نماز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نماز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 30 جولائی، 2016

امام کے لئے واجب صفات



بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام کے لئے واجب صفات
          نماز با جماعت ادا کرنے کے فضائل احادیث میں بہت آئے ہیں اور تنہا نماز پڑھنے پر وعیدیں بھی احادیث میں کثرت سے وارد ہیں، اس لئے ایک مسلمان کو چاہئے کہ فرض نماز مسجد میں با جماعت ادا کر کے اس کے فضائل حاصل کریں، نیز یہ بھی ایک اہم امر ہے کہ جو امام ہو اس میں وہ واجب صفات ہوں جس سے اس کے پیچھے نماز ادا کرنا درست ہو۔ بہت سی جگہ مسئلہ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ایسے شخص کے پیچھ نماز ادا ہوجاتی ہے جس کی اقتداء درست ہی نہیں ہوتی۔ اور علماء کی موجودگی کے باوجود مسئلہ کا علم نہ ہونا یعنی دریافت نہ کرنا یہ بھی ایک گناہ ہی ہے۔ امام کے لئے وہ امور جو واجب ہیں ان کو یہاں پر ذکر کیا جارہا ہے، ان امور میں سے کوئی بھی امر پایا نہ جائے تو ایسے امام کی اقتداء درست نہیں۔ تفصیل کے لئے علماء کرام سے ربط پیدا کریں۔   

مسئلہ: مقتدی کو معلوم ہو کہ امام بے وضو یا جنبی ہے یا اس کے کپڑے پر نجاست ہے تو اس کی اقتداء جائزنہیں ہے۔

مسئلہ:  کافر صرف نماز پڑھنے سے مسلمان نہ ہوگا اور اس کی اقتدا ءجائز نہیں ہوگی۔

مسئلہ:  اگر امام کسی اور مسلک کا ہو اور مقتدی کے مسلک کے مطابق جو واجبات ہیں، ان کی پابندی کرتا ہو، یا پابندی میں صرف شک ہو، تو اس کے پیچھے نماز صحیح ہوگی ورنہ صحیح نہیں ہوگی۔
مثلاً: اگر امام حنفی ہو اور مقتدی شافعی ہو اور امام نے نا محرم کو چھووا ہو اور وضو نہیں بنایا تو کیوں کہ شوافع کے نزدیک لمس ناقض وضو ہے تو اس وقت امام کی اقتداء صحیح نہیں ہوگی۔

مسئلہ:  کسی کی نماز ایسی ہو کہ اس کی قضاء لازم ہو جیسے پانی اور مٹی نہ ہونے کی وجہ سے بلا وضو اور بلا تیمم نماز، تو ایسے نمازی کی اقتداء جائز نہیں۔

مسئلہ: جو دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھ رہا ہو اس کو امام بنانا صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ: دو آدمی باجماعت نماز ادا کر رہے ہوں، لیکن ان میں امام سمجھ میں نہ آئے تو ان میں سے کسی کی اقتداء کرنا صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ: جو اُمّی ہو یعنی سورہ فاتحہ صحیح نہیں پڑھ سکتا تو اس کے پیچھے قاری ( یعنی سورہ فاتحہ صحیح پڑھنے والا) کی نماز صحیح نہ ہوگی۔
اُمّی سے کون مراد ہے؟
مسئلہ:  بے موقع ادغام کرنے والا، راء کو تاء سے بدلنے والا، ایک حرف کی جگہ دوسرا پڑھنے والا اورجو تشدید کو ادا نہ کرسکے یہ سب امی ہیں۔

مسئلہ: امام اور مقتدی ایک ہی طرح کے امی ہوں تو اقتداء صحیح ہوگی۔

مسئلہ:  اگر ایک شخص سورہ فاتحہ نصف اول صحیح پڑھتا ہو اور دوسرا نصف ثانی تو ان دونوں کو ایک دوسرے کی اقتداء کرنا صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ:  تمتام(تاء میں ہکلانے والا) اور فافاء (فاء کو بار بار ادا کرنے والا) کی امامت مکروہ ہے اور اس کی اقتداء صحیح ہے۔

مسئلہ: تلاوت میں ایسی غلطی جس سے مطلب بدلتا نہ ہو جیسے الحمد للهُ( لفظ اللہ کے ہ پر پیش) پڑھنا تو اس کی اور اقتداء کرنے والوں کی نماز صحیح ہوگی۔

مسئلہ: اوراگر  مفہوم بدل جائے جیسے انعمتَُیا انعمتِ ( انعمت کے تاء پر پیش ـــُــیا زیر ـــِـــ ) تو نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ:  اگر   زبان پلٹتی ہو اور سیکھنا ممکن ہو تو سیکھنا لازم ہے، اگر کوتاہی کرے اور وقت تنگ ہو توو ایسے ہی نماز پڑھ لے اور بعد میں اعادہ کرے، اس کی اقتداء صحیح نہیں ہوگی۔
مسئلہ:  اور اگر زبان پلٹتی نہ ہو یا اتنا وقت نہیں ملا کہ سیکھ سکتا، اور سورہ فاتحہ میں یہ مسئلہ ہو تو اس کی نماز اور اس جیسے آدمی کی نماز درست ہے۔  لیکن قاری کی اقتداء صحیح نہیں ہوگی۔
مسئلہ:   فاتحہ کے علاوہ میں یہ مسئلہ ہو تو اس کی اور پیچھے والوں کی نماز درست ہے۔
مسئلہ:  مرد کے پیچھے مرد اور عورتیں اقتداء کرسکتی ہیں۔
مسئلہ:  عورت کے پیچھے صرف عورت اقتداء کرستی ہے۔
مسئلہ:  مرد اور خنثیٰ کی اقتداء عورت کے پیچھے صحیح نہیں ہوگی۔
مسئلہ:  خنثیٰ کے پیچھے صرف عورت نماز پڑھ سکتی ہے، مرد یا دوسرا خنثیٰ نہیں پڑھ سکتے۔
مسئلہ:  امام تیمم یا مسحِ موزہ کرے اور مقتدی وضو کرے اور پیر دھوئے تو اقتداء صحیح ہے۔
مسئلہ:  سلس البول کی اقتداء تندرست کو ( جس کو یہ بیماری نہ ہو) اور مستحاضہ غیر متحیرہ کی اقتداء طاہرہ عورت کے لئے صحیح ہے۔
مسئلہ:  ڈھیلوں سے استنجاء کرنے والے اور جس کے بدن یا کپڑے پر معاف نجاست ہو اس کی اقتداء صحیح ہے۔
مسئلہ:  کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والا بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی اور کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر نماز پڑھنے والے لیٹ کر نماز پڑھنے والے کی اقتداء کرسکتے ہیں۔
مسئلہ:  امام کو باوضو اور پاک سمجھ کر اقتداء کی اور نماز کے بعد اس کا بے وضو یا جنبی ہونا معلوم ہوا تو مقتدی کو قضا کی ضرورت نہیں ہے۔
مسئلہ:  امام کے بے وضو ہونا مقتدی کو معلوم تھا، پھر بھول کر اس کی اقتدا کی تو نماز کا اعادہ ضروری ہے۔
مسئلہ:   امام کو قاری سمجھ کر اقتداء کی، لیکن وہ امی نکلا تو اعادہ لازم ہے۔
مسئلہ:  نماز کے دوران امام کا بے وضو یا جنبی ہونا معلوم ہوا تو فوراً جدائی کی نیت کر کے بقیہ نماز تنہا مکمل کرے، قضاء کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ:  امام کو مرد سمجھ کر کسی مرد نے اقتداء کی، پھر معلوم ہوا کہ عورت ہے، تو اعادہ واجب ہے۔
مسئلہ:  مسلمان سمجھ کر اقتداء کرے اور وہ کافر نکلے تو اعادہ لازم ہے۔
مسئلہ:  نماز کے بعد امام کے بدن یا کپڑے میں نجاست کا علم ہو اور وہ  خفیہ (ظاہر نہ ہو) تو اعادہ کی ضرورت نہیں اور نجاست ظاہر ہ ہو کہ نظر آسکتی تھی تو اعادہ لازم ہے۔
مسئلہ:  ممیز بچہ (با شعور) کی اقتداء میں فرض اور نفل پڑھ سکتا ہے۔ لیکن بالغ امام  افضل ہے۔
مسئلہ:  غلام اور نابینا کی امامت صحیح ہے۔
احادیث: 
1.حضرت عمرہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے دورِ مسعود میں اپنی قوم کی امامت فرمایا کرتے اور اس وقت ان کی عمر سات سال تھی( بعض روایات میں 6 یا 7، 7 یا 8 اور 8 بھی ہے)۔(بخاری، ابو داود، نسائی، طبرانی)
2. مرض الوصال میں آپ ﷺ نے بیٹھ کر امامت فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر پڑھی۔"(متفق علیہ)
3.  بعض غزوات میں آپ ﷺ نے مدینہ میں امامت کی ذمہ داری حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ( نابینا صحابی ہیں) کو سونپی۔(ابو داود، احمد، ابن حبان، ابو یعلیٰ، طبرانی، اسنادہ حسن)(تلخیص الحبیر)
(تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی  1/220)

پیر، 25 جولائی، 2016

نماز جنازہ کے ارکان و شرائط

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نماز جنازہ
نماز جنازہ کے ارکان :-
نماز جنازہ کے سات ارکان ہیں۔
نیت کرنا:  نیت کا وقت وہی ہے جو دیگر نمازوں کا ہے یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ساتھ نیت کرے۔ فرضیت کی نیت کرنا  بھی ضروری ہے اور مطلق فرض کی نیت کافی ہے، فرض کفایہ کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔
مسئلہ: اگر ایک میت ہو تو ایک پر اور ایک سے زائد ہوں تو تمام پر نماز کی  نیت کرے۔
قیام:  قدرت کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔
چار تکبیریں۔
حدیث:  حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: آپ ﷺ نے میت پر چار تکبیریں کہیں اور پہلی تکبیر کے بعد ام القرآن (یعنی سورہ فاتحہ) پڑھی۔(رواہ الشافعی و الحاکم ، تلخیص الحبیر)
مسئلہ: اگر کسی نے بھول سے یا عمداً پانچ تکبیریں کہیں تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔
مسئلہ: اگر امام بانچ تکبیریں کہے تو پانچویں تکبیر میں اس کی اتباع نہ کرے، بلکہ امام سے مفارقت ( الگ ہونے)  کی نیت کر کے سلام پھیرے، یا اس کا انتظار کرتا رہے اور اس کے ساتھ ہی سلام پھیرے اور یہی صورت افضل ہے۔
سلام:
مسئلہ: سلام کے ساتھ نماز سے نکلنے کی نیت کرنا سنت ہے واجب نہیں اور صرف "السلام علیک" کہنا کافی نہیں۔
5. پہلی تکبیر کے بعد سور فاتحہ پڑھنا۔
حدیث:
1۔ آپ ﷺ نے پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھی۔(الشافعی ، الحاکم)
2۔ نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کہنے کے بعد آہستہ سورہ فاتحہ پڑھے، پھر درود پڑھے۔(الشافعی و نحوہ البیھقی)
6. دوسری تکبیر کے بعد آپ ﷺ پر درود پڑھنا۔
حدیث: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نماز جنازہ میں آپ ﷺ پر درود پڑھنا آپ ﷺ کی سنت ہے۔(رواہ الحاکم، صحہ علی شرط الشیخین، فتح الوھاب)
تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کرنا:
مسئلہ: میت کے لئے بالخصوص اخروی دعا کرنا ضروری ہے، نیز دعا کسی اور تکبیر کے بعد ہو تو یہ کافی نہیں ہے۔(حاشیة الجمل 2/172)
حدیث: جب تم میت پر نماز پڑھو تو اس کے لئے دعا کرو۔(رواہ ابوداود، ابن ماجہ و البیھقی)
مسئلہ: کم سے کم اتنی دعا کا ہونا ضروری ہے جس پر دعا کا اطلاق ہوسکے۔ اور افضل دعا ان شاء اللہ  نماز جنازہ کے مکمل طریقہ میں آئے گی۔

نماز جنازہ کے شرائط: دیگر نمازوں میں جو شرائط ضروری ہیں، اس نماز میں بھی ضروری ہیں جیسے طہارت، ستر عورت، قبلہ کی جانب رخ کرنا وغیرہ البتہ مزید شرط یہ ہے کہ نماز سے پہلے میت کا غسل ہوچکا ہو۔
مسئلہ:  کوئی کنویں میں مرجائے یا کان میں دب کر مرجائے اور اسے باہر نکال کر غسل دینا دشوار ہو تو اس پر نماز نہیں پڑھ سکتے۔
مسئلہ: کفن پہنانے سے پہلے نماز پڑھنا کراہت کے ساتھ جائز ہے۔
مسئلہ:  نماز جنازہ کے لئے جماعت کا ہونا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے۔
مسئلہ: صرف ایک مرد کے نماز ادا کرنے سے بھی فرض ذمہ ساقط ہوجائے گا، چاہے وہ ممیّز (باشعور) بچہ ہی کیوں نہ ہو،۔
مسئلہ: مردوں کی موجودگی میں کوئی عورت یا خنثی مشکل ادا کرے تو فرض ساقط نہ ہوگا۔ ہاں اگر ایک بھی مرد موجود نہ ہو تو عورتیں تنہا نماز ادا کریں۔ باجماعت ادا کرنا ان کے لئے مستحب نہیں چاہے مرد کا جنازہ ہو یا عورت کا۔ (لیکن باجماعت ادا کریں تو کوئی حرج نہیں۔ المجموع 5/213) اور ان کے  ذریعے فرض بھی ذمہ ساقط ہوجائے گا۔
مسئلہ: صرف عورتیں موجود ہوں، تو فرض کی ادائیگی کی ذمہ داری عورتوں پر ہوگی، اور اگر مردوں کے ساتھ عورتیں بھی ہوں تو فرض کی ادائیگی کی ذمہ داری عورتوں پر نہ ہوگی بلکہ مردوں پر ہوگی، چاہے ایک ہی مرد کیوں نہ ہو۔(تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی)

منگل، 28 جون، 2016

سجدہ تلاوت کا طریقہ اور اس کے مسائل


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سجدہ تلاوت کا طریقہ اور اس کے مسائل

سجدہ تلاوت سنت ہے پڑھنے والے کے لئے، چاہے پڑھنے والا نماز میں ہو یا نماز کے باہر ہو، اور سننے والے کے لئے جو نماز میں نہ ہو۔
احادیث:-
1۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ابن آدم سجدہ کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا وہاں سے ہٹتا ہے اور کہتا ہے ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدہ کاحکم ہوا تو اس نے سجدہ کیا لہٰذا اسے جنت ملی اور مجھے سجدے کا حکم ہوا اور میں نے نافرمانی کی اس لئے مجھے جھنم ملی۔ (رواہ مسلم)
2۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے قرآن پڑھتے جب سجدہ آتا تو تکبیر کہہ کر سجدہ ریز ہوتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے۔ (رواہ ابو داود و الحاکم)
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورہ النجم میں سجدہ نہیں فرمایا۔ (متفق علیہ)
نوٹ:-اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔
4۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ میں سورہ نحل کی تلاوت کی جب آیت سجدہ پر پہنچے تو فرمایا: اے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے ہیں تو  جو سجدہ کرے اس نے ٹھیک کیا اور جو سجدہ نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا۔
ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ہیں اللہ تعالی نے سجدہ فرض نہیں کیا الا یہ کہ ہم چاہیں۔ (رواہ البخاری)

سجدہ تلاوت  کل 14 ہیں۔  اور وہ ان سورتوں میں ہے:
1۔ الاعراف،
2۔ الرعد،
3۔ النحل،
4۔ الاسراء،
5۔ مریم،
6،7 ۔ الحج،
8۔ الفرقان،
9۔ النمل،
10۔ الم تنزیل،
11۔ حم السجدة،
12۔ النجم،
13۔ الانشقاق اور
14۔ العلق۔
نوٹ:- سورہ ص کا سجدہ، سجدہ تلاوت نہیں بلکہ شکر کا سجدہ ہے، جو نمازکے خارج تو مستحب ہے لیکن نماز میں یہ سجدہ عمداً کرنے سے نماز طاطل ہوگی؛ بھول کر یا لا علمی کی وجہ سے کرے تو نماز باطل نہ ہوگی لیکن سجدہ سہو کرنا سنت ہے۔

نوٹ:- اگر امام (مثلاً حنفی المسلک ہے اور) "سورہ ص "میں سجدہ کرے تو مقتدی اتباع نہ کرے بلکہ اس سے جدائی کی نیت کرے اور اپنی نمازتنہا مکمل کرے یا قیام میں امام کا انتظار کرے۔
مسائل
مسئلہ:- تلاوت کرنے والا سجدہ نہ کرے تب بھی سننے والے کے لئے سجدہ مسنون ہے ، البتہ اسکے کرنے پر تاکید بڑھ جاتی ہے۔
مسئلہ:- تنہا نمازی اپنی قرات کی وجہ سے سجدہ کرے گا، سجدہ کے بغیر رکوع میں چلا گیا پھر سجدہ کرنے کا ارادہ ہو تو نہیں کرسکتا۔
مسئلہ:- تنہا نمازی کسی اور کی تلاوت کی طرف توجہ دے تو اس کی تلاوت پر سجدہ نہ کرے، کیوں کہ اسے یہ توجہ ممنوع ہے۔ اگر سجدہ کرے گا تو نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ:- امام سجدہ تلاوت کرے تو مقتدی بھی کرے،ورنہ اس کی نماز باطل ہوگی۔ (سوائے سورہ ص کے سجدہ کے جیسا کہ اوپر گذر چکا) اور اگر امام سجدہ نہ کرے تو مقتدی بھی نہ کرے ورنہ اس کی نماز باطل ہوگی۔ نماز کے بعد اس سجدہ کی تلافی کرلینا بہترہے جب زیادہ دیر نہ گزری ہو۔
مسئلہ:- مقتدی (یعنی وہ شخص جو امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو) اپنی تلاوت  کی وجہ سے سجدہ نہیں کرسکتا، بلکہ اسے آیت سجدہ کی تلاوت مکروہ ہے۔
مسئلہ:- مقتدی اپنی تلاوت یا امام کے علاوہ کسی اور کی تلاوت پر سجدہ کرے تو نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ:- ایک ہی جگہ سجدہ کی آیتوں کو پڑھے تو ہر ایک کے لئے سجدہ کرے، ایک ہی آیت سجدہ دو بار ایک مجلس میں تلاوت کرے اور پہلی مرتبہ سجدہ نہیں کیا تو اب ایک سجدہ کافی ہے۔ پہلی مرتبہ سجدہ کیا تو دوسری مرتبہ پھر کرے۔
مسئلہ:- نماز میں ایک ہی رکعت میں آیت سجدہ کو دوہرائے تو ایک مجلس کی طرح ہے۔ اور دو رکعتوں میں دوہرائے تو دو مجلس کی طرح ہے۔
مسئلہ: آیت سجدہ کے پڑھنے یا سننے کے فورا ً بعدہی سجدہ کر لینا چاہئے ، کچھ تاخیر ہوجائے تو سجدہ کرلے، زیادہ تاخیر ہوجائے تو سجدہ فوت ہوجائے گا۔ اب اس کی تلافی اور قضا نہ کرے۔
مسئلہ: آیت سجدہ مکمل ہونے سے پہلے سجدہ کرے تو صحیح نہیں، اگرچہ ایک حرف پہلے بھی۔
سجدہ تلاوت کا طریقہ:
سجدہ کی کیفیت کی دو حالتیں ہیں۔
1۔ نماز کے باہر اور  2۔ نماز کے اندر۔
نمازکے باہر سجدہ تلاوت کا طریقہ:
جو سجدہ تلاوت کرنا چاہے تو وہ سجدہ تلاوت کی نیت کرے پھر تکبیر تحریمہ کہے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے،پھر سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہے بغیر دونوں ہاتھ اٹھائے کہ اور نماز کے سجدوں کی طرح ایک سجدہ کرے۔  پھر تکبیر کہتا ہوا سر اٹھائے اور سلام پھیرے۔
سجدہ تلاوت کے شرائط و فرائض:-
نمازکے جو شرائط ہیں وہی سجدہ تلاوت کے لئے بھی شرط ہیں جیسے طہارت،ستر عورت اور استقبال قبلہ وغیرہ۔

(نماز کے باہر ) سجدہ تلاوت کی نیت اور سلام پھیرنا واجب(فرض) ہے۔

نماز میں سجدہ تلاوت:
اگر نماز میں سجدہ کی آیت تلاوت کرے تو نماز کے سجدہ کی طرح بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور تکبیر کہتا ہوا سجدہ سے اٹھے۔ سجدہ تلاوت سے اٹھنے کے بعد سیدھا کھڑا ہوجائے، جلسہ استراحت میں نہ بیٹھے۔
سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے؟:-
سجدہ تلاوت میں یہ ذکر مستحب ہے
سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ
ترجمہ: میرا چہرا اس ہستی کے روبرو سجدہ ریز ہوا جس نے اسکی تخلیق اور صورت گری فرمائی اور اپنی قدرت و قوت سے اس میں سننے و دیکھنے کی طاقت پیدا فرمائی۔ (رواہ احمد و اصحاب السنن و الدار قطنی والحاکم و البیھقی و صححہ ابن السکن) ابن السکن کی روایت میں تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
امام حاکم کی روایت کے آخر میں
" فتبارك الله احسن الله الخالقين" کا اضافہ فرمایا ہے۔ (تلخیص الحبیر 2/10)
یا یہ پڑھنا بھی مستحب ہے:
اللَّهُمَّ اُكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَك ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُد (عَلَيْهِ السَّلَامُ)
ترجمہ:یا اللہ اس (سجدہ) کی وجہ سے تو اپنے یہاں میرے حق میں نیکی لکھ دے، اور اسے تیرے  پاس میرے لئے ذخیرہ بنا، اور اسکے ذریعے میرے گناہ معاف فرما اور مجھ سے قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام سے قبول فرمایا۔(الترمذی والحاکم وابن حبان و ابن ماجہ)
(مأخوذ الفقہ المنھجی و تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی  مختصراً)
فرحان باجري الشافعی