اضحیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اضحیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 7 ستمبر، 2016

قربانی کے احکام ومسائل (فقہ القرآن و الحدیث )



قربانی کے احکام ومسائل (فقہ القرآن و  الحدیث )

از:مفتی فیاض احمد محمود برمارے حسینی

قربانی کا حکم:حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ ثلاث ھن علی فرائض ولکم تطوع ، النحر والوترورکعتی الفجر‘‘کہ تین چیزیں ایسی ہیں جومجھ پر فرض کی گئی ہیں اور تم پر فرض نہیں ہیں ، ایک قربانی، اور وتر کی نمازاور فجر کی دورکعت سنت( سنن بیہقی: ۹/۱۷۶)محمد بن سرینؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمرؓ سے قربانی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ واجب ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے قربانی کی اور اس کے بعد مسلمانوں نے قربانی کی اور یہ سنت چلی آرہی ہے ( ابن ماجہ : ۳۱۲۴)جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے قربانی کے بارے میں ابن عمرؓ سے سوال کیا کہ کیا یہ واجب ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے قربانی کی اور س کے بعد مسلمانوں نے قربانی کی تو اس آدمی نے دوبارہ سوال کیا تو حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کیا تم سمجھتے نہیں ہو !آپ ﷺ نے قربانی کی اور س کے بعد مسلمانوں نے قربانی کی( سنن ترمذی :۱۵۰۶)امام ترمذی ؒاس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، بل کہ آپ ﷺ کے سنتوں میں سے ایک سنت ہے (سنن ترمذی)ان احادیث کی بنیاد پر فقہاء نے قربانی کے سنت ہونے پر استدلا ل کیا ہے چنانچہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں ’’ الضحایا سنۃ لااحب ترکھا ‘‘ کہ قربانی سنت ہے البتہ اس کے چھوڑنے کو میں پسند نہیں کرتا ( کتاب الام:۳/۵۷۷)
قربانی کے جانور:اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’ ولکل امۃ جعلنامنسکا لیذکرواسم اللہ علی ما رزقھم من بھیمۃ الانعام ‘‘ا ور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائیں جانوروں پر اللہ کانام لیں جو اللہ نے انھیں دے رکھیں ہیں (الحج : ۳۴)علامہ ابن کثیر ؒ نے مذکورہ آیت میں لفظ ’’ بھیمۃ الانعام ‘‘ سے اونٹ ، گائے بیل ، اور بکری بکرااور مینڈھامینڈھی ان جانوروں کو مراد لیا ہے( تفسیر ابن کثیر: ۳/۴۲۹) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سات لوگوں کی طرف سے اونٹ پر قربانی کی اور گائے پر بھی سات لوگوں کی طرف سے قربانی کی ( ابن ماجہ : ۳۱۳۲)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے دو سفید سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی(مسلم : ۵۰۸۸)حضرت عطاء بن یسارؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے سوال کیا کہ تم آپ ﷺ کے زمانہ میں کس طرح قربانی کیا کرتے تھے تو انھوں نے فرمایا کہ ایک آدمی بکری ذبح کرکے اپنی طرف سے قربانی کرتا تھا(ترمذی :۱۵۰۵)مذکورہ آیت اور احادیث سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء نے گائے بیل، بھینس بھینسا، بکرا بکری، مینڈھا مینڈھی اور اونٹ پر قربانی کومشروع لکھا ہے چنانچہ علامہ رملیؒ فرماتے ہیں ’’ ولا تصح أی التضحیۃ الا من ابل وبقر أو جوامیس وغنم ضأن أو معز‘‘ قربانی اونٹ ، گائے بیل ، بھینس ، مینڈھا اور بکری کے علاوہ جانوروں پر صحیح نہیں ہوتی(نھایۃ المحتاج : ۸/۱۱۲)
قربانی کے جانوروں کی عمر:حضرت جابرؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ لا تذبحوا الا المسنۃ الا أن تعسر علیکم فتذبحوا جذعۃ من الضأن ‘‘ کہ تم صرف مسنہ ہی کی قربانی کرومگر کہ تم کو کوئی دشواری لاحق ہوتو تم مینڈھے کا ایک سالہ بچہ ذبح کرو(مسلم:۱۹۶۳)اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ مسنہ جانور کا مطلب یہ ہے کہ گائے بیل ، بکرا بکری اور بھینس دوسال ،مینڈھا ایک سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے،چنانچہ علامہ عمرانی ؒ فرماتے ہیں ’’فلا یجزیء الا الثنی من الابل والبقر والمعز والجزع من الضأن ، الثنی من الابل مااستکمل خمس سنین ، والثنی من البقر والمعز مااستکمل سنتین والجزع من الضأن مااستکمل سنۃ ‘‘ کہ قربانی میں اونٹ ، گائے بیل ،بکرا بکری ، مینڈھا مینڈھی کا ’’ ثنی ہونا ضروری ہے، یعنی اونٹ پانچ سال ، گائے بیل ، بکرا بکری اور بھینس دوسال ،مینڈھا ایک سال کا ہونا لازم ہے( البیان : ۴/۴۱۳)
قربانی میں ناکافی جانور:نبی کریم ﷺ نے فرمایا"لا یضحی بالعرجاء بین طلعھاولا بالعوراء بین عورھاولا بالمریضۃ بین مرضھا ولا بالعجفاء التی لا تنقی" کہ بہت زیادہ لنگڑے ، بہت زیادہ کانے(جس کی ایک آنکھ کام نہ کرے یا دونوں آنکھیں بیکار ہو)، بہت زیادہ بیمار، اور انتہائی کمزور جانورکی قربانی نہیں کی جائے گی(سنن ترمذی:۱۴۹۷)اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام نووی ؒ نے فرمایا ’’ ولا تجزی ء ما فیہ عیب ینقص الحم کالعوراء والعمیاء والعرجاء التی تعجز عن المشاء فی المرعیٰ‘‘ کہ قربانی میں ہر وہ جانور ناکافی ہے جس میں کوئی ایسا عیب ہو جس سے اس کے گوشت کے اندر کمی واقع ہوجائے جیسے کانا، نابینا، ایسالنگڑاجو چراگاہ میں جانے سے عاجز ہو(المجموع: ۸/۲۹۲)ان کے علاوہ خارش زدہ ، مجنونہ ، مکمل دانت ٹوٹاہوا ، اور لاغر اور کمزور جانور قربانی میں نہیں چلے گے نیزکان کٹاجانور بھی قربانی میں نہیں چلے گا اس لئے کہ حدیث میں ’’ مصفرہ ‘‘ جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے (سنن ابوداؤد:۲۸۰۳)اور مصفرہ کہتے ہیں اس جانور کو جس کا کان اس طرح کٹ گیا ہو کہ سوراخ نظر آئے چنانچہ امام یحی بن ابی الخیر عمرانیؒ فرماتے ہیں ’’ فلا تجزیء للخبر ولأن الأذن عضو مستظاب ‘‘ کہ مذکورہ جانور کافی نہیں ہوگا حدیث کی بناء پر اور اس لئے بھی کہ کان پسندیدہ عضو ہے ( البیان : ۴/۴۱۸) 
قربانی میں ناپسندیدہ جانور:حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ہم کو حکم دیا ’’أن نستشرف العین والاذن ولا نضحی ...ولا مقابلۃ ولا مدابرۃ ولا خرقاء ولا شرقاء ‘‘کہ ہم جانوروں کے کان اور آنکھ کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ہم ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کاکان آ گے یا پیچھے سے چرا ہوا ہو اور لٹکا ہو ا ہو اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کے کان میں داغنے کی وجہ سے سوراخ ہو،(سنن ابی داؤد :۲۸۰۴) اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام یحی بن ابی الخیر عمرانیؒ فرماتے  ہیں "وأماالعیوب التی لا تمنع الاجزاء وتکرہ "وہ عیوب جوقربانی کے لئے تو مانع نہیں ہیں البتہ ان عیوب والے جانوروں کی قربانی مکروہ ہے، وہ عیوب مندرجہ ذیل ہیں 
(۱)المستأصلۃ ۔ جس کا سینگ جڑ سے نکل گیا ہو (لیکن اس کی وجہ سے گوشت میں کوئی نقص پیدا نہ ہوا ہو)
(۲) العصماء ۔ ایسا جانور جس کے سینگ کا غلاف (کور) نکل چکا ہو اورباطن باقی ہو۔
(۳)المدابرۃ والمقابلۃ۔ ایسا جانور جس کا کان چرا ہو اہو لیکن کان کا کوئی حصہ الگ نہ ہوا ہو۔
(۴) الخرقاؤالشرقاء ۔ ایسا جانور جس کے کان میں کسی قسم کا سوراخ کیا ہوا۔اس لئے کہ یہ عیوب ایسے ہیں جن سے گوشت میں کسی قسم کا نقص پیدا نہیں ہوتا ہے( البیان : ۴/۱۹۔۴۲۰)اسی طرح اگر کسی جانور کے بعض دانت گرگئے ہو جس سے اس کو چرنے میں کوئی مشقت نہ ہو تو یہ جانور بھی قربانی کے لئے کافی ہے( نھایۃ المحتاج :۸/۱۳۸) 
قربانی کے گوشت کی تقسیم:اللہ تعالی کا ارشاد ہے’’ والبدن جعلنٰھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر فاذکروااسم اللہ علیھا صواف فاذا وجبت جنوبھا فکلوا منھا وأطعمواالقانع والمعتر‘‘قربانی کے اونٹ کو ہم نے اللہ تعالی کی نشانیاں مقرر کی ہیں ان میں تمہارے لئے نفع ہے پس انھیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو پھر جب ان کے پہلو زمین  سے لگ جائیں ( یعنی سارا خون نکل جائے اور وہ بے روح ہوکر زمیں پرگرجائے تو اسے کانٹنا شروع کردو) اسے خود بھی کھاؤاور سوال کرنے والے اور بغیر سوال کے سامنے آنے والے کو کھلاؤ(الحج: ۳۶)اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ، کھلاؤ،ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو(مسلم ؛باب ما کان من النھی عن اکل لحوم الاضاحی، ۵۱۰۳۔۵۱۰۸) اس آیت اور حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں، ایک اپنے لئے ، دوسرا ملاقاتیوں اور رشتہ داروں کے لئے اور تیسرا سائلین اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کے لئے ،چنانچہ امام بغوی ؒ فرماتے ہیں "ولہ أن یأکل من أضحیۃالتطوع وکم یأکل ؟ فیہ قولان ... والثانی وھو الأصح : الثلث لقولہ تعالی فکلوا منھا وأطعموالقانع والمعتر"  کہ سنت قربانی کرنے والے کے لئے جائز ہے کہ وہ قربانی میں سے کھائے، لیکن کتنا کھائے؟ تو اصح قول کے مطابق وہ ایک تہائی حصہ کھائے مذکورہ آیت کی بناء پر(التھذیب:۸/۴۴)اور ایک تہائی صدقہ کر ے اور ایک تہائی ہدیہ کرے ، امام شیرازی فرماتے ہیں "یأکل الثلث ویھدی الثلث ویتصدق بالثلث‘‘ کہ قربانی کے گوشت کے تین حصہ کرکے ایک حصہ کھائے ایک حصہ ہدیہ کرے اور ایک حصہ صدقہ کرے(المھذب مع لمجموع :۸/۳۰۶) گوشت کی تقسیم کا مذکورہ طریقہ معروف ومشہور ہے ، البتہ افضل یہ ہے کہ کچھ گوشت اپنے لئے رکھ کر مکمل گوشت صدقہ کرے ( مغنی المحتاج : ۶/۱۷۶)اور کچھ گوشت صدقہ کئے بغیر مکمل گوشت کو خود کھانا درست نہیں ہے بل کہ کچھ نہ کچھ گوشت صدقہ کرنا واجب اور ضروری ہے۔
قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی:حضرت ابو سعید خذریؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے مدینہ والوں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد مت کھاؤتو ہم لوگوں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ ہمارے اہل وعیال اور حشم وخدم ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا قربانی کا گوشت کھاؤ ، کھلاؤ اور بچا کر رکھو(مسلم : ۵۱۰۳) اس حدیث سے استدلا ل کرتے ہوئے امام نووی ؒ فرماتے ہیں ’یجوز أن یدخر من لحم الأضحیۃ وکان ادخارھا فوق ثلاثۃ أیام منھیا نہ ثم أذن رسول اللہ ﷺ ‘‘ کہ قربانی کے گوشت کو بچاکر رکھنا اور ایام تشریق کے بعد تک کھاتے رہنا جائز ہے ، شروع میں آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا بعد میں آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی(المجموع : ۸/۳۱۰)اس اعتبار سے ایام تشریق کے بعد نہ کھانے کی ممانعت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
بطوراجرت جانور کی کھال وگوشت اور اس کی بیع:حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے اونٹوں کی قربانی پر مامور فرماکر فرمایا کہ گوشت اور کھال خیرات کردینا اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دینا ہم اپنے پاس سے اس کی اجرت دیں گے(مسلم : ۱۳۱۷) اس حدیث کی تشریح میں امام نووی ؒ فرماتے ہیں قربانی کے جانور میں سے قصاب کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا اس لئے کہ اس کواس کے کام کے عوض میں کسی چیز کا دینا جانور کے کسی حصہ کی بیع کی طرح ہے ( شرح مسلم : ۹/۴۳۵) اللہ تعالی کا ارشاد ہے" فکلوا منھا وأطعمواالقانع والمعتر" اسے خود بھی کھاؤاور سوال کرنے والے اور بغیر سوال کے سامنے آنے والے کو کھلاؤ(الحج: ۳۶)اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ، کھلاؤ،ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو(مسلم ؛باب ما کان من النھی عن اکل لحوم الاضاحی، ۵۱۰۳۔۵۱۰۸) آیت اور حدیث میں قربانی کے مصرف میں بیع داخل نہیں ہے ،ان دلائل سے استدلال کرتے ہوئے علامہ خطیب شربینی ؒ فرماتے ہیں ’’ أنہ یمتنع علیہ اجارتہ لانھا بیع المنافع وبیعہ‘‘ کہ قربانی کرنے والے کے لئے جانور کے کسی حصہ کو اجرت کے طور پر دینا منع ہے کیوں کہ یہ منافع کی بیع ہے اسی طرح اس کے کسی حصہ کی بیع بھی منع ہے ( مغنی المحتاج : ۴/۳۳۷)
قربانی کے ایام:اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’ واذکرواللہ فی أیام معدودات ‘‘ اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر مکی ؒنے حضرت ابن عباس ؓکے قول کو اس طرح نقل کیا ہے ’’ الایام معدودات ایام التشریق أربعۃ أیام یوم النحر وثلاثۃ ایام ‘‘ کہ ایام معدودات سے عید کا دن اور ایام تشریق کے تین دن مراد ہیں (تفسیر ابن کثیر:۱/۲۲۰)اور یہی قربانی کے ایام ہیں ،جیسے کہ علامہ عمرانی ؒ نے وضاحت کی ہے ’’ مذھب ....جمھور الصحابۃ والتابعین والفقہاء أنھا اربعۃ ایام من یوم النحر الی آخر ایام التشریق الثلاثۃ حتی تغیب شمسہ ‘‘ کہ جمہور صحابہ ، تابعین اور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ قربانی کے ایام چاردن ہیں یعنی عید کا دن اور ایام تشریق کے تین دن یہاں تک کہ ۱۳ ذیالحجہ کا سروج غروب ہوجائے( البیان :۴/۳۲۹)

منگل، 6 ستمبر، 2016

اگردوسال کابکرانہ ملے


اگردوسال کابکرانہ ملے

بقلم  مفتی فیاض احمدمحمودبرمارے حسینی(جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور)

قربانی کے لئے جن جانوروں کوشریعت نے مشروع کیاہے ان میں سے ایک بکرااوربکری بھی ہے،اوربکراوبکری کی عمرکے سلسلہ میں ناصرالحدیث امام شافعیؒ  کانقطہ نظراحادیث کی روشنی میں یہ ہے کہ بکرے کی عمردوسال یااس سے زیادہ ہوناچاہیے،اس لئے کہ حضرت جابرؓ نے فرمایا "لاتذبحواالاالمسنۃ الاان تعسرعلیکم فتذبحواجذعۃ من الضان" کہ تم صرف مسنہ ہی کی قربانی کرواگرتم کوکوکوئی دشواری لاحق ہوتوتم مینڈھے کاایک سالہ بچہ ذبح کرو(مسلم :1963) حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابو بردہؓ نے عید کی نماز سے قبل قربانی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم نے گوشت کیلئے  بکری ذبح کی(قربانی نہیں ہوئی)۔حضرت ابو بردہؓ نے فرمایا میرے پاس ایک سالہ بکری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسکی قربانی کرو،یہ تیری طرف سے کافی ہے تیرے بعد کسی کیلئے کافی نہ ہوگا  (ابوداود 2801) امام عمرانیؒ ان دلائل  کی روشنی میں فرماتے ہیں  کہ "فلایجزی ء الاالثنی من الابل والبقروالمعزوالجزع من الضان ..الثنی من الابل مااستکمل خمس سنین ،والثنی من البقروالمعزمااستکمل سنتین والجزع من الضان مااستکمل سنۃ" کہ قربانی کے لیے اونٹ گاے بیل، بکرابکری، مینڈھا مینڈی ثنی ہوناضروری ہے.یعنی اونٹ پانچ سال کا،گاے بیل بکرابکری دوسال کااورمینڈھاایک سال کاہوناضروری ہے،اسلئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابو بردہؓ  کو ایک سالہ  بکری ذبح کرنے کی رخصت  دی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ تمھارے بعد کسی کیلئے جائز نہ ہوگی.لہذا کسی نے ایک سالہ بکری پر قربانی کی تو اصح  قول کے مطابق قربانی درست نہیں ہوگی-(البیان :4/415)
لیکن موجودہ زمانہ میں دوسالہ بکرے کابکثرت دستیاب نہ ہونے کی بناء پرلوگ پریشان نظرآتے ہیں،اوربسااوقات بکروں کے تجارحضرات بھی عمرکے بتلانے میں جھوٹ اورفریب سے کام لیتے ہیں،ایسی صورت حال میں ہمیں قرآن وحدیث اورقرآن وحدیث سے ماخوذفقہ اسلامی سے روشنی حاصل کرنے کی ضرورت ہے.سب سے پہلے توہمیں اس بات پرغورکرناہے کہ کیاجس بکرے کی عمرکولے کرہم پریشان ہیں،وہ صرف اس وجہ سے کہ اس پرقربانی کرناافضل ہے۔ یااس  کے مقابلہ میں  کوئی اورجانورافضل ہے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ "میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کیا ہی بہتر ہے ایک سالہ مینڈھے کے ذریعہ قربانی  .پس لوگ  مینڈھوں پر ٹوٹ پڑے.(ترمذی: 1499) اس حدیث کےذریعہ فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ بکرے کے مقابلے میں مینڈھا افضل ہے.نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو مینڈھوں کے ذریعہ قربانی کی(بخاری:5554)
مذکورہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مینڈے کوآپﷺ نے افضل قراردیاہے،چنانچہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں "والضئان احب الی من المعز" (الام 3/583) کہ مینڈھابکرے کے مقابلہ میں افضل ہے، امام ماوردیؒ فرماتے ہیں "افضل الضحایا من الابل ثم الجزع من الضئان ثم الثنی من المعز." (الحاوی الکبیر 15/77) کہ افضل تواونٹ ہے اوربکرے بکری کے مقابلہ میں مینڈھاافضل ہے،جب مینڈھاافضل ہے، اورشریعت کی مقررکردہ عمرکے مطابق مینڈے دستیاب بھی ہیں توپھرافضلیت کوچھوڑکرصرف عمدہ گوشت کومقصدبناکرغیرافضلیت کواختیارکرنے اوراس کی عمرکے تعلق سے بھی شک وشبہ میں مبتلارہ کرقربانی کی چنداں ضرورت نہیں،البتہ اگرمارکیٹ میں مینڈے دستیاب نہیں ہیں،اوران کاحصول بھی ممکن نہ ہواورکسی اورجانورپرقربانی ممکن نہ ہوتوبدرجہ مجبوری دوسال سے کم عمربکرے وبکری پرقربانی کی گنجائش ہے.۔



ہفتہ، 3 ستمبر، 2016

کیا قربانی میں ایک جانور پورے گھرانے و خاندان والوں کی طرف سے کافی ہے؟

کیا قربانی میں ایک جانور پورے گھرانے و خاندان والوں کی طرف سے کافی ہے؟ 





از مفتی محمد حسین قمر الدین ماہمکر فلاحی دامت برکاتھم

جمعرات، 24 ستمبر، 2015

مسائل قربانی

(1)     قربانی کسے کہتے ہیں:  

قربانی کے دنوں میں مخصوص شرائط کے ساتھ اللہ تعالی کی رضامندی کے لیے جانور ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔

(2)     قربانی کی فضیلت: 

(1)حضرت عائشہ﷞ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عید الاضحی کے دن اللہﷻ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں ہے۔ اور جو جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔ اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہﷻ کے یہاں اس کا ایک درجہ ہوتا ہے، تو خوش دلی سے قربانی کرو۔“ (سنن الترمذی: 1493)
(2) حضرت ابن عباس﷠ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عید کے دن جانور قربان کرنے کے لیے جو رقم خرچ ہوتی ہے اس سے افضل کوئی رقم نہیں۔“ (شعب الإيمان: 6953)
(3)حضرت زید بن ارقم﷜ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام﷢ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! یہ قربانی کی کیا حقیقت ہے؟“، آپﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے باپ ابراہیم﷤ کی سنت ہے۔“، پھر صحابۂ کرام﷢ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! ہمیں اس پر کیا ملے گا؟“، تو ارشاد فرمایا: ”جانور کے ہر بال پر ایک نیکی۔“ (سنن ابن ماجہ: 3127)
(4)حضرت عمران بن حصین﷜ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت فاطمہ﷞ سے فرمایا: ”اس قربانی کے پہلے خون کے گرتے ہیں تیرے پچھلے کیے ہوئے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔“ (شعب الإيمان: 6957)
(5)حضرت علی﷜ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! قربانی کرو، اور اس پر اجر کی امید رکھو؛ اس لیے کہ قربانی کا خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اللہﷻ کی حفاظت میں چلا جاتا ہے۔“ (المعجم الأوسط: 8319)

(3)     قربانی کا حکم: 

امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک ہر صاحب حیثیت پر قربانی کرنا واجب ہے۔ (الكوثر: 2، سنن ابن ماجہ: 3123) اور امام شافعی﷬ کے نزدیک ہر صاحب حیثیت پر قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ (صحيح مسلم: 1977)

(4)     قربانی کرنے والے کے شرائط: 

امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک قربانی کرنے والے کا مسلمان ہونا، مقیم ہونا اور صاحبِ حیثیت ہونا۔ (اپنی ضروریات و قرض کے علاوہ 595؍ گرام چاندی کی قیمت یا اس کے برابر ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہونا ضروری ہے۔ (بدائع: 5/64) اور امام شافعی﷬ قربانی کرنے والے کا مسلمان ہونا اور صاحبِ حیثیت ہونا ضروری ہے۔ (عید کے رات و دن اور ایام تشریق کے خرچ کے علاوہ اتنا مال ہو کہ قربانی کا چھوٹا جانور یا بڑے جانور کا ایک حصہ خرید سکے۔ (حاشية الجمل: 5/251)

(5)     قربانی کا جانور:

  انہی جانوروں پر قربانی جائز ہے جن کے بارے میں نص وارد ہوئی ہے۔ اور وہ یہ ہیں: اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور دنبہ، خواہ یہ نر ہوں یا مادہ۔ (الحج: 28، الأنعام: 143)

(6)     قربانی کے جانور کی عمر: 

بڑے جانور (گائے، بیل، بھینس وغیرہ) کی عمر دو سال ہو۔ اور امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک چھوٹے جانور (بکرا، بکری، دنبہ وغیرہ) کی عمر ایک سال ہو، البتہ دنبہ چھ ماہ کا بھی ہو، لیکن دکھنے میں ایک سال کا معلوم ہوتا ہو جائز ہے۔ (صحيح مسلم: 1963)، البتہ امام شافعی﷬ کے نزدیک گائے اور بکری وغیرہ کی عمر دو سال ہو، البتہ دنبہ ایک سال کا بھی چل جائے گا یا کم از کم اس کے دانت گرچکے ہوں۔ (المجموع: 8/394)

(7)     ایک جانور میں شرکت: 

ایک بڑے جانور میں سات لوگ شریک ہوں گے۔ (صحيح مسلم: 1318) اور ایک چھوٹے جانور میں امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک ایک چھوٹے جانور میں صرف ایک شخص کی طرف سے قربانی جائز ہے۔ (اللباب: 3/232) اور امام شافعی﷬ کے نزدیک بھی ایک چھوٹا جانور صرف ایک شحض کی طرف سے جائز ہے، البتہ دونوں اماموں کے نزدیک اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو ثواب میں شریک کرنا جائز ہے۔ (سنن الترمذی: 1505، المجموع: 8/384)

(8)     جانور کا عیب سے خالی ہونا:  

جانور کا ہر ایسے عیب سے خالی ہونا ضروری ہے جس کا اثر گوشت تک یا چربی تک پہونچتا ہو،جیسے اندھا ہونا، بہرا ہونا، لنگڑا ہونا، بیمار ہونا، بہت زیادہ کمزور ہونا۔ (سنن النسائی: 4370)

(9)     بڑے جانور میں تمام شرکاء کی عبادت کی نیت ہو: 

امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک بڑے جانور میں تمام شرکاءکی نیت کسی نہ کسی عبادت کی ہو، خواہ قربانی ہو، یا عقیقہ ہو، یا نذر وغیرہ۔ ان میں سے کسی کی نیت صرف گوشت کھانے یا بیچنے کی نہ ہو۔ (رد المحتار: 6/326) اور امام شافعی﷬ کے نزدیک بڑے جانور میں کھانے یا بیچنے کی نیت سے بھی شرکت کی گنجائش ہے، اور سب کی نیت درست ہوجائےگی۔ (المجموع: 8/397)

(10) قربانی کا وقت: 

امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک دسویں ذوالحجہ کے طلوع شمس کے بعد سے وقت شروع ہوجاتا ہے، البتہ شہر والوں کے لیے جہاں عید کی نماز ہوتی ہے، نمازعید کے مکمل ہونے کا یا کم از کم نماز کے برابر وقت کے گزرنے انتظار ضروری ہے۔ اور گاوں والوں کے لیے جہاں نماز عید نہیں ہوتی ہے طلوع شمس کے بعد ہی قربانی جائز ہے۔ (صحيح البخاری: 5546)اور امام شافعی﷬ کے نزدیک طلوع شمس کے اتنی دیر کے بعد قربانی کی جاسکتی ہے جس میں عید کی نماز اور دو خطبے مختصرا دیے جاسکتے ہیں۔ (الحاوي الكبير: 15/85) بہرحال نماز سے پہلے کسی کے یہاں قربانی جائز نہیں ہے۔ (صحیح البخاری: 983)

(11) قربانی کا آخری وقت: 

امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک قربانی کے کل ایام تین دن ہیں: (10؍ 11؍ اور 12؍ ذوالحجہ) (السنن الكبرى للبیہقی: 19254) اور امام شافعی﷬ کے نزدیک قربانی کے کل ایام چار دن ہیں: (10؍ 11؍ 12؍ اور 13؍ ذوالحجہ) (مسند أحمد: 16751)

(12) قربانی سے پہلے کے مستحبات: 

 (1)قربانی سے کئی دن پہلے سے جانور کو پالنا۔ (2)جانور کے گلے میں پٹہ ڈالنا یا گودڑی اوڑھانا۔ (الحج: 32، صحيح مسلم: 1321) (3) جانور کو قربانی کی جگہ پر نرمی سے لے کر جانا، اس کے ساتھ زیادتی نہ کرنا۔ (صحيح مسلم: 1955) (4) قربانی کرنے والے کا یکم ذوالحجہ سے قربانی ہونے تک اپنے بدن کے بال یا ناخن کا نہ کاٹنا۔ (صحيح مسلم: 1977)

(13) قربانی سے پہلے کے مکروہات: 

 (1) امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک جانور کا دودھ یا اون نکالنا۔ () البتہ امام شافعی﷬ کے نزدیک جانور کا دودھ یا اون نکالنے سے جانور کو یا ا س کےبچے کو کوئی نقصان نہ ہو تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ () (2) امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک قربانی کے جانور پر سوار ہونا یا اس پر بوجھ لادنا۔ ()البتہ امام شافعی﷬ کے نزدیک قربانی کے جانور پر سوار ہونا یا اس پر بوجھ لادنا جائز ہے۔ ()

(14) قربانی کے جانور کے مستحبات: 

 (1)جانور کا بھاری بھرکم و صحت مند ہونا، سینگ والا، و خصی ہو۔ (مسند أحمد: 25046) (2) جانور کا رنگ سفید ہو، یا سرخی مائل ہو اور اس کے پیر سیاہ ہوں۔ (مسند أحمد: 9404، صحيح مسلم: 1967)

(15) قربانی کرنے والے کے مستحبات: 

(1)قربانی کرنے والے کا اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا۔ اور اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو قربانی کے وقت حاضر رہے۔ (المستدرك للحاكم: 7524) (2) ذبح کرنے والا یہ دعا کرے: «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، بِاسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (سنن أبي داود: 2795) (3) پہلے دن قربانی کرنا۔ (آل عمران: 133)

(16) ذبح کا بیان: 

 ذبح کے دو طریقے ہیں: نحر اور ذبح۔ اونٹ میں نحر کرنا مستحب ہے۔ [الكوثر: 2] امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک اونٹ کے علاوہ کسی میں بھی نحر نہیں ہوگا، امام شافعی﷬ کے نزدیک اونٹ کی طرح جتنی لمبی گردن والے جانور ہیں، ان میں بھی نحر مستحب ہے۔ (مغنی المحتاج: 6/104) اونٹ کے علاوہ تمام جانوروں میں ذبح مستحب ہے۔ [البقرة: 67]

(17) ذبح کی حقیقت:  

ذبح کی حقیقت یہ ہے کہ جانور کی چار رگیں کٹ جائیں۔ وہ چار رگیں یہ ہیں: حَلْقوم (کھانے کی رگ)، مرئی (ہوا کی رگ)، وَدَجَین (دو خون کی رگیں) امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک ان چار میں سے کسی بھی تین کا کٹنا ضروری ہے، ورنہ ذبح نہیں ہوگا۔ () اور امام شافعی﷬ کے نزدیک ان میں سے دو: حلقوم اور مرئ کا کٹنا ضروری ہے، ورنہ ذبح نہیں ہوگا۔ ()

(18) ذبح کے صحیح ہونے کے شرائط: 

 (1)ذبح کے وقت جانور زندہ ہو، چناں چہ ذبح کے بعد مرنے کے آثار بھی ظاہر ہوں، جیسے خون کا نکلنا، جانور کا تڑپنا۔ () (2)جانور کی روح محض ذبح کی وجہ سے ہو، ذبح کرنے والے کے زور سے یا کسی اور سبب سے جانور کی موت نہ ہو۔ (بدائع: 5/51، الوسيط: 7/143)

(19) ذبح کرنے والے کے شرائط: 

 (1) امام ابوحنیفہ﷬ کے نزدیک عقل مند ہو، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اور امام شافعی﷬ کے نزدیک سمجھدار بچے کا بھی ذبح کرنا درست ہے۔ (2) مسلمان یا کتابی ہونا۔ (3) حالت احرام میں نہ ہونا۔ () (4) بسم اللہ کہہ کر ذبح کرے۔ [الأنعام: 121] (5) گردن کےاگلے حصے سے ذبح کرے، ذبح مکمل ہونے سے پہلے ہاتھ نہ اٹھانا۔(6) آلہ دھار دار ہو، ناخن یا دانت نہ ہو، خواہ وہ لوہے کا ہو یا کسی اور دھات کا۔ (صحیح البخاری: 5509)

(20) ذبح کے مستحبات: 

 (1)چھری لوہے کی دھاردار ہو۔ (سنن ابن ماجہ: 3170) (2) ذبح کرنے میں جلدی کرنا۔ (3) ذبح کرنے والا و جانور دونوں کا قبلہ رخ ہونا۔ (مصنف عبد الرزاق: 8585) (4) جانور کو لٹانے سے پہلے چھری کو دھار کرنا۔ (المستدرك للحاكم: 7563) (5) جانور کو نرمی کے ساتھ اس کے بائیں سمت لٹانا۔ (صحيح مسلم: 1967) (6) ذبح سے پہلے جانور کو پانی پیش کرنا۔ (7) قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے تین مرتبہ تکبیر پڑھنا۔ (8) داہنے ہاتھ سے ذبح کرنا۔ (9) ذبح میں مبالغہ نہ کرنا کہ گردن ہی کٹ جائے۔ (السنن الكبرى للبیہقی: 19136)

(21) قربانی کے بعد کے مستحبات: 

 (1)جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کو تھوڑی دیر چھوڑے رکھنا؛ تاکہ وہ ٹھنڈا ہوسکے۔ (السنن الكبرى للبیہقی: 19124) (2) قربانی کا گوشت خود بھی کھانا، دوسروں کو بھی کھلانا اور ذخیرہ کرکے رکھنا۔ (الحج: 28، صحیح البخاری: 5569) بہتر یہ ہے کہ ایک تہائی اپنے لیے رکھے، ایک تہائی رشتہ داروں میں تقسیم کرے اور ایک تہائی فقراء کو دے۔ (الفقہ الإسلامی وأدلتہ: 4/2740)

(22) قربانی کے بعد کے مکروہات: 

(1)روح پوری طرح نکلنے سے پہلے ہی کھال نکالنا۔ (2) جانور کی کوئی بھی چیز بیچنا۔ (السنن الصغير للبیہقی: 1839) (3) قصائی کو قربانی کے جانور میں سے کوئی چیز بطور اجرت دینا۔ (صحیح البخاری: 1717)

(23) میت کی طرف سے قربانی: 

میت نے اگر وصیت کی ہے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ اور اگر وصیت نہ کیا ہو تو حنفیہ کے نزدیک درست ہے، اور شافعیہ کے نزدیک نہیں۔ وصیت والی قربانی میں سے کچھ کھانا جائز نہیں، بلکہ تمام صدقہ کرنا ضروری ہے۔