ مرسل دونوں عیدوں میں مشروع ہے ۔
تکبیرِ مرسل کا وقت: تکبیرِ مرسل کا وقت عید کی رات سورج غروب ہونے سے لیکر امام کا عید کی نماز کے لئے تکبیرِ تحریمہ باندھنے تک ہے۔ تنہا نمازی کے خود کے تکبیرِ تحریمہ کا اعتبار ہوگا۔۔
نوٹ: عید الفطر کی رات میں نماز کے بعد تکبیر پڑھنا مسنون نہیں۔ (مغنی المحتاج ۲/۳۱۴)
مسئلہ: تکبیرِ مرسل عیدین کی رات و دن گھروں ، مسجدوں،بازاروں اور راستوں میں چاہے حضر میں ہو یا سفر میں عید گاہ  جاتے وقت اور عیدگاہ میں بلند آواز سے کہنا مستحب ہے۔
حدیث: آپﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عید گاہ آنے تک بلند آواز سے تکبیر و تہلیل کہتے۔(رواہ الحاکم والبیھقی)
نوٹ: حاجی حضرات اس سے مستثنیٰ ہیں کہ وہ عید الاضحیٰ کی رات میں تکبیر نہ کہیں بلکہ تلبیہ پڑھیں۔
(۲)تکبیرِ مقید: تکبیرِ مقیدصرف عید الاضحیٰ میں مشروع ہے، عید الفطر میں نہیں۔
مسئلہ: تکبیرِ مرسل اور مقید منفرد،باجماعت نماز پرھنے والے،مرد،عورت مقیم اور مسافر سبھی کو پڑھنا سنت ہے۔
تکبیرات کا وقت
عید الاضحٰ کے موقع سے لوگوں کی دو قسمیں ہوں گی۔
(۱) حجاج کرام،               (۲) حجاج کے علاوہ
مسئلہ:حجاج کرام یوم النحر میں ظہر کے بعد سے تکبیر کی ابتداء کریں اور ایامِ تشریق کے آخری دن صبح کی نماز کے بعد ختم کریں۔
مسئلہ: حجاج کے علاوہ دیگر لوگ عرفہ کے دن فجر کے بعد سے ابتداء کریں اور ایام تشریق کے آخرید دن عصر کے بعد تک پڑھتے رہیں۔
حدیث: حضرت علیؓ اور حضرت عمارؓ سے مرو ی ہے: آپ ﷺ عرفہ کے دن صبح کی نماز کے بعدسے تکبیر کی ابتداء کرتے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر بعد ختم کرتے۔(رواہ الحاکم)
ایام تشریق: ایامِ تشریق عید الاضحیٰ کے بعد تین دن ہیں یعنی ۱۱/۱۲/۱۳ ذو الحجہ(الفقہ المنھجی)
مسئلہ: اگر امام مقتدی کے مسلک کے خلاف تکبیر کہے، مثلاً عرفہ کے دن تکبیر کہے اور مقتدی اس دن تکبیر کا قائل نہ ہو یا اس کے برعکس ہو تو مقتدی تکبیر کہنے اور نہ کہنے میں اپنے مسلک پر عمل کرے ،امام کی موافقت ضروری نہیں۔ کیوں کہ سلام پھیرتے ہی امام کی اتباع کا حکم اور دونوں کا تعلق ختم ہوچکا۔
قضاء نماز اور نوافل کے بعد تکبیر پڑھنے کا حکم
مسئلہ:دیگر ایام کی فوت شدہ نماز کی ایام میں تشریق میں قضاء کرے یا ایامِ تشریق کی فوت شدہ نماز ان ہی ایام میں قضاء کرے تو اس کے بعد تکبیر کہنا مستحب ہے۔
مسئلہ: اسی طرح سنن رواتب،مطلق نفل اور نمازِ جنازہ کے بعد بھی تکبیر کہنا مستحب ہے۔
حاصل کلام یہ کہ ایامِ تشریق میں جو بھی نماز پڑھی جائے اس کے بعد تکبیر کہنا مستحب ہے۔
مسئلہ: ایامِ تشریق کی فوت شدہ نماز دیگر ایام میں قضاء کرے تو اس کے بعد تکبیر کہنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ: اگر کسی نماز کے بعد تکبیر کہنا بھول جائے تو یاد آنے پر تکبیر کہہ دے، فاصلہ کم ہو یا زیادہ، گرچہ اپنی جگہ سے اٹھ چکا ہو۔
مسئلہ: مسبوق اپنی نماز پوری کرنے ے بعد تکبیر کہے۔
عید کی تکبیرات
تکبیر کا طریقہ یہ ہے کہ۔ تین مرتبہ بالترتیب تکبیر کہے۔
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
البتہ افضل اور مشہور الفاظ یہ ہیں
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَاَللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
ترجمہ:اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں۔(فتح الوھاب)
مذکورہ تین تکبیروں میں سے تیسری کے بعد ان کلمات کو بھی بڑھانا اچھا ہے۔
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ الله بكرة وأصيلا لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إلَّا إيَّاهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ جُنْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ لَا إله إلا الله والله أكبر.
ترجمہ: اللہ بہت ہی بڑا ہے اور اللہ ہی کے لئے بہت تعریفیں ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں صبح و شام، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، سچے دل سے اس کے فرماں بردار ہیں اگرچہ کہ کافروں کو ناگوار گذرے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اور اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ کی مدد کی اور اپنی جماعت کو عزت دی اور کافروں کے گروہوں کو تنہا شکست دی، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے۔
متفرق مسائل:۔
مسئلہ:عید کے دن آپس میں ایک دوسرے کو مبارک باد دینا اور مصافحہ کرنا مباح ہے۔(جمل۲/۱۰۵)
مسئلہ: ممیز بچوں کو عید کی نماز کے لئے لانا مباح ہے۔(المجموع  ۵/۹)
مسئلہ: عید کے دن اپنے اہل و عیال پر خرچ میں وسعت کرنا، اپنی حیثیت کے مطابق کثرت سے صدقہ کرنا مسلمان بھائی کی ملاقات کے وقت خوشی کا اظہار کرنا اور خوشی کے اظہار کے لئے رشتہ داروں کی ملاقات کرنا مندوب ہے۔(الفقہ الاسلامی ۲/۱۴۱۵)
مسئلہ: عید الفطر کی مبارکباد کا وقت تکبیر کی طرح غروب سے اور عید الاضحیٰ کا عرفہ کے دن فجر سے ہے۔(بغیہ ص۸۹)
مسئلہ: عورتوں کو گھر میں باجماعت نماز عید ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس صورت میں ایک عورت نماز کے بعد ان کو وعظ و نصیحت کرسکتی ہے۔
مسئلہ: جو عورتیں نماز کے لیے عیدگاہ وغیرہ نہ جائیں انہیں زیب و زینت مندوب ہے۔
مسئلہ: عید کی طرح دیگر عبادات میں بھی پیدل جانا اور آمد و رفت میں راستہ کی تبدیلی،نیز جاتے وقت طویل اور واپسی میں مختصر راساتہ اختیار کرنا مستحب ہے۔ البتہ حج اور غزوہ میں سوار ہونا مسنون ہے۔
مسئلہ: عید الفطر میں نماز سے قبل کھانے کی سنت راستہ یا مسجد میں بھی ادا کرے تو عذر کی وجہ سے یہ خلافِ مروّت نہیں ہے۔
مسئلہ: عید کی نماز میں زائد تکبیرات کا ترک اس میں کمی بیشی ان میں رفع یدین نہ کرنا، یا درمیانی ذکر کا ترک کرنا مکروہ ہے۔(بشری الکریم ۲/۱۸-۱۹)


(مأخوذ ملخصاً تحفة الباری فی الفقه الشافعی ازشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب حفظہ اللہ)

جمعرات، 16 جولائی، 2015

عید کی نماز کا طریقہ

عید کی نماز کا طریقہ
عید کی نماز دو رکعت ہے اور ارکان و سنن وغیرہ میں دیگر نمازوں کی طرح ہے اور نیت "عید کی نماز" کی کرے اور یہ اس کا ادنیٰ طریقہ ہے۔
اکمل طریقہ:
حدیث: آپ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیر کہا کرتے۔(احمد،ابوداود،ابن ماجہ،دار قطنی صححہ احمد و علی و البخاری/تلخیص الحبیر)
            تکبیرِ تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح (یعنی وجھت وجھی) پڑھے اس کے بعد پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے علاوہ مزید سات(7) تکبیریں کہے اور دوسری رکعت میں سجدہ سے اٹھنے اور رکوع کے لئے جھکنے کی تکبیر کے علاوہ پانچ (5) زائد تکبیرات کہے۔ اور ان زائد تکبیرات میں ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک متوسط آیت کے بقدر ٹھہرنا مستحب ہے( تقریباً سورہ اخلاص کے بقدر ٹھہرے۔تحفه)
مسئلہ: ہر دو تکبیروں کے درمیان ایسے الفاظ پڑھنا مستحب ہے، جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، کبریائی، بزرگی بیان ہو(بیھقی)
اسی لئے ان الفاظ کا پڑھنا مستحب ہے۔
سُبْحَانُ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَاَللَّهُ أَكْبَرُ
ان کلمات کے ساتھ دیگر کلمات کا اضافہ کرنا بھی جائز ہے۔ مثلاً یہ پڑھے
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
نوٹ:لیکن ذکر اتنا طویل بھی نہ ہو جائے کہ تکبیرات کے درمیان عرفاً طویل فاصلہ شمار ہو۔(حاشیۃ الجمل ۲/۹۵)
نوٹ:-ایک بات یہ ذہن میں رہے کہ مذکورہ ذکر پہلی رکعت میں ساتویں تکبیر اور دوسری رکعت میں پانچویں تکبیر کے بعد نہ پڑھے، بلکہ اس تکبیر کے بعد(یعنی پہلی رکعت میں ساتویں  تکبیر کے بعد اور دوسری رکعت میں پانچویں تکبیر کے بعد) تعوذ(یعنی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) پڑھے۔
مسئلہ:اسی طرح پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور زائد تکبیرات میں سے پہلی تکبیر کے درمیان اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیروں میں سے پہلی تکبیر سے پہلے نہ پڑھے۔(یعنی پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور پہلی زائد تکبیر کے درمیان ذکر نہ کرے وہاں تو دعائے استفاتح پڑھنا ہے اسی طرح دوسری رکعت کے لئے جو کھڑے ہوں گے وہ تکبیر اور زائد تکبیر کے درمیان ذکر نہ کریں)
امام نووویؒ نے المجموع میں امام شافعیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ان زائد تکبیرات کے درمیان ذکر سے فصل نہ کرتے ہوئے پے در پے ان تکبیرات کو کہنا مکروہ ہے۔(المجموع ۵/۱۷)
مسئلہ:ان زائد تکبیرات کے بعد تعوّذ پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھے ( یعنی پہلی رکعت میں سات زائد تکبیرات کے بعد اور دوسری میں پانچ زائد تکبیرات کے بعد) اور اگر (کسی نے زائد تکبیرات سے  پہلے تعوذ پڑھ لی تو اس سے تکبیرات فوت نہ ہوں گی) اگر سورہ فاتحہ شروع کر چکا تو زائد تکبیرات فوت ہوچکیں، لوٹ کر (تکبیرات)پڑھنا مسنون نہیں۔ لیکن رکوع سے پہلے لوٹ کر ان تکبیروں  کو پڑھے تو نماز باطل نہ ہوگی۔ رکوع سے ان تکبیروں کے لئے لوتے تو نماز باطل ہوگی۔(اعانة ۱/۲۶۲)
مسئلہ:سورہ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورہ ق اور دوسری رکعت میں سورہ قمر مکمل یا
پہلی رکعت میں سورہ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیۃ پڑھنا سنت ہے۔(چاہے مقتدی راضی نہ ہو)
حدیث: (۱) آپ ﷺ "عیدالفطر اور عید الاضحیٰ میں سورہ ق اور سورہ قمر پڑھا کرتے تھے"(رواہ مسلم)
حدیث: (۲) حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ سورہ اعلیٰ اور سورہ غاشیۃ پڑھا کرت تھے(رواہ مسلم)
نوٹ:پہلی دو سورتوں یعنی سورہ ق اور سورہ قمر کا پڑھنا افضل ہے۔
زائد تکبیرات میں رفع یدین
زائد تکبیرات میں رفع یدین (یعنی دونوں ہاتھ کاندھوں تک اٹھانا) سنت ہے کیوں کہ حضرت عمرؓ ان تکبیرات میں رفع یدین کرتے تھے(رواہ البیہقی)
مسئلہ:ہر تکبیر کے بعد (عام نمازوں کی طرح سینہ کے نیچے ناف کے اوپر) دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے۔
مسئلہ: عید کی نماز میں قرأت اور زائد تکبیرات جہراً کہنا سنت ہے۔ البتہ تکبیرات کے درمیان ذکر سراً کہے۔
مسئلہ: زائد تکبیرات  میں مقتدی کہ بھی جہر مسنون ہے نیز قضاء پڑھنے کی صورت میں بھی مسنون ہے۔(الشروانی ۲/۴۹۵)

(مأخوذ ملخصاً تحفة الباری فی الفقه الشافعی ازشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب حفظہ اللہ)

بدھ، 15 جولائی، 2015

عید کے رات و دن کی سنتیں

عید کے رات و دن کی سنتیں
            دونوں عیدوں میں سورج غروب ہونے سے لے کر امام کے عید کی نماز کے لئے تکبیرِ تحریمہ باندھنے تک تکبیرِ مُرسَل کا پڑھنا مستحب ہے۔(تکبیر مرسل کا بیان ان شاء اللہ تعالیٰ تکبیر کے بیان میں آئے گا)
عیدین کی رات عبادت کے لئے بیدار رہنا مستحب ہے
حدیث: جو شخص عیدین کی رات بیدار رہے تو اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن سارے قلوب(دل) مردہ ہوجائیں گے۔(رواہ دار قطنی)
اور رات کا اکثر حصہ عبادت کرنے سے پوری رات بیدار رہنے کا ثواب ملے گا۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے جمعہ کی،عیدین کی،رجب کی پہلی اور نصف شعبان کی رات۔(الام)
عیدین کے لئے غسل کرنا،خوشبو لگانا،بالوں کو زائل کرنا( چاہے پھر موئے زیر ناف ہوں یا بغل کے ہوں) ناخن کاٹنا،بدبو زائل کرنا اور اچھے کپڑے پہننا سنت ہے۔ البتہ سفید کپڑوں کا پہننا افضل ہے۔ عمامہ باندھنا بھی مستحب ہے۔
مسئلہ: کسی کے پاس ایک ہی کپڑا ہو تو اسے جمعہ اور عیدین کے لئے دھو کر پہننا مستحب ہے۔
مسئلہ: عید کے غسل کا وقت نصف رات سے شروع ہوتا ہے مذکورہ امور( غسل وغیرہ) ہر آدمی کے لئے مستحب ہیں خواہ وہ نماز عید کے لئے جائے یا گھر بیٹھا رہے۔
            عید الفطر میں نماز کے لئے جانے سے پہلے کوئی چیز کھانا مستحب ہے۔ اگر ممکن ہو تو کھجور طاق عدد(odd) کھانا سنت ہے۔
            عید الاضحیٰ میں نماز سے نہ پہلے کھانا مستحب ہے۔
حدیث: (۱)حضرت انسؓ سے مروی ہے "آپ ﷺ عید الفطر کے لئے جانے سے پہلے طاق عدد کھجور کھاتے تھے۔(رواہ البخاری)
(۲) حضرت بریدہؓ سے مروی ہے "آپ ﷺ عید الفطر میں نماز سے پہلے اور عید الاضحیٰ میں نماز کے بعد کچھ نوش فرماتے۔(رواہ احمد و الترمذی و ابن حبان)
مسئلہ: عید کی نماز کے لئے امام کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے فجر بعد صبح سویرے جانا مستحب ہے تاکہ اپنے لئے جگہ پکڑیں اور نماز کا انتظار کرتے رہیں۔ البتہ امام کے لئے نماز کے وقت جانا مستحب ہے۔ پھر مسجد یا عید گاہ پہنچتے ہی عید کی نماز شروع کرے۔
مسئلہ: عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے اور عید الاضحیٰ کی نماز جلدی پڑھنا مستحب ہے۔
عید کی نماز سے پہلے نفل کا حکم
مسئلہ: امام کے لئے نماز عید سے پہلے اور بعد میں نفل پڑھنا مکروہ ہے البتہ مقتدی کے لئے مکروہ نہیں ہے۔
حدیث: حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے "آپ ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔"(رواہ البخاری)
عید کی نماز کے لئے جانے اور لوٹنے کا سنت طریقہ
مسئلہ: عید کی نماز کے لئے چل کر جانا سنت ہے۔ اگر بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے چل کر نہیں جاسکتا ہے تو سوار ہو کر جائے۔ البتہ واپس لوٹتے وقت تندرست آدمی کے لئے بھی سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
مسئلہ: نماز عید کے لئے لمبے راستے سے جانا اور چھوٹے راستے سے واپس لوٹنا سنت ہے۔
حدیث: حضرت جابرؓ سے مروی ہے : آپ ﷺ عید کے دن ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس لوٹتے۔(رواہ البخاری)
اذان و اقامت کا حکم
مسئلہ :عید کی نماز کے لئے نہ اذان ہے اور  نہ اقامت بلکہ الصلّوٰۃُ جامعةٌ کہہ کر لوگوں کو جمع کیا جائے۔
حدیث: حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے بغیر اذان و اقامت کے عید کی نماز  ادا کی اور خطبہ دیا۔(متفق علیہ)

(مأخوذ ملخصاً تحفة الباری فی الفقه الشافعی ازشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب حفظہ اللہ)

عید کی نماز کی مشروعیت

عیدین کی مشروعیت: اللہ تعالیٰ اپنے کلام مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
ترجمہ: اپنے رب کے لئے نماز ادا کرو اور قربانی کرو۔
اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ یہان صلوٰۃ سے عید الاضحیٰ کی نماز مراد ہے۔(الجامع لاحکام القرآن ۲۰/۱۴۸)
            حدیث: حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عید گاہ جاتے اور سب سے پہلے نماز پڑھاتے پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر انھیں وعظ و نصیحت کرتے جب کہ تمام حضرات صف میں بیٹھے ہوئے رہتے۔(متفق علیہ)
            عیدین کی نماز اس امت کی خصوصیت ہے اور ۲؁ھ میں مشروع ہوئی، کیوں کہ ایک حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے سب سے پہلے   ۲؁ھ میں عید الفطر کی نماز ادا کی۔(حاشیة الجمل ۲/۹۲)
عید کی نماز کا حکم: عید کی نماز سنتِ مؤکدہ ہے اگر شہر کے تمام افراد اس نماز کو چھوڑدیں تب بھی امامِ وقت (حاکم) ان سے قتال نہیں کرسکتا۔ اور یہ نماز منفرد مسافر،غلام، عورت،ہت ایک کے لئے مشروع ہے چاہے پھر گھر میں پڑھے یا کسی اور جگہ۔
عید کی نماز باجماعت سنت ہے، لیکن حاجی کو منیٰ میں اپنے حج کے اعمال کی کثرت کی وجہ سے تنہا پڑھنا افضل ہے۔(تحفة)
مسئلہ: بلا حاجت عید کی ایک سے زائد جماعت مکروہ ہے، اور حاکم اس سے روک سکتا ہے۔(تحفه ۳/۴۹۲)
عید کی نماز کا وقت
 عید کی نماز کا وقت سورج طلوع ہونے سے شروع ہوجاتا ہے  البتہ ایک نیزے کے بقدر سورج بلند ہونے کے بعد پڑھنا افضل ہے (اور اس سے قبل خلاف اولی ہے) اور آخری وقت عید کے دن زوال شمس تک ہے۔
عید کی نماز پڑھنے کے لئے افضل جگہ

            عید کی نماز عیدگاہ میں بھی پڑھنا جائز ہے اور مسجد میں بھی، البتہ ان دونوں کے درمیان افضلیت میں اختلاف ہے۔ اگر مکہ یا بیت المقدس میں ہو تو مسجد حرام اور مسجد اقصی میں پڑھنا افضل ہے(حاشیة الجمل ۲/۹۹) اور ان دونوں کے علاوہ کسی شہر یا بستی میں پڑھنی ہے اور مسجد کشادہ ہو ، یا مسجد کشادہ تو نہ ہو مگر عید گاہ تک جانے کے لئے کوئی عذر درپیش ہو مثلاً بارش یا راستے میں کیچڑ وغیرہ ہو تو مسجد  میں پڑھنا افضل ہے۔ اور اگر مسجد تنگ ہو تو عید گاہ میں ادا کرنا افضل ہے، بلکہ ایسی صورت میں مسجد میں ادا کرنا مکروہ ہے۔ امام عید گاہ نماز پڑھنے کے لئے جائے تو بوڑھوں کو نماز پڑھانے کے لئے کسی کو اپنا نائب بنائے۔(تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی)