فقہ شافعی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فقہ شافعی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 4 اپریل، 2020

نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھو


علامہ ابن حجر مکی شافعی ؒمزیدفرماتے ہیں:
آپ اپنی مشہور کتاب الفضل المبین میں ’’وإذا استعنت فاستعن باللہ‘‘ یعنی ’’جب مانگنا ہو تو صرف اللہ سے مانگو۔‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’دینی اور دنیوی امور میں سے ہر معاملہ میں صرف اللہ ہی سے مدد طلب کرو ، اس لئے کہ یہ بات یقینی ہے کہ صرف اللہ ہی ہر چیز دینے پر قادر ہے ، اور اللہ کے سوا ہر کوئی عاجزِ محض ہے ، حتی کہ خود اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ، (دوسرے کی کیا مدد کریگا۔) مدد تو اس سے مانگی جاتی ہے جو مدد کرنے پر قادر بھی ہو۔ (اور وہ صرف اللہ ہی ہے۔)
پھر اسی حدیث میں آگے ایک جملہ ہے : ’’وان اجتمعوا علی أن یضروک بشیئ لم یضروک إلا بشیئ قد کتبہ اللہ‘‘
یعنی ’’پوری مخلوق اگر تمہیں تکلیف پہنچانے پر جمع ہو جائے تو سب ملکر بھی تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتے ، مگر اتنی ہی جتنی اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھی ہے۔‘‘
اس جملے کی تشریح میں ابن حجر مکی شافعیؒ مزید ارشاد فرماتے ہیں: ’’نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھو ، وہی نفع پہنچانے والا اور وہی نقصان پہنچانےوالا ہے ، اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘
پھر مزید ارشاد فرماتے ہیں: یہ دوسرا جملہ پہلے جملے کی تاکید ہے ، اور اس میں اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے ، اور تن تنہا اللہ ہی تمام معاملات میں تصرف کرنے والا ہے، نفع نقصان کا مالک وہی ہے، اور اللہ کے علاوہ ہر کسی سے رخ موڑ لے ، جس کو یہ یقین ہوگا کہ نفع نقصان کا مالک تن تنہا اللہ ہے وہ اپنی حاجتیں صرف اللہ کے سامنے پیش کرے گا، جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو جب آگ میں ڈالنے کے لئے منجنیق میں رکھا گیا تو حضرت جبرئیل ؑ نے آکر فرمایا : کیا تمہاری کوئی حاجت ہے ؟ تو فرمایا: ’’أما إلیک فلا‘‘ کہ ’’تم سے میری کوئی حاجت نہیں( میری حاجت تو اللہ پوری کریگا۔‘‘) (تحفۂ توحید : 76)

وہ آیات اور احادیث جن میں مصیبت کے دور کرنے کیلئے اور مدد مانگنے کیلئے صرف اللہ کو پکارنے کا حکم ہے


 وہ آیات اور احادیث جن میں مصیبت کے دور کرنے کیلئے اور مدد مانگنے کیلئے صرف اللہ کو پکارنے کا حکم ہے

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ        (سورہ الفاتحہ)
ترجمہ: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مددمانگتے میں۔

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (پارہ ۸ رکوع نمبر ۱۴ )
ترجمہ : تم اپنے پروردگار کو عاجزی کے ساتھ چپکے چپکے پکارا کرو یقیناً وہ حدسے گزرنے والوں کو پسندنہیں کرتا۔

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (پارہ ۲۴ رکوع نمبر ۱۱)
ترجمہ :تمہارا رب کہتاہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری پکار سنوں گا ، جو لوگ میری بندگی سے اکڑتے ہیں اورتکبر کرتے ہیں، آئندہ جھکے ہوئے ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہونگے۔

وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (پارہ ۷ رکوع نمبر ۸ )
ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خوداس کے سوا اسے دورکرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہیں بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہی ہے ۔

وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (پارہ ۱۱ رکوع نمبر ۱۶ )
ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کوئی  تکلیف پہنچادےتو اس کےسواکوئی نہیں ہے جو اسے دور کردے اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچانے  کا ارادہ کرے تو کوئی نہیں جو اسکے فضل کا رخ پھیردے وہ اپنافضل اپنے بندوں میں سے جسں کو چاہتاہے ، پہنچادیتا ہے اور وہ بہت بخشنےوالا بڑا مہربان ہے ۔


اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا (پارہ ۹ رکوع نمبر ۵ )
ترجمہ:اللہ سے مدد مانگو اور صبرسے کام لو

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِضِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُونَ                        (پارہ۲۰ رکوع ۱۰ )
ترجمہ: (ائے پیغمبر ان سے) کہو، ذرایہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پررات کو ہمیشہ کیلئے قیامت تک مسلط رکھے تو اللہ کےسوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟بھلا کیا تم سنتے ہو؟

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ (پارہ ۲۹ رکوع ۲ )
ترجمہ:اور ان سے پو چھئے کہ اگر تمہارا پانی (کنؤں یا چشموں کا) نیچے اتر جائے، تو کون ہے جو تمہارے لئے چشمے جاری کرے گا؟

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ( پارہ ۲۰ رکوع نمبر۱)
ترجمہ: بھلاوہ کون ہے کہ جب کوئی بے قراراسے پکارتا ہے تو وہ اس دعاکو قبول کرتاہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہےکیا (پھر بھی تم کہتے ہوکہ ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے؟ نہیں بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔






عن ابن عباسؓ ،کنت خلف النبیؐ، یوما فقال: یاغلام انی اعلمک کلمٰت: احفظ اللہ یحفظک، احفظ اللہ تجدہ تجاھک، اذا سألت فاسأل اللہ  واذا استعنت فاستعن باللہ واعلم: ان الامۃ لو اجتمعت علی ان ینفعوک بشیء ، لم ینفعوک الا بشیء  قدکتبہ اللہ لک (رواہ الترمذی و قال : حدیث حسن صحیح)
ترجمہ: حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺکے پیچھے سوار تھا آپﷺ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا:ائے لڑکے!تو اللہ کے حقوق کی حفاظت کر، اللہ تیری حفاظت کر گا، توُ  اللہ کے حقوق کی حفاظت کرتواس کو اپنے سامنے پائے گا۔ اور جب کچھ  مانگنا ہو تو اللہ تعا لیٰ سے مانگ، اور جب مدد کی ضرورت ہوتو اللہ تعالیٰ سےمددطلب کر، اور یقین رکھ کہ ساری جماعت اگر تجھے کوئی نفع پہنچانے پر جمع ہو جائے تو تجھے کوئی نفع نہیں پہنچاسکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ دیاہے۔)ترمذی)
’’اللہ سے مانگ‘‘   یعنی صرف اللہ تعالیٰ سے مانگ اس لیے کہ عطیّات کے خزانے اسی کے پاس ہیں۔ اور عطاء و بخشش کی کنجیاں اسی کےہاتھ میں ہیں ۔ ہر نعمت یا نقمت، خواہ دُنیا کی ہو یا آخرت کی، جو بندے کو پہنچتی ہے یا اس سے دفع ہوتی ہے وہ صرف اسی کی رحمت سے ملتی ہے ، کیونکہ وہ جوادِ مطلق ہے۔ اور وہ ایساغنی ہے کہ کسی کامحتاج نہیں ۔ اس لیے امید صرف اسی کی رحمت سے ہونی چاہیے۔ بڑی بڑی مہمات میں التجااسی کی بارگاہ میں ہونی چاہیے اور تمام امور میں اعتماد اسی کی ذات پر ہونا چاہیے۔ اس کے سواکسی سے نہ مانگے کیونکہ اس کے سواکوئی دوسرانہ دینے پر قادرہے نہ روکنے پر، مصیبت ٹالنے پر، نہ نفع پہنچانے پر۔ کیونکہ اس کے ماسواخوداپنی ذات کے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، اور نہ وہ موت و حیات کی قدرت رکھتے ہیں۔
قبیلۂ بنو الہجیم سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی فرماتے ہیں:
’’قلت یا رسول اللہ إِلَامَ تَدْعُو؟ قَالَ: " أَدْعُو إِلَى اللہ وَحْدہ، الَّذِي إِنْ مَسَّكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتہ، كَشَفَ عَنْكَ، وَالَّذِي إِنْ ضَلَلْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ دَعَوْتہُ، رَدَّ عَلیْكَ، وَالَّذِي إِنْ أَصَابَتْكَ سَنۃٌ فَدَعَوْتہُ، أَنْبَتَ عَلیْكَ ‘‘
میں نے عرض کیا ائے اللہ کے رسول ﷺ  آپ کس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں؟ فرمایا: میں اس اللہ وحدہ لاشریک کی طرف لوگوں کو بلاتا ہوں کہ جب تم کو کوئی مصیبت پیش آئے تو تم اس کو پکارتے ہو ، اور وہ تمہاری مصیبت دور کرتا ہے ، جب تم کسی چٹیل میدان ،صحراء میں ہو  اور تمہاری سواری گم ہو جائے ، تو تم اس کو پکارتے ہو ، وہ تمہاری سواری لوٹاتا ہے ، اور اگر تم پر قحط سالی آتی ہو ، اور تم اس کو پکارتے ہو تو وہ تمہارے لئے (بارش برسا کر زمین سے) غلہ اگاتا ہے۔
             حضرت پیرانِ پیر شاہ عبدالقادرجیلانیؒ الفتح الربانی کی مجلس ۶۱ میں فرماتے میں:
ان الخلق عجز عدم، لا ھلک باید یھم ولا ملک، لا غنیٰ بایدیھم ولا فقر، ولاضر بایدیھم ولا نفع، ولا ملک عندھم الا للہ عزوجل لا قاد ر غیرہ ، ولا معطی ولا ما نع ولا ضار ولا نافع غیرہ، ولا ممیت غیرہ
ترجمہ: بےشک مخلوق عاجز اور عد م محض ہے، نہ ہلا کت ان کے ہاتھ میں ہے اور نہ ملک، نہ مالداری ان کے قبضہ میں ہے نہ فقر، نہ نقصان ان کے ہاتھ میں ہے اور نہ نفع،نہ اللہ تعالیٰ کے سواان کے پاس کوئی ملک ہے اور نہ اس کے سواکوئی قادر ہے، نہ اس کے سوا کوئی دینے والا ہے۔نہ روکنے والا، نہ کوئی نقصان پہنچاسکتا ہے، نہ نفع دے سکتا ہے، نہ اس کے سوا کوئی زندگی دینے والا ہے نہ موت۔
          یہی عقیدہ تمام اولیاء اللہ کا اور تمام اکابراہل سنّت کا ہے۔( تحفہ ٔ توحید: 40-43)

کفاربھی شدید مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتے تھے


کفاربھی شدید مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتے تھے


یہ بات بھی صحیح ہے، کہ اگرچہ مشرکینِ عرب بعض جزوی امور اور معاملات  (اور تکوینی امور)میں خدا تعالیٰ کے بندوں کو عطائی اور غیرمستقل طورپر متصّرف اور سفارشی مانتے تھے۔ لیکن بڑے بڑے کاموں اور انتہائی مصیبتوں میں صرف اورصرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ ماسوائے اللہ تعالیٰ کے سب ان کے دل اور دماغ سے ایسے وقت بالکل نِکل جاتے تھے۔
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (40) بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ ﴿۴۱﴾ (پ:۷، سورہ انعام)
تو کہہ، دیکھوتو اگر آوے تم پراللہ کا عذاب یا آوے تم پر قیامت،کیا اللہ تعالیٰ کے سواکسی اور کو پکاروگے۔ بتاؤ اگر تم سچےّ ہو، بلکہ اسی کو پکاروگے،پھروہ    دُور کردے گا اس کو پکاروگے۔ اگر اس کی مرضی ہوئی اور تم بھُول جاؤگے جن کو تم شریک کرتے ہو۔
اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں بھی بیان فرمایا ہے کے کفار جب سمندر کی موجوں میں گھر جاتے ہیں ۔تواس وقت اصل خداہی یاد آتا ہے۔ اب وہ  یوں کہتے ہیں۔
لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
اگر تونے ہمیں اس مصیبت سے نجات   دی تو ضرور ہم شکرگزار  لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔
 یہی مضمون سورہ بنی اسرئیل میں اس طرح بیان کیاگیا ہے۔
وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ
یعنی جب سمندر  میں تمھیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو جن (دیوتاؤں) کو تم پکار تے ہووہ سب غائب ہوجاتے  ہیں ۔بس صرف اللہ ہی اللہ رہ جاتا ہے۔



فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ (پ ۲۰ ،عنکبوت ، ۷ع )
پھر جب سوار ہوئے کشتی میں، پکارنے  لگے اللہ تعالیٰ کو، خالص اسی پر رکھ کر اعتقاد، پھر جب بچالایا ان کو زمین کی طرف، اسی وقت لگے شرک کرنے۔
حضرت عکرمہ ؓ  بن ابی جہل فتح مکہّ کے موقع پر اس خوف کے مارے کہ کہیں میں اپنی اسلام دشمنی کی پاداش میں قتل نہ کردیا جاؤں،بھاگ کر سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔ جب کشتی بھنور میں موجوں کے تھپیڑوں سے دوچار  ہوئی تو ملاّحوں نے کہا :
اخلصوا فان الھتکم لا تغنی  عنکم  شیئاً ھٰھنا
خالص اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین کرتے ہوئے اسی کو پکارو، کیونکہ تمہارے دوسرے اِلہٰ اس موقع پر کسی کا م نہیں آسکتے۔
حضرت عکرمہؓ نے کہا: اگرسمندر میں وہ کام نہیں آسکتے تو خشکی پر اللہ تعالیٰ کے سواکون کام آسکتاہے؟ پھر عہد کیا کہ اے اللہ میں اقرار کرتاہوں کہ اگر تونے مجھے اس مشکل سے نجات دی تو میں حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ  پر بیعت کرلوں گا، کیونکہ یہی سبق تو ہمیں وہ بتلاتے ہیں۔ جس سے ہم بھاگے بھاگے پھرتے ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دی اور انہوں نے اپنا وعدہ پوراکیا اور مسلمان ہوگئے۔
(نسائی:۲/ ۱۵۲ ،البدایہ والنھایہ:۴/۲۹۸، والصارم المسلول:ص۱۰۹)
حضرات ! یہ مشرکین کا وہی  گروہ تھا جو خشکی پر ’’یا ابراھیم أغثنی‘‘ اور ’’اعل ھبل ‘‘اور ’’یاعزّٰی‘‘وغیرہ کہا کرتے تھے۔ مگر موجوں کے تھپیڑوں میں وہ سب کچھ فراموش کر کے صرف ذات باری  تعالیٰ پر اعتماد کیا کرتے تھے اور صرف اسی کو پکارا کرتے تھے اور ہر باحیامسلمان کا یہی عقیدہ ہونا چاہیئے۔
فتح مکہ سے پہلے مکہ میں شدید قحط پڑا تھا ، تو حضرت ابو سفیان جواس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے ، مکہ سے سفر کر کے حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور قحط سالی دور ہوئے کیلئے دعا کی درخواست کی۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قوم فرعون کا حال بیان فرمایا کہ جب کوئی عذاب ان پر آتا ہے تو فوراً حضرت موسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوکر اللہ تعالیٰ سے دعاکی درخواست کرتے ہیں ۔                                                دیکھے سورہ اعراف آیات(۱۳۴)
حضرت حصینؓ فرماتے ہیں: اسلام لانے سے قبل ایک مرتبہ آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺنے مجھ سےسوال کیا۔ حصینؓ !میں نے کہا: جی۔ فرمایا: کتنے اِلہٰوں کی تم روزانہ عبادت کرتے ہو ؟
میں نے کہا: حضرت ! سات کی،   ایک آسمان پر ہے اور باقی چھ زمین پر۔
آپﷺنے فرمایا:
فایّھم تعدّ لرغبتک ورھبتک؟  قال: الذی فی السماء
ان میں خوف اور رجا ، امید وبیم کے لیے تم کس اِلہٰ کو کام کا سمجھتے ہو؟ حضرت حصین ؓ نے کہا وہ  تو وہی ہے جو آسمانوں میں ہے۔
  آپ ؐ نے فرمایا ۔اگرتم مسُلمان ہو جاؤ تو میں تمہیں دو کلمے سکھادوں ۔
چنانچہ مسلمان ہونے کے بعد وہ دوکلمے انہوں نے سیکھ لیے۔
(رواہ احمدوالنسائی باسناد صحیح  )
ان آیات واحادیث سے معلوہوا کہ مشرکین اگر چہ بعض حالات میں غیروں کو سفارشی مان کر پکارا کرتےتھے۔ لیکن جب انتہائی مصیبت کا شکار ہوتے اور دریا کی موجوں میں مبتلا ہوتے تھے تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے اور تمام مافوق الاسباب سفارشی  بھوُل جاتے تھے ۔لیکن جب خشکی پر قدم دھرتے تو وہی  شرک شروع کر دیتے تھے ۔ یعنی غیر اللہ کو متصرف مان کر پُکارنا۔
یہ تو قرآنی مشرک تھے ، جو شدید مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتے ہیں، افسوس صدافسوس آج سعدی صاحب  اور ان جیسے حضرات مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ مصیبت کے وقت غیراللہ کو پکاراجائے۔
اور اسی  پر بس نہیں؛ بلکہ اپنی بات کی نسبت  ان مقتدرعلماء اور فقہاء کی طرف بھی کردی ، جن کے علم و تقدس اور جن کے صحیح العقیدہ ہونے کی گواہی تاریخ دیتی ہے۔
کیا سعدی صاحب  ان بڑے بڑے علماء امام نووی، حافظ ابن حجر اور امام بخاری وغیرہ کو ان کفار سے بھی بدتر سمجھتے ہیں کہ کفار تو مصیبت میں اللہ کو پکاریں، اور یہ جلیل القدر علماء ’’غیر اللہ‘‘ سے مدد مانگنے کا درس دیں! (العیاذ باللہ)(تحفۂ توحید : 36-39)

قرآنی آیات و احادیث جن میں اللہ کے علاوہ کسی کو پکارنے سے منع فرمایا ہے


قرآنی آیات و احادیث جن میں اللہ کے علاوہ کسی کو پکارنے سے منع فرمایا ہے

حضرات! قرآنِ کریم کی چند آیات آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں  کہ مشرکین ’’غیراللہ‘‘ کو فریادرس اور تکلیف دور کرنے والا سمجھ کر پکارتے  تھے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مشرکین کی ’’دعا یدعو‘‘ کے الفاظ کو سامنے رکھ کرتردید فرمائی کہ جن کو تم پکارتے ہو وہ نہ نفع کے مالک ہیں اور نہ ضرر کے اور نہ ہی ان کو تمہاری تکلیفوں اور مصیبتوں کی اطلاع ہے ، اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ اور مؤمنین کو یہ حکم دیا  کہ اللہ تعالیٰ کے نیچے کسی کو نہ پکارو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ
بےشک وہ لوگ جن کو تم پکارتے ہو ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، وہ ہرگز مکھی نہیں بنا سکیں گےاگرچہ سارے جمع ہو جائیں۔

قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (4) وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ
تو کہہ بھلا دیکھو جن کو تم پکارتے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ  ، دکھاؤ تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا  زمین میں ، یا ان کی شراکت ہے آسمانوں میں۔ لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یاکوئی (عقلی دلیل اور) علم جو چلا آتا ہو ، اگر ہو تم سچے ۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو پکارے اللہ تعالیٰ کے سوا ، ایسے کو کہ نہ پہنچے اس کی پکار قیامت کے دن تک اور ان کو خبر نہیں ان کے پکارنے کی۔

وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (13) إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
اور وہ لوگ جن کو تم پکارتے ہو ، اللہ تعالیٰ کے سوا  ، وہ مالک نہیں کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے ، اگر تم ان کو پکاروتو سنیں نہیں تمہاری پکار ، اور اگر سنیں بھی تو پہنچ نہ سکیں  تمہارے کام پر  اور قیامت کے دن منکر ہوں گے تمہارے شرک سے اور کوئی نہ بتلائے گا تجھ کو جیسا بتلائے خبر رکھنے والا ۔(یعنی خدا تعالیٰ)

قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ
آپ کہہ دیجئے ، بھلا دیکھو تو جن کو پکارتے ہو تم اللہ کے سوا  ، اگر چاہے اللہ تعالیٰ مجھ پر کچھ تکلیف تو وہ ایسےہیں کہ کھول دیں تکلیف اسکی ڈالی ہوئی ، یا اگر وہ چاہے مجھ پر مہربانی تو وہ ایسے ہیں کہ روک دیں اس کی مہربانی کو؟ تو کہہ مجھ کو اللہ تعالیٰ ہی بس ہے، اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں بھروسہ رکھنے والے۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ
آپ کہہ دیجئے پکارو تم ان کو جن کو تم اللہ تعالیٰ کے نیچے خیال کرتے ہو ، وہ مالک نہیں ذرہ بھر کے آسمانوں میں اور زمین میں ، اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شراکت ہے، اور نہ ان میں کوئی اس (اللہ تعالیٰ) کا مددگار ہے۔
ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شرک یہ بتلایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غیر اللہ تکوینی امور (تکلیف سے نجات دینے والے اور مہربانی کرنے) میں ایک ذرہ کے مالک نہیں ہیں اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا  دوسری مخلوق کو مشکل کشا جان کر پکارتے ہیں وہ تو ان کی بات کو نہ سن سکتے ہیں اور نہ ان کو اس کی کچھ خبر ہے۔قیامت تک پکارو ، وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اور اگر بالفرض وہ تمہاری تکلیف کو سن بھی لیں تو تمہاری مدد کو نہیں پہنچ سکتے۔ اور تمہارے اس شرک (پکارنے) کا قیامت میں صاف انکار کریں گے، اور یہ ساری باتیں بتلانے والا وہ ہے جس سے کوئی بات چھپی ڈھکی نہیں ۔
اور اسی آخری آیت میں اس قسم کے پکارنے پر شرک کا لفظ بولا گیا ہے۔
ان آیتوں کو بغور پڑھیے ، بار بار پڑھیے اگر انسان کے سینے میں دل ہے تو کہیں نہ کہیں اسے یہ آیتیں جھنجھوڑیں گی ، اور اس کے دل میں یہ خیال ضرور پیدا ہوگا کہ واقعۃً ’’غیراللہ‘‘  کو پکارنا صحیح نہیں ہے۔  (تحفہ ٔ توحید : 33-35)

علماء شوافع کی تصریحات کہ دعا عبادت ہے


علماء شوافع کی تصریحات کہ دعا عبادت ہے

          امام رازی شافعیؒ نے بھی اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ دعا اصل عبادت ہے:
ان المقصود من الدعاء ھو اظھار العبودیۃ والذلۃ والانکسار و الاعتراف بان الکل من اللہ والرجوع الیہ بالکلیۃ (دیکھئے: تفسیرِ کبیر: ۵/۱۰۸ ، شرح الاسماء الحسنیٰ:ص۸۷)
دعاء کا اصل مقصد عبودیت ، عاجزی، انکساری کا اظہار اور اس بات کا اعتراف کرنا کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ، اور اسی کی طرف کلی طور پر رجوع ہونا ہے۔
علامہ ابن الاثیر شافعیؒ:
ونبہ ابن الاثیر إلی ان الدعاء مشتمل علی امرین عظیمین: احدھما انہ امتثال امر اللہ تعالیٰ حیث قال (ادعونی استجب لکم ) والثانی مافیہ من قطع الامل عما سوی اللہ و تخصیصہ وحدہ بسؤال الحاجات (النہایۃ فی غریب الحدیث: ۴/ ۳۰۵)
ابن الاثیر شافعیؒ نے بھی اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دعاء دراصل دو باتوں پر مشتمل ہے ، ایک تو یہ کہ دعاء میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’ادعونی استجب لکم‘‘ پر عمل ہے ، دوسرے یہ کہ: دعاء میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر کسی سے امیدوں کو توڑا جاتا ہے، اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے حاجتوں کو مانگنا پایا جاتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی شافعیؒ فرماتے ہیں:
ان الدعاء من جملۃ العبادۃ لما فیہ من الخضوع والافتقار (فتح الباری)
دعاء بھی عبادت میں سے ہے ، اس لئے کہ اس میں انکساری اور محتاجی پائی جاتی ہے۔
امام فخرالدین رازی شافعی ؒ فرماتے ہیں:
قال الجمہور الأعظم من العقلاء: الدعاء أعظم مقامات العبادۃ (شرح الاسماءالحسنیٰ۸۴-۸۵ ، تفسیرِ کبیر:۵/۱۰۶- ۱۰۷)
اکثر عقلمندوں کا کہنا ہے کہ دعاء عبادت کے مقامات میں اونچا درجہ رکھتی ہے۔
مزید امام رازیؒ فرماتے ہیں:
ثبت ان الدعاء یفید القرب من اللہ ، فکان الدعاء افضل العبادات
(تفسیرِ کبیر:۵/ ۱۰۷)
یہاں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دعاء اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے ، پس دعاء افضل ترین عبادت ہے۔
امام ابن حبان شافعیؒ فرماتے ہیں:
وقال ابن حبان فی احدی تراجم کتاب الدعاء من صحیحہ: ’’ذکر البیان بأن دعاء المرء ربہ فی الاحوال من العبادۃ التی یتقرب بھا الی اللہ جل و علا
(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان:۳/ ۱۷۳)
امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں کتاب الدعاء میں ایک باب کا عنوان اس طرح قائم کیا ہے: اس بات کا بیان کہ بندے کا حالات میں اپنے رب کو پکارنا ان عبادتوں میں سے ہے جن سے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔
امام نووی شافعیؒ حضور ﷺ کے قول ’’ اللھم اغفرلی خطیئتی وجھلی‘‘  (ائے اللہ میری خطا اور لاعلمی کو معاف فرما) کی وضاحت میں علماء کے اقوال نقل کر کے  فرماتے ہیں:
وعلیٰ کل حال فھو صلی اللہ علیہ وسلم مغفور لہ ما تقدم من ذنبہ وما تأخر فدعا بھٰذا و غیرہ تواضعًا ؛ لأن الدعاء عبادۃ
بہر صورت حضورﷺ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی گئی تھیں پس آپ کا ان الفاظ  کے ذریعہ دعا کرنا بطورِ تواضع کے ہے ، اس لئے کہ دعا عبادت ہے۔

امام رازی شافعی ؒ کی یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو۔
اعلم ان المقصود من ھٰذہ الآیۃ الرد علی عبدۃ الاصنام ، وھی مؤکدۃ لقولہ تعالیٰ قبل ذٰلک (قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ) فقال (قل اندعو من دون اللہ) أی انعبد من دون اللہ                             (تفسیر کبیر : ۱۳/ ۳۱)
دیکھئے امام رازیؒ نے اس آیت کے ذیل میں ’’اندعو‘‘ (پکارنا) کی تفسیر ’’انعبد‘‘ (عبادت) سے کی ہے۔
وقال البغوی عند آیۃ سورۃ ابراھیم (ربنا وتقبل دعاء) أی عملی و عبادتی  (معالم التنزیل:۴/ ۳۵۸)
علامہ بغوی شافعیؒ سورہ ابراہیم کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ دعا سے عمل و عبادت مراد ہے۔
علامہ سمعانی شافعیؒ فرماتے ہیں:
فقال السمعانی عند قول الرب تعالیٰ حکایۃ عن اھل الجنۃ (انا کنا من قبل ندعوہ) أی نؤحدہ و نعبدہ ، الدعاء ھٰھنا بمعنی التوحید ، وعلیہ اکثر المفسرین      (تفسیرِ سمعانی:۵/ ۲۷۵)
اسی طرح علامہ سمعانی شافعیؒ اللہ تعالیٰ کے قول ’’انا کنا من قبل ندعوہ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’ندعوہ‘‘ یعنی نؤحدہ و نعبدہ (اس کی عبادت کرتے تھے ) دعا یہاں توحید کے معنی میں ہے ، اسی کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے ۔
امام حلیمی شافعیؒ فرماتے ہیں:
ولذٰلک قال اللہ عز وجل ( وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین)  فابان الدعاء عبادۃ
(المنھاج فی شعب الایمان:۱/ ۵۱۷)
اسی واسطے اللہ عز وجل کا یہ فرمان ہے:وقال  ربکم ادعونی ۔۔۔الاخیر
پس اس آیت میں ’’الدعاء‘‘ کو عبادت فرمایا ہے۔
امام حلیمی فرماتے ہیں:
الدعاء عبادۃ و استکانۃ
(المنہاج:۱/ ۵۳۰)
دعا عبادت ہے اور اپنی عاجزی کا اظہار ہے۔
          قرآن و حدیث اور علماء شوافع کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ دعا بھی عبادت ہی ہے ۔ جس طرح اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں  بلکہ شرک ہے ، اسی طرح اللہ کے علاوہ کسی سے دعا مانگنا بھی جائز نہیں  شرک ہے۔(تحفۂ توحید : 30-33)