روزہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
روزہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 29 مئی، 2018

روزہ میں بال کٹوانے یا ناخن تراشنے کا کیا حکم ہے


روزہ میں بال  کٹوانے یا ناخن تراشنے کا کیا حکم ہے


            بال کٹوانا یا ناخن تراشنا یہ ایسے افعال ہیں جن کا اثر بدن کے ظاہری سطح تک محدود رہتا ہے لہٰذا بحالت روزہ ان افعال کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (فتاوی الرملی ص 202 بحوالہ آواز حق جولائی 2016 ص 57)
فرحان باجرَي الشافعي

منگل، 15 مئی، 2018

روزہ کی ممانعت


روزہ کی ممانعت

پانچ دنوں میں روزے رکھنا حرام ہے: عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دو دن اور تشریق یعنی گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ کے تین دن۔ دیگر ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ایام تشریق دو ہیں۔

شک کے دن کا روزہ
شک کے دن کا روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی  ہے سوائے اس کے کہ اُس دن روزہ رکھنے کی عادت ہو جیسا کہ اس شخص کے لیے جو ہر دوسرے دن روزہ رکھتا ہو اور شک کا دن روزے کی باری کا دن ہو۔ نذر کیا ہوا اور قضا روزہ بھی شک کے دن رکھا جاسکتا ہے۔
شک کا دن شعبان کا تیسواں دن ہے جب مطلع ابر آلود نہ ہونے ( آسمان صاف رہنے) کے باوجود ہلال (چاند) نظر نہ آئے اور لوگ ہلال کا  نظر آنا بیان کریں مگر کس نے دیکھا ظاہر نہ ہو یا رویتِ ہلال کی شہادت بچے، غلام یا فاسق فاجر ادا کریں۔ اَبر ہے تو کسی شک کی گنجایش ہی نہیں، وہ دن قَطعی طور پر شعبان میں ہوگا۔ (المتوسط احمد جنگ ص 115)

روزے کے مستحبات


روزے کے مستحبات

 روزے میں تین باتیں مستحب ہیں:
1۔ افطار جلدی کرنا بشرطیکہ سورج غروب ہونے کا یقین ہوجائے۔ اگر سورج کے غروب ہونے میں شک ہو تو افطار میں جلدی نہ کی جائے۔ کھجور سے ورنہ پانی سے ورنہ میٹھی چیز سے افطار کرنا سنت ہے۔ افطار کے بعد کہے: "اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أفطرت وبك امنت وَلَكَ أَسْلَمْتُ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "(اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے دیے ہوئے رزق پر افطار کیا اور تجھ پر ایمان لے آیا اور میں نے تیرے لیے سر جھکایا اور تجھ پر توکل کیا، پیاس چلی گئی اور رگیں گیلی ہوگئیں اور اگر اللہ چاہے تو اجر ثابت ہوگیا)

2۔ سحری کرنے میں دیر کرنا بشرطیکہ وقت کی نسبت کوئی شک نہ ہو۔ اگر شک ہے تو تاخیر نہ کرے۔ سحری کا وقت نصف شب سے شروع ہوتا ہے۔ سحری کا مقصد تھوڑے سے کھانے پینے سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

3۔ فحش کلامی ترک کرنا۔ جھوٹ، غیبت اور گالی گلوچ سے روزہ دار اپنی زبان کو محفوظ رکھے۔ گالی کے جواب میں روزہ دار کہے : "میں روزہ سے ہوں"۔ نوویؒ نے لکھا ہے کہ زبان سے کہے، اور رافعیؒ نے لکھا ہے اپنے دل میں کہہ لے اور بس اسی پر اکتفا کرے۔(المتوسط احمد جنگ ص 114، 115)

روزے کے ارکان


روزے کے ارکان

روزے کے ارکان جن کو فرائض بھی کہا گیا ہے وہ چار ہیں۔
1۔ نیت:
نیت دل سے ہے، زبان سے اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے، نیت کی تبییت یعنی رات میں ہی پایا جانا ضروری ہے سگر وہ فرض یا نذر کا روزہ ہو۔
 نفل روزے میں تبییت کی قید نہیں ہے۔ فرض روزے میں روزے کا تعین بھی واجب ہے۔ جیسا کہ رمضان کا روزہ۔
رمضان کے روزے کی اقل (کم از کم) نیت یہ ہے،" نَوَيْتُ صَوْمَ رَمَضَانَ "( میں رمضان کے روزہ کی نیت کرتا ہوں) اور اکمک نیت یہ ہے
 نَوَيْتُ صَوْمَ غَدٍ عَنْ اَدَاءِ فَرْضِ شَهْرِ رَمَضَانَ هٰذِهِ السَّنَةَ  لِله تَعَالٰى (میں اس کے رمضان کے کل کے روزے کی اللہ تعالی کے لیے نیت کرتا ہوں)
2۔ عمدا کھانے پینے سے پرہیز کرنا، بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کھائے یا پیے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بشرطیکہ ناواقفیت علماء سے دوری کی وجہ سے ہو۔
3۔ جماع سے پرہیز کرنا۔ بھول کر جماع کا حکم وہی ہے جو کھانے پینے کا ہے۔
4۔ عمداً قئے کرنے سے پرہیز کرنا، اگر اپنے سے قئے ہو جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔( المتوسط احمد جنگ ص  113)

روزہ توڑنے والی چیزیں


روزہ توڑنے والی چیزیں

روزہ توڑنے والے دس امور ہیں۔
1۔ کسی چیز کا عمدا معمولی ذریعہ سے
2۔ یا غیر معمولی زخم وغیرہ کے ذریعہ سے پیٹ میں یا سر میں پہنچنا۔ چیز سے مراد دنیوی مادی شئی ہے اور رمباکو وغیرہ کا دھواں بھی اس میں شامل ہے۔
3۔ حقنے کے ذریعے کوئی چیز  شرم گاہوںکے راستے سے پہنچانا۔
4۔ عمداً قئے کرنا ، اگر قئے اپنے سے ہوجائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا
5۔ عمدا شرم گاہ میں جماع کرنا۔ اگر بھول کر کرے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
6۔ انزال یعنی منی کا اخراج، مباشرت کی وجہ سے، بغیر جماع کے۔ مباشرت دو افراد کے چمڑوں کا بغیر حائل کے راست چھولینے کو کہتے ہیں۔ مباشرت کی قید سے احتلام خارج ہوگیا، روزہ احتلام کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا۔
7۔ حیض
8۔ نفاس
9۔ جنون
10۔ ارتداد (مرتد ہونے سے)
 ان آخری چار امور میں سے کوئی بات ذرا برابر بھی روزے میں ظاہر ہوجائے تو روزے  کو توڑدے گا۔( المتوسط احمد جنگ ص 113، 114)

روزے


بسم اللہ الرحمن الرحیم
صیام اور صوم کے معنی امساک یعنی رکے رہنے کے ہیں۔ اور شریعت میں ایک خاص نیت کے ساتھ روزے توڑنے والے امور سے دن بھر پرہیز کرنے کو صیام کہتے ہیں۔

روزہ واجب ہونے کی شرطیں

روزے واجب ہونے کے لیے چار شرطیں ہیں:
1۔ اسلام 
2۔ بلوغ
3۔ عقل
4۔ قدرت یعنی روزہ رکھنے کی طاقت ہو۔
 ان چاروں صفات کی عدم مجودگی میں روزہ واجب نہیں ہے۔

روزہ صحیح ہونے کی شرطیں

روزے  صحیح ہونے کے لیے پانچ شرطیں ہیں:
1۔ اسلام
2۔ تمیز
3۔ عورت حیض و نفاس سے پاک ہو۔
4۔ دن روزے کے قابل ہو یعنی عیدین اور گیارہ، بسرہ ، تیری ذی الحجہ کے علاوہ ہو۔
5۔ صبح صادق اور غروب کے اوقات سے واقفیت، اس لیے کہ ان دونوں اوقات کے درمیان کھانے پینے س پرہیز کرنا ہے۔(المتوسط احمد جنگ ص 112، 113)

اتوار، 22 اپریل، 2018

روزہ کے مختصر مسائل فقہ شافعی


بسم اللہ الرحمن الرحیم

روزہ کے مختصر مسائل

روزہ واجب ہونے کی شرطیں: روزے واجب ہونے کے لیے چار شرطیں ہیں:
1۔ اسلام 
2۔ بلوغ
3۔ عقل
4۔ قدرت
روزہ صحیح ہونے کی شرطیں:
روزے  صحیح ہونے کے لیے پانچ شرطیں ہیں:
1۔ اسلام
2۔ تمیز
3۔ حیض و نفاس سے پاکی
4۔ دن روزے کے لائق ہو
5۔ صبح صادق اور غروب کے اوقات سے واقف ہو۔

روزے کے ارکان

1۔ نیت: " نَوَيْتُ صَوْمَ غَدٍ عَنْ اَدَاءِ فَرْضِ شَهْرِ رَمَضَانَ هٰذِهِ السَّنَةَ  لِله تَعَالٰى (میں اس کے رمضان کے کل کے روزے کی اللہ تعالی کے لیے نیت کرتا ہوں)
2۔ کھانے پینے سے پرہیز
3۔ جماع سے پرہیز
4۔ عمداً قئے کرنے سے پرہیز

مبطلات:  روزہ دس باتوں سے ٹوٹتا ہے:

1،2 ۔ عمداً کسی چیز کو سر یا پیٹ میں پہنچانے سے۔
3۔ حقنے کے ذریعے کسی چیز کو شرم گاہ میں داخل کرنے سے۔
4۔ عمداً قئے کرنے سے۔
5۔ شرم گاہ میں جماع کرنے سے
6۔ انزال ہونے سے مباشرت یعنی مساس وغیرہ کی وجہ سے
7۔ حیض
8۔ نفاس
9۔ جنون
10۔ مرتد ہونے سے

مستحبات: روزے میں تین باتیں مستحب ہیں:

1۔ افطار جلدی کرنا۔ افطار کے بعد کہے: "اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أفطرت وبك امنت"(اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے دیے ہوئے رزق پر افطار کیا اور تجھ پر ایمان لایا)۔
2۔ سحری کرنے میں دیر کرنا۔
3۔ فحش کلامی ترک کرنا۔
پانچ دنوں میں روزے رکھنا حرام ہے:
عیدین کے دو دن اور تشریق کے تین دن یعنی 11 سے 13 ذی الحجہ تک روزہ رکھنا حرام ہے۔
شک کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ (مکروہِ تحریمی ) ہے سوائے اس کے کہ اس دن روزہ رکھنے کی عادت ہو۔

کفارہ:

 رمضان کے روزے کے دن عمداً شرم گاہ میں جماع کرنے سے روزے کی قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں۔
کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے، یہ نہ ہوسکے تو دو مہینے مسلسل روزے رکھے، یہ بھی نہ ہوسکے تو ساٹھ (60) مسکینوں کو  فی کس ایک مُْ یعنی بارہ چھٹانگ (600 گرام) کے حساب سے غلّہ دے۔
اگر کوئی شخص فرض روزے اپنے ذمہ رکھ کر وفات پائے تو ہر روزے کے لیے ایک مد یعنی بارہ چھٹانگ غلّہ دے۔
بوڑھا شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ہر روزے کے لیے ایک مُد غلہ دے۔
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کی ذات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑے اور روزے کی قضا کرے اور اگر بچے کو نقصان کا اندیشہ ہو تو بھی روزہ توڑے لیکن اُس پر قضا اور فدیہ روزانہ ایک مُد کے حساب سے واجب ہوں گے۔
مریض اور مسافر  طویل اور مباح سفر میں توزہ توڑسکتے ہیں لیکن قضا واجب ہے۔ (المختصر از احمد جنگ ص 44-46)

منگل، 5 جولائی، 2016

روزہ کا فدیہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم
روزہ کا فدیہ
کسی کا رمضان، نذر یا کفارہ کا واجب روزہ عذر کی وجہ سے فوت ہو اور اس کی قضا کے امکان اور قدرت سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوجائے، تو اس کے تدارک اور تلافی کی ضرورت نہیں اور نہ وہ گنہگار ہوگا۔ مثلا ًکوئی بیمار ہوجائے اور روزہ فوت ہو اور موت تک بیمار ہی رہے یا سفر میں روزہ فوت ہو اور موت تک سفر جاری رہا یا حاملہ اور دودھ پلانے والی کا روزہ فوت ہو اور اسی حال میں انتقال ہو، ان تمام صورتوں میں نہ تلافی کی ضرورت ہے اور نہ گنہگار ہوگا۔
اگر بلا عذر روزہ فوت ہو تو گناہ بھی ہوگا اور تدارک بھی لازم ہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

اگر بلا عذر یا عذر کی وجہ سے روزہ فوت ہو اور قضا کے امکان کے بعد انتقال ہو، تو اس کے ترکہ میں سے ہر دن کے روزہ کے بدلے اپنے شہر کی غالب غذا سے ایک ایک مد(ایک مد =600 گرام) فطرہ کی جنس سے فدیہ ادا کرے یا اس کا کوئی رشتہ دار اس کی جانب سے روزہ رکھے یا کوئی اجنبی رشتہ دار کی اجازت یا میت کی وصیت سے روزہ رکھے۔

نوٹ:- امکان کے بعد انتقال ہوا تو دونوں صورتوں میں گناہ ہوگا، اس لئے موقع ملتے ہی فورا قضا کرنا بہتر ہے۔
احادیث:
1۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" جسکا انتقال ہو اور اس کے ذمہ روزہ ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔"(صحیح بخاری 1952، صحیح مسلم)
2۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے پھر کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزہ تھے، کیا میں ان کو قضاکروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہان! اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی قضا کی جائے۔"( صحیح بخاری 1953، صحیح مسلم)


3۔ کسی کا انتقال ہو اور ذمہ روزہ ہو تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو طعام دیا جائے۔(سنن الترمذی و صحیح وقفہ علی ابن عمر)
4۔ ایک عورت کی والدہ کا انتقال ہوا۔ اور اس کے ذمہ نذر کے روزے تھے تو اس کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اپنی امی کی جانب سے تم روزہ رکھو۔"(صحیح مسلم)

جو شخص ایسے عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑے جس کے ختم ہونے کی کوئی توقع و امید نہ ہو جیسے بوڑھا یا ایسا مرض جس سے شفا یابی کی امید نہ ہو تو ہر روزہ کے بدلہ ایک مد (600 گرام) اناج دے، آئیندہ روزہ قضا کرنے کی ضرورت نہیں۔
 فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (سورہ البقرہ 184)
ترجمہ: "جو شخص تم میں سے (ایسا) ہو جو بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو دوسے ایام کا شمار (کر کے ان میں روزہ ) رکھنا (اس پر واجب ہے) اور ( دوسی آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ ) جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں ان کے ذمہ فدیہ ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا کھلا دینا یا دے دینا ہے اور جو شخص خوشی سے (زیادہ) خیر (خیرات) کرے (کہ زیادہ فدیہ دے) تو اس شخص کے لئے اور بھی بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا ( اس حال میں ) زیادہ بہتر ہے اگر (روزہ کی فضیلت سے )خبر رکھتے ہو۔"

امام بغوی ؒفرماتے ہیں :
"یعنی جو نوجوانی میں میں روزہ پر قادر تھے اور اب بڑھاپے میں عاجز ہیں، ان کے ذمہ ایک فقیر کا کھانا فدیہ ہے۔(تفسیر بغوی)

 اگر مشقت اٹھا کر روزہ رکھے تو یہ کافی ہے۔ فدیہ ادا کرنے سے پہلے (اتفاقا ًاور خلاف توقع) عذر زائل ہو جائے تب بھی فدیہ ادا کرسکتا ہے۔ روزہ رکھنا واجب نہیں۔ دن سے قبل رات ہی میں اس دن کا فدیہ ادا کرسکتا ہے۔  رات سے قبل آئندہ کا فدیہ جائز نہیں۔

درج ذیل افراد کو روزہ کی قضا اور فدیہ ( 600 گرام) دونوں لازم ہیں۔

1۔ کسی آدمی یا حیوان محترم کی زندگی بچانے یا کسی عضو کو یا منفعت کو تلف ہونے سے بچانے کے لئے روزہ توڑنا پڑے۔
مثلا ًکوئی ڈوب رہا تھا اور اس کے بچانے میں پانی اندر چلا گیا اور روزہ ٹوٹ گیا۔

2۔ حاملہ عورت صرف اپنے حمل (جنین) کو نقصان اور خطرہ کی وجہ سے روزہ نہ رکھے۔

3۔ مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت) شیر خوار بچہ کو نقصان اور خطرہ ہونے کی وجہ سے روزہ نہ رکھے۔

جنین اور بچہ کو روزہ سے نقصان ہو تو روزہ نہ رکھنا واجب ہے۔ مرضعہ کا بچہ اپنا ہو یا دوسرے کا یہی حکم ہے۔

مذکورہ( اوپر بیان کی ہوئی) تینوں صورتوں میں افطار ( روزہ نہ رکھنے سے) دو افراد کو فائدہ پہنچا اس لئے فدیہ سمیت قضا لازم ہوا۔
آخری دو صوروں کے لئے آیت سابقہ  وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ( سورہ بقرہ 184)  سے بھی استدلال کیا گیا کیوں کہ بقول ابن عباس رضی الہ عنہما ان دونوں کے حق میں یہ آیت منسوخ نہیں۔ ( رواہ البیہقی) 

مسئلہ:-جس شخص کو رمضان کے روزوں کے قضا کا موقع ملے ( یعنی بلا عذر روزہ رکھنے کے ایام میسر ہوں) اور وہ روزہ نہ رکھے، یہاں تک کہ دوسرا رمضان آگیا، تو اسے قضا کے ساتھ ہر روزہ کے بدلہ ایک مد ( 600 گرام) فدیہ دینا واجب ہے۔ کیوں کہ 6 صحابہ کرام نے یہی فتوی دیا ہے اور ان کے مخالف کسی صحابی سے مروی نہیں۔

جتنے سال تاخیر ہوگی اتنے ہی فدیہ واجب ہوں گے، جب کہ ہر سال روزہ رکھنے کی گنجائش کے باوجود مؤخر کرے۔  کیوں کہ مالی حقوق میں تداخل نہیں ہے۔

مثلاً کسی نے باوجود گنجائش کے 5 روزے 3 سال مؤخر کئے تو 5 روزوں کی قضا کے ساتھ ہر روزہ کے بدلہ تین تین مد( 600 گرام * 3 = 1800 گرام) اناج لازم ہے۔

بھول کی وجہ سے یا تاخیر کی حرمت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوئی تو فدیہ کی مقدار میں اضافہ نہ ہوگا۔
مذکورہ صورت میں ایک سال تاخیر کے بعد روزہ کی قضا سے پہلے انتقال کر جائے تو اسکے ترکہ میں سے ہر روزہ کے بدلہ دو مد (2 *600 گرام) نکالے، ایک روزہ کا اور ایک تاخیر کا۔ اور ولی اس کی جانب سے روزہ رکھے تو،  صرف ایک مد ( 600 گرام ) تاخیر کا نکالے۔

مسئلہ:- مذکورہ فدیہ کا مصرف فقیر اور مسکین ہیں۔ کیوں کہ مسکین کا ذکر آیت و حدیث میں ہے اور فقیر اس سے بھی زیادہ تنگ دستی میں ہوتا ہے۔

مسئلہ:- سارے مد ایک فقیر یا مسکین کو بھی دے سکتا ہے، کیوں کہ ہر دن مستقل عبادت ہے لہذا سارے مد مختلف کفاروں کی طرح ہیں۔ 

مسئلہ: ایک ہی مد دو میں تقسیم نہ کرے، بلکہ ایک مد مکمل ایک شخص کو دے۔  

(ماخوذ تحفہ الباری فی الفقہ الشافعی 361 – 363، الفقہ المنھجی)

اتوار، 29 نومبر، 2015

کتاب الصیام و الاعتکاف

کتاب الصیام
          صوم کے معنی رکنا ہے۔
اور اس کے واجب ہونے کے شرائط:
۱۔ اسلام،
۲۔ بلوغ،
۳۔عقل اور
۴۔طاقت۔
اور روزہ کی صحت:
۱۔اسلام،
۲۔عقل،
۳۔حیض اور نفاس سے ہر دن پاک ہونا، اور
۴۔جماع سے رکے رہنا، اور
۵۔منی کا نکلنا چھونے  کی وجہ سے اور اسی طرح استمناء کی وجہ سے۔
۶۔قصداً قئی سے کرنا اور
۷۔ پیٹ میں کسی چیز کا عمداً  اپنے اختیار سے  جانے سے رکنا

روزہ کی نیت:- اور   روزہ میں نیت واجب ہے اور فرض روزوں میں نیت رات میں کریں گے اور نفل روزوں میں زوال سے پہلے تک۔
اور افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا  اور فحش کلام چھوڑنا مستحب ہے ۔
حرام روزہ:- چھ دن روزہ رکھنا حرام ہے، عیدین، ایام تشریق اور بغیر سبب کے یوم شک (۳۰ شعبان جس میں معلوم نہ ہو کہ وہ ۳۰ شعبان ہے یا ا رمضان)
فصل روزہ کے کفارے کے بیان میں
جو رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ جماع کر کے فاسد کرے وہ گناہ گار ہوگا اس کی وجہ سے اور اس کا کفارہ ایک غلام کا آزاد کرنا ہے ،پس اگر اس سے عاجز ہو تو وہ  دو مہینے لگاتار روزہ رکھے پس اگر اس سے بھی عاجز ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
فصل روزہ کے فدیہ کے بیان میں
اور جس کا انتقال ہوگیا اور اس کے ذمہ روزےتھے کافی ہے اس کی طرف سے  ہر روز کے بدلہ ایک مد کھانا کھلانا اور مختار یہ ہے کہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے اگر چاہے تو، اور شیخ  وہ( بوڑھے )جو روزہ رکھنے سے عاجز ہیں وہ افطار کریں گے اور فدیہ دیں گے ہر روزہ کے بدلہ ایک مُد۔ اور حاملہ عورت اور مُرضعہ یعنی دودھ پلانے والی عورت اگر دونوں کو ڈر ہو اپنے جانوں کا تو وہ روزوں کو قضا کرے گی بغیر فدیہ کہ، اور اگر وہ دونوں(حاملہ اور مرضعہ) بچے کے معاملہ میں ڈرے تو وہ فدیہ بھی دیں گے۔ اور مریض اور وہ مسافر جو قصر کی حالت میں ہو (یعنی جس میں نماز کے قصر کرنے کا حکم ہو) دونوں افطار کریں گے(یعنی روزہ نہیں رکھیں گے) اور دونوں (بعد میں روزہ کی) قضا کریں گے۔
فصل مسنون روزوں کے بیان میں
مسنون روزے یہ ہیں
٭پیر اور جمعرات کا روزہ
٭عرفہ کا روزہ غیر حاجی کے  لئے
٭یوم ترویہ(آٹھ ذی الحجہ) کا روزہ
٭عاشورہ اور تاسوعاء(یعنی ۹ اور ۱۰ محرم) کا روزہ
٭ایام بیض کا روزہ(یعنی ہر مہینہ کی ۱۳،۱۴،۱۵  کا )روزہ
٭اور ایام السود کے روزہ اور وہ مہینہ کے آخر کے روزہ ہیں
٭شوال کے چھ روزہ 
٭ صرف جمعہ اور صرف ہفتہ اور صرف اتوار کا روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔
فصل اعتکاف کے بیان میں
اعتکاف سنت ہے ، اعتکاف صحیح نہیں ہوتا مگر نیت کے ذریعے مسجد میں۔ اور اعتکاف باطل ہوتا ہے جماع سے اور مباشرت کی وجہ سے انزال ہونے سے۔
اعتکاف کی شرطیں
٭اسلام
٭عقل
٭حیض اور جنابت سے پاک ہونا
٭ بغیر عذر کے (مسجد سے نکلنے) سے اعتکاف کا تتابع(لگاتار،پے در پے ہونا) ختم ہوجاتا ہے۔

 (تذکرہ فی الفقہ الشافعی لابن ملقنؒ)