فقہاء شوافع لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فقہاء شوافع لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 4 اپریل، 2020

اللہ کے سوا کسی سے مانگنا جائز نہیں

چنانچہ شیخ الاسلام ابن خزیمہ شافعیؒ نے اس سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ آپ نے پہلے دو روایتیں نقل کیں :
          ۱۔نبئ کریم ﷺْ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی منزل پر اترے تو یہ جملے پڑھے: ’’اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے کلماتِ تامہ کی پناہ لیتا ہوں مخلوق کے شر سے ۔
          ۲۔ ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا تھا تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات ’’اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق‘‘ پڑھ لئے ہوتے تو بچھو تمہیں نقصان نہ پہنچاتا۔
          یہ دونوں حدیثیں ذکر کرنے کے بعد امام ابن خزیمہؒ فرماتے ہیں: ائے عقلمندو! کیا یہاں سے یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوتی کہ نبئ کریم ﷺ کے فرمان کے بموجب مخلوق کے شر سے بچنے کے لئے  مخلوق کی پناہ لینا جائز نہیں۔
          کیا تم نے کسی عالم کو یہ کہتے سنا ہے کہ میں مخلوق کے شر سے کعبہ کی پناہ لیتا ہوں یا میں صفا و مروہ کی پناہ لیتا ہوں ، یا میں عرفات و منی کی پناہ لیتا ہوں ۔
          جو بھی اللہ کے دین کا علم رکھتا ہو اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مخلوق کے شر سے بچنے کے لئے مخلوق کی پناہ لے۔
            ابن خزیمہ ؒ کا یہ قول کہ ’’کیا تم نے کسی عالم کو یہ کہتے سنا۔۔۔ ‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اہلِ حق کا اجماع ہے کہ اللہ کے سوا کسی سے مانگنا جائز نہیں۔ (تحفۂ توحید : 86-87)

اہلِ قبور کے وسیلہ سے دعا کرنا بھی شرک ہے

بقول علامہ مقریزیؒ اہلِ قبور کے وسیلہ سے دعا کرنا بھی شرک ہے

(۱۷) علامہ مقریزی شافعیؒ فرماتے ہیں: زیارتِ قبور کے سلسلہ میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں:
إنھا علی ثلاثۃ اقسام: قوم یزورون الموتیٰ فیدعون لھم ، وھٰذہ الزیارۃ الشرعیۃ ، و قوم یزورنھم ، یدعون بھم ، فھٰؤلاءھم المشرکون فی الألوھیۃ والمحبۃ ، وقوم یزورونھم فیدعونھم أنفسھم ، وھؤلاءھم المشرکون فی الربوبیۃ                                   (تجریدالتوحید المفیدص۴۴)
یعنی زیارتِ قبور کے سلسلہ میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں : ایک تو وہ لوگ جو قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور اہلِ قبور کے لئے دعا کرتے ہیں ، یہ زیارت کا صحیح اور شرعی طریقہ ہے۔
دوسرے وہ لوگ جو ان کی زیارت کرتے ہیں ، اور ان کے طفیل دعا کرتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں باری تعالیٰ کی صفتِ الوہیت میں شرک کرتے ہیں۔
تیسرے وہ لوگ جو قبروں کی زیارت کرتے ہیں ، اور خود اہلِ قبور سے ہی مانگتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو صفتِ ربوبیت میں شرک کرتے ہیں۔
جی ہاں  ! علامہ مقریزی بھی شافعی ہی ہیں ، اور توسل کے مسئلہ میں کس قدر محتاط ہیں دیکھئےکہ آپ تو اہلِ قبور کے طفیل مانگنے کو بھی شرک قرار دے رہے ہیں ۔  (تحفۂ توحید : 84)

ولی کو کرامت میں مستقل بالذات سمجھنا کفر ہے


ولی کو کرامت میں مستقل بالذات سمجھنا کفر ہے

(۱۶) اب صاحبِ نہایہ علامہ رملیؒ کی بھی ایک عبارت دیکھ لیجئے! جس میں آپ نے صاف طور پر واضح کردیا کہ کرامت میں ولی مستقل بالذات نہیں ہوتا  ،چنانچہ آپ فتاویٰ رملی جلد نمبر ۴ صفحہ ۳۳۷ پر فرماتے ہیں:
قال الأئمۃ: ماجاز أن یکون  معجزۃ لنبی جاز أن یکون کرامۃً لولی ، لا فارق بینھما إلا التحدی ، فمرجع الکرامۃ إلی قدرۃ اللہ تعالیٰ ، نعم إن أراد استقلال الولی بذلک فھو کفر
یعنی ائمہ کرام فرماتے ہیں: جس چیز کا نبی کے لئے بطورِ معجزہ کے ہونا ممکن ہے اسی چیز کا ولی کے لئے بطور کرامت کے صادر ہونا ممکن ہے ، معجزہ اور کرامت میں تحدّی یعنی چیلنج کے سوا کوئی فرق نہیں ، پس کرامت دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف لوٹتی ہے۔ ہاں ! اگر کوئی کرامت میں ولی کو مستقل بالذات سمجھے (یعنی یہ سمجھے کہ ولی اس کو اپنے اختیار اور اپنی قدرت سے کرتا ہے) تو وہ کافر ہے۔

جائز وسیلہ کا استعمال بھی بُری چیز ہے


بقول علامہ کردیؒ جائز وسیلہ کا استعمال بھی بُری چیز ہے

(۱۵) اور پھر صاحبِ بغیہ علامہ کردیؒ کے حوالہ سے مزید نقل کرتے  ہیں:
وإن کان مرادہ التوسل بھم إلی اللہ تعالیٰ فی قضاء مھماتہ مع اعتقادہ أن اللہ ھو النافع الضار المؤثرۃ فی الأمور فالظاھر عدم کفرہ وإن کان فعلہ قبیحًا                                                                                         بغیہ : ۳۶۸ ۔ ۳۶۹
’’ اور اگر اس کی مراد یہ ہو کہ وہ ان واسطوں کا اللہ تعالیٰ سے اپنے معاملات کے لئے دعا کرنے میں محض وسیلہ لیتا ہے ، اور اس کا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو نفع نقصان کا مالک اور کائنات کے امور میں متصرف سمجھتا ہے ، تو ظاہر ہے کہ یہ کفر نہیں ہے۔تاہم اس کا یہ فعل قبیح اور برا ہے۔‘‘ .....
اور مزید یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ توسل کی جو صورت جائز ہے بہرحال اس کا استعمال بھی بُرا ہے۔


بالخصوص اس لئے بھی کہ آج کل کے عوام ویسے بھی کمزور اور غلط عقیدوں میں مبتلا ہیں جیسے کہ خود صاحبِ بغیۃ المسترشدین نے وضاحت کی ہے۔ اور اس سلسلہ میں عوام کا عقیدہ اور نظریہ کیا ہوتا ہے ہم  اس سے  بخوبی واقف ہیں۔ (تحفۂ توحید: 82 مع تصرفات قلیلہ)

اللہ کے علاوہ کسی کو متصرف سمجھنا شرک ہے


صاحبِ بغیہ کی پیش کردہ  وہ عبارت دیکھئے جو اس سلسلہ میں قولِ فیصل کی حیثیت رکھتی ہے:
أما الوسائط بین العبد وبین ربہ ! فان کان یدعوھم کما یدعو اللہ تعالیٰ فی الأمور ویعتقد تأثیرھم فی شیئ من دون اللہ فھو کفر
ترجمہ: ’’بہرحال اللہ اور رب کے درمیان واسطے بنانا ، اگر وہ واسطے بنانے والا اپنے معاملات میں ان واسطوں سے دعا مانگتا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں اور اللہ کے علاوہ ان کو معاملات میں مؤثر اور متصرف سمجھتا ہے تو یہ کفر ہے۔‘‘
یہاں صاحبِ بغیہ نے اس شخص کے کفر کا صریح اعلان کر دیا ہے جو اللہ کے علاوہ کسی کو مؤثر اور کائنات میں متصرف سمجھ کر پکارے۔(تحفۂ توحید:  81)

عوام کی زبان سے نکلنے والے جملے بسااوقات توحید میں خلل کا سبب بن جاتے ہیں

عوام کی زبان سے نکلنے والے جملے بسااوقات توحید میں خلل کا سبب بن جاتے ہیں

(۱۳)فرماتے ہیں:
نعم ینبغی تنبیہ العوام علی الفاظٍ تصدر منھم تدل علی القدح فی توحیدھم فیجب ارشادھم وإعلامھم بأن لا نافع ولا ضار الا اللہ تعالیٰ ، لا یملک غیرہ لنفسہ ضرا ولا نفعا إلا بإرادۃ اللہ تعالیٰ ، قال تعالیٰ لنبیہ علیہ الصلاۃ والسلام: قل إنی لا أملک لکم ضرا ولا رشداً(الجن:۲۱)
ترجمہ: ’’تاہم عوام کو متنبہ کرنا ضروری ہے کہ ان کی زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو ان کی توحید (اور عقیدہ) میں خلل اور خرابی کا سبب بن جاتے ہیں ،لہٰذا ان کی رہبری کرنا اور ان کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ نفع نقصان کا مالک محض اللہ تعالیٰ ہے ، کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی مرضی اور ارادہ کے بغیر اپنی ذات کے بھی نفع و نقصان کا  مالک نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو حکم دیا کہ وہ یوں کہہ دیں کہ : ائے لوگو ! میں تمہارے نہ نقصان کا مالک ہوں نہ ہدایت کا۔‘‘                (بغیۃ المسترشدین)
 صاحبِ بغیہ کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کس طرح گمراہی میں مبتلا ہوتی ہے ۔ (تحفۂ توحید :80)

نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھو


علامہ ابن حجر مکی شافعی ؒمزیدفرماتے ہیں:
آپ اپنی مشہور کتاب الفضل المبین میں ’’وإذا استعنت فاستعن باللہ‘‘ یعنی ’’جب مانگنا ہو تو صرف اللہ سے مانگو۔‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’دینی اور دنیوی امور میں سے ہر معاملہ میں صرف اللہ ہی سے مدد طلب کرو ، اس لئے کہ یہ بات یقینی ہے کہ صرف اللہ ہی ہر چیز دینے پر قادر ہے ، اور اللہ کے سوا ہر کوئی عاجزِ محض ہے ، حتی کہ خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ، (دوسرے کی کیا مدد کریگا۔) مدد تو اس سے مانگی جاتی ہے جو مدد کرنے پر قادر بھی ہو۔ (اور وہ صرف اللہ ہی ہے۔)
پھر اسی حدیث میں آگے ایک جملہ ہے : ’’وان اجتمعوا علی أن یضروک بشیئ لم یضروک إلا بشیئ قد کتبہ اللہ‘‘
یعنی ’’پوری مخلوق اگر تمہیں تکلیف پہنچانے پر جمع ہو جائے تو سب ملکر بھی تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتے ، مگر اتنی ہی جتنی اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھی ہے۔‘‘
اس جملے کی تشریح میں ابن حجر مکی شافعیؒ مزید ارشاد فرماتے ہیں: ’’نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھو ، وہی نفع پہنچانے والا اور وہی نقصان پہنچانےوالا ہے ، اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘
پھر مزید ارشاد فرماتے ہیں: یہ دوسرا جملہ پہلے جملے کی تاکید ہے ، اور اس میں اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے ، اور تن تنہا اللہ ہی تمام معاملات میں تصرف کرنے والا ہے، نفع نقصان کا مالک وہی ہے، اور اللہ کے علاوہ ہر کسی سے رخ موڑ لے ، جس کو یہ یقین ہوگا کہ نفع نقصان کا مالک تن تنہا اللہ ہے وہ اپنی حاجتیں صرف اللہ کے سامنے پیش کرے گا، جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جب آگ میں ڈالنے کے لئے منجنیق میں رکھا گیا تو حضرت جبرئیل ؑ نے آکر فرمایا : کیا تمہاری کوئی حاجت ہے ؟ تو فرمایا: ’’أما إلیک فلا‘‘ کہ ’’تم سے میری کوئی حاجت نہیں( میری حاجت تو اللہ پوری کریگا۔‘‘) (تحفۂ توحید : 76)