اعتکاف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اعتکاف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 26 مئی، 2018

اعتکاف کا سنت وقت

اعتکاف کا سنت وقت


امام نووی شافعیؒ فرماتے ہیں
اعتکاف سنت ہے اجماعاً، صرف نذر کی وجہ سے اعتکاف واجب ہوتا ہے۔ اور کثرت کرنا مستحب ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی سنیت و استحبابیت اور مو ٔکد ہوجاتی ہے، مذکورہ احادیث کی وجہ سے، اور پچھلے باب یعنی لیلۃ القدر کے باب اس کی تلاش میں اور امید میں۔ امام شافعیؒ اور فقہاء شوافع کہتے ہیں جو رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف میں نبی کریم ﷺ کی اقتداء و اتباع کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ مسجد میں 21ویں تاریخ کے غروبِ شمس سے پہلے داخل ہوجائے، اور عید کی رات (چاند رات) کے غروب کے بعد نکلے تاکہ اس سے کوئی چیز نہ چھوٹے چاہے مہینہ مکمل ہو (30 کا) یا ناقص ہو (29 کا)۔ اور افضل ہے کہ عید کی رات مسجد ہی میں رہے یہاں تک کہ اس میں عید کی نماز پڑھ لے یا وہاں سے عید گاہ کی طرف نکلے عید کی نماز کے لئے اگر عید گاہ میں عید کی نماز ہورہی ہو۔ (ملخصاً من المجموع شرح المھذب  6/475)

منگل، 26 اپریل، 2016

اعتکاف

اعتکاف کا بیان
اعتکاف سنت ہے ، اعتکاف صحیح نہیں ہوتا مگر نیت کے ذریعے مسجد میں۔ اور اعتکاف باطل ہوتا ہے جماع سے اور مباشرت کی وجہ سے انزال ہونے سے۔
اعتکاف کی شرطیں
٭اسلام
٭عقل
٭حیض اور جنابت سے پاک ہونا

٭ بغیر عذر کے (مسجد سے نکلنے) سے اعتکاف کا تتابع(لگاتار،پے در پے ہونا) ختم ہوجاتا ہے۔(تذكرة في الفقه الشافعي لابن الملقن)

اتوار، 29 نومبر، 2015

کتاب الصیام و الاعتکاف

کتاب الصیام
          صوم کے معنی رکنا ہے۔
اور اس کے واجب ہونے کے شرائط:
۱۔ اسلام،
۲۔ بلوغ،
۳۔عقل اور
۴۔طاقت۔
اور روزہ کی صحت:
۱۔اسلام،
۲۔عقل،
۳۔حیض اور نفاس سے ہر دن پاک ہونا، اور
۴۔جماع سے رکے رہنا، اور
۵۔منی کا نکلنا چھونے  کی وجہ سے اور اسی طرح استمناء کی وجہ سے۔
۶۔قصداً قئی سے کرنا اور
۷۔ پیٹ میں کسی چیز کا عمداً  اپنے اختیار سے  جانے سے رکنا

روزہ کی نیت:- اور   روزہ میں نیت واجب ہے اور فرض روزوں میں نیت رات میں کریں گے اور نفل روزوں میں زوال سے پہلے تک۔
اور افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا  اور فحش کلام چھوڑنا مستحب ہے ۔
حرام روزہ:- چھ دن روزہ رکھنا حرام ہے، عیدین، ایام تشریق اور بغیر سبب کے یوم شک (۳۰ شعبان جس میں معلوم نہ ہو کہ وہ ۳۰ شعبان ہے یا ا رمضان)
فصل روزہ کے کفارے کے بیان میں
جو رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ جماع کر کے فاسد کرے وہ گناہ گار ہوگا اس کی وجہ سے اور اس کا کفارہ ایک غلام کا آزاد کرنا ہے ،پس اگر اس سے عاجز ہو تو وہ  دو مہینے لگاتار روزہ رکھے پس اگر اس سے بھی عاجز ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
فصل روزہ کے فدیہ کے بیان میں
اور جس کا انتقال ہوگیا اور اس کے ذمہ روزےتھے کافی ہے اس کی طرف سے  ہر روز کے بدلہ ایک مد کھانا کھلانا اور مختار یہ ہے کہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے اگر چاہے تو، اور شیخ  وہ( بوڑھے )جو روزہ رکھنے سے عاجز ہیں وہ افطار کریں گے اور فدیہ دیں گے ہر روزہ کے بدلہ ایک مُد۔ اور حاملہ عورت اور مُرضعہ یعنی دودھ پلانے والی عورت اگر دونوں کو ڈر ہو اپنے جانوں کا تو وہ روزوں کو قضا کرے گی بغیر فدیہ کہ، اور اگر وہ دونوں(حاملہ اور مرضعہ) بچے کے معاملہ میں ڈرے تو وہ فدیہ بھی دیں گے۔ اور مریض اور وہ مسافر جو قصر کی حالت میں ہو (یعنی جس میں نماز کے قصر کرنے کا حکم ہو) دونوں افطار کریں گے(یعنی روزہ نہیں رکھیں گے) اور دونوں (بعد میں روزہ کی) قضا کریں گے۔
فصل مسنون روزوں کے بیان میں
مسنون روزے یہ ہیں
٭پیر اور جمعرات کا روزہ
٭عرفہ کا روزہ غیر حاجی کے  لئے
٭یوم ترویہ(آٹھ ذی الحجہ) کا روزہ
٭عاشورہ اور تاسوعاء(یعنی ۹ اور ۱۰ محرم) کا روزہ
٭ایام بیض کا روزہ(یعنی ہر مہینہ کی ۱۳،۱۴،۱۵  کا )روزہ
٭اور ایام السود کے روزہ اور وہ مہینہ کے آخر کے روزہ ہیں
٭شوال کے چھ روزہ 
٭ صرف جمعہ اور صرف ہفتہ اور صرف اتوار کا روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔
فصل اعتکاف کے بیان میں
اعتکاف سنت ہے ، اعتکاف صحیح نہیں ہوتا مگر نیت کے ذریعے مسجد میں۔ اور اعتکاف باطل ہوتا ہے جماع سے اور مباشرت کی وجہ سے انزال ہونے سے۔
اعتکاف کی شرطیں
٭اسلام
٭عقل
٭حیض اور جنابت سے پاک ہونا
٭ بغیر عذر کے (مسجد سے نکلنے) سے اعتکاف کا تتابع(لگاتار،پے در پے ہونا) ختم ہوجاتا ہے۔

 (تذکرہ فی الفقہ الشافعی لابن ملقنؒ)

منگل، 7 جولائی، 2015

اعتکاف کا بیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اعتکاف کا بیان
ترجمہ: اور ان بیبیوں (کے بدن) سے اپنا بدن بھی (شہوت کے ساتھ) مت ملنے دو جس زمانہ میں تم لوگ اعتکاف والے وہ (جوکہ) مسجدوں میں (ہوا کرتا ہے)۔(سورہ البقرہ  ۱۸۷ )
حدیث: آپ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں وصال تک اعتکاف فرمایا کرتے۔"(متفق علیہ)
            عربی زبان میں اعتکاف کا مطلب ہے ٹھہرنا، روکے رکھنا، ہمیشہ لازم رہنا۔ شرعاً مخصوص شخص کا نیت کے ساتھ مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف کہلاتا ہے۔ اس کی مشروعیت پر اجماع ہے۔
مسئلہ: اعتکاف ہر وقت سنت ہے چاہے بغیر روزے کے یا صرف رات میں اعتکاف کرے کیوں کہ کسی وقت کی قید اور تعیین مروی نہیں ہے، رمضان کے آخری عشرہ میں دیگر ایام کے مقابلہ میں زیادہ افضل ہے کیوں کہ آپ ﷺ نے اس کی پابندی فرمائی ہے۔(شیخین) اور اس کی اصل حکمت لیلۃ القدر کی تلاش اور اس کے حصول کی کوشش ہے، جو قرآن کی رو سے ہزار ماہ سے بہتر ہے یعنی اس ایک رات کی عبادت ایسے ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو۔
حدیث: (۱)جو لیلۃ القدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے (اللہ کی عبادت کرتا رہے) اس کے سابقہ گناہ معاف ہوں گے۔(متفق علیہ)
نوٹ: مراد اس سے حقوق اللہ سے متعلق صغیرہ گناہ ہیں۔
(۲)شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔(متفق علیہ)
            امام شافعیؒ کے نزدیک آخری عشرہ کے ہر شب میں لیلۃ القدر کا امکان ہے لیکن زیادہ احتمال طاق راتوں میں اور اس میں بھی ۲۱، یا ۲۳ کی رات میں ہے۔ ۲۱ویں شب پر شیخین کی روایت اور ۲۳ویں شب پر مسلم کی روایت دلالت کرتی ہے۔ امام مزنیؒ اور ابن خزیمہؒ وغیرہ نے فرمایا کہ شبِ قدر منتقل ہوتے رہتی ہے۔(ہر سال ایک ہی متعین رات نہیں ہوتی) امام نوویؒ نے روضہ،مجموع اور فتاوی میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ جمع بین الاحادیث میں امام شافعیؒ کے کلام کابھی یہی تقاضا ہے۔
            شبِ قدر کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کی صبح جب سورج طلوع ہوگا تو بالکل سفید ہوگا اسمیں شعاع نہ ہوگی۔
            شبِ قدر اس امت کی خصوصیت ہے۔ یہ سال کی سب سے افضل رات اور تاقیامت باقی ہے۔ یہ درحقیقت نظر آتی ہے اور جسے نظر آئے اسے یہ چھپانا  سنت ہے، کیوں کہ یہ نظر آنا ایک کرامت ہے اور کرامت کا پوشیدہ رکھنا سنت ہے۔ شبِ قدر میں ساری رات نماز،تلاوت دعا وغیرہ میں مصروف رہے۔
شبِ قدر میں یہ دعا بکثرت پڑھے
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
ترجمہ:" اے اللہ! بے شک آپ ہی معاف کرنے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں پس ہمیں معاف فرمائے۔" (ترمذی،نسائی، ابن ماجہ)

شبِ قدر کا علم نہ ہو سکے تب بھی اس رات کی عبادت کرنے سے اس کی فضیلت فی الجملہ حاصل ہوگی( کامل فضیلت بغیر علم کے حاصل نہ ہوگی) اس کی ایک علامت اس میں گرمی و سردی کا نہ ہونا ہے (یعنی رات معتدل ہوگی) شبِ قدر کے بعد دن میں بھی کثرتِ عبادت مستحب ہے۔(تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی)