حلال و حرام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حلال و حرام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 14 اپریل، 2016

حرام مشروبات اور منشیات

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حرام مشروبات اور منشیات

                کھانے پینے کی اشیاء میں اصل اباحت و حلت ہے (یعنی ان کا مباح ہونا اور حلال ہونا ہے)  اللہ تعالیٰ کے فرمان میں عموم کی وجہ سے
 هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا" اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے پیدا فرمایا جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب"(سورہ البقرہ :29)
تاہم جن اشیاء کی حرمت پر کوئی دلیل موجود ہو، وہ حرام ہوں گی۔
حرام مشروبات:-
1.جو مضر و مہلک ہو، جیسے زہر وغیرہ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ترجمہ:" اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو "( سورہ البقرہ :195)
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ترجمہ: "اور مت قتل کرو اپنی جانوں کو، بے شک اللہ تم پر بہت بڑا مہربان ہے"(سورہ النساء:29)

2.جو نجس ہو، جیسے خون ،پیشاب،حرام جانوروں کا دودھ، وہ سیال (بہنے والی چیز)جس میں نجاست گرنے کی وجہ سے وہ متنجس (نجس )ہوجائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا " ترجمہ:" یا بہتا ہوا خون ہو(حرام ہے)"
جیسا کہ مروی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی(دیہاتی) مسجد میں پیشاب کیا، تو بعض لوگ اس کی طرف کھڑے ہوگئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا" اس کو چھوڑ دو اور مت توڑو، راوی نے کہا: جب وہ (اعرابی) فارغ ہوگیا تو نبی ﷺ نے ایک ڈول پانی کا منگایا پھر اس پر پانی ڈالا۔(صحیح مسلم حدیث 284)
اس حدیث میں پانی ڈالنے کا حکم دینا اس پیشاب کے نجس ہونے کی دلیل ہے۔
3.جو نشہ آور ہو، یعنی مستی لانے والی مدہوش کرنے والی ہو، خواہ انگور سے بنی شراب ہو یا کسی اور چیز سے۔
                نشہ آور چیزوں کی حرمت میں اصل دلیل اللہ عز و جل کا فرمان ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
ترجمہ:" اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت اور جوئے کے تیر گندی چیزیں ہیں، شیطان کے کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔"( سورہ المائدہ:90)
تمام نشہ آور چیزیں حرام ہیں:
قرآنِ کریم کی آیت اگر چہ نص ہے صرف "خمر" پر اور وہ انگور سے بننے والی شراب ہے، مگر تمام نشہ آور چیزیں اس میں داخل ہیں، اور وہ ان دلائل کی بنیاد پر ہے:
1. آپ ﷺ نے فرمایا
"كلّ شراب أسكر فهو حرام"  " ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔"(صحیحین، بخاری کتاب الاشربہ، حدیث نمبر 5263، مسلم کتاب الاشربہ حدیث 2001)
2.اللہ کے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں "الخمر" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: كل مُسكِر خمر، وكل خمر حرام
"ہر نشہ آور چیز خمر ہے، اور ہر خمر حرام ہے۔"(صحیح مسلم، کتاب الاشربہ، باب بیان ان کل مسکر خمر)

3.خمر(شراب) کے حرام ہونے کی وجہ یا علت اس کا وصف نشہ ہے امت کے اجماع  سے، تو اس سے لازم ہوا کہ ہر وہ مشروب جس میں نشہ ہے وہ حرام ہے چاہے کسی بھی نام سے ہو۔ عن أبي مالك الأشعري - رضي الله عنه -، أنه سمع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: " ليشربَنَّ ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها".
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
" ضرور میری امت کے  بعض لوگ شراب کو نام بدل  کر پئیں گے۔"(ابو داود حدیث نمبر 3688، ابن ماجہ باب الفتن حدیث نمبر 4020)
لہٰذا ناموں کا الگ ہونا نشہ آور چیز کو شراب کے حکم سے نہیں نکالتا اور وہ حرام ہے۔
جس سے نشہ آتا ہو اس کا ایک قطرہ بھی حرام ہے:                مُسکِر (نشہ آور) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس جنس میں نشہ اور مستی لانے کی صفت موجود ہو پس اس کی قلیل مقدار اور ایک قطرہ بھی حرام ہوگا، گو اس سے نشہ نہ آئے، کیوں کہ سنن وغیرہ کی احادیث میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا
"ما أسكر كثيره فقليله حرام"  یعنی"جس کی کثیر مقدار نشہ آور ہو، اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔"(سنن ابن ماجہ  3392، سنن ابو داود 3681، سنن الترمذی 1865، سنن النسائی 5607، مسند احمد 6558 وغیرہ)
نوٹ:تمام نشہ آور مشروب شافعی مسلم میں نجس ہیں۔ دلیل  سورہ مائدہ کی آیت  نمبر 90 ہے جو  اوپر گذری۔
حکمت: انسان پر اللہ تعالیٰ کی بے انتہا نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت عقل ہے۔ جس کی وجہ سے اسے دیگر حیوانات پر خاص توفق وبرتری اور شرافت حاصل ہے، اور اسی کی روشنی میں اس کی انفرادی و اجتماعی زندگی صحیح اصول اور ضوابط کے مطابق گذرسکتی ہے۔
                اور یہ نشہ آور اشیاء اس عظیم نعمت سے محروم کر کے حیوانیت سے بھی ذلیل تر گہرے گڑھے میں دھکیل دیتی ہیں، نتیجہ میں شہوات  و فواحش، سب و شتم، دشمنی و بغض اور لڑائی جھگڑے جیسے مسموم اثرات جنم لیتے ہیں، اور آپسی اخوت و محبت کا رشتہ تار تار ہوجاتا ہے۔ مزید برآں اللہ کے ذکر و عبادت سے روک کر اس کی رحمت اور فضل و احسان سے دور لے جاکر پھینک دیتی ہیں اور شیاطین کے صف میں کھڑی کردیتی ہیں۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اشارہ کرتا ہے
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ۔
شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے آپس میں دشمنی اور بغض واقع کر دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، سو کیا تم باز آنے والے ہو؟(سورہ المائدہ 91)

 آپ ﷺ کے اس فرمان نے تو اسے اور مؤکد فرمادیا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ»
"شراب سے بچو کیوں کہ وہ ہر شر کی کنجی  ہے۔"(مستدرک حاکم 7231)
ایک روایت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے  فرمایا
عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: " اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ
"شراب سے بچو کیوں کہ وہ ام الخبائث (سارے شر و فساد کی جڑ)  ہے۔"(سنن النسائی 5666)
نشہ آور چیز پینے والے پر کیا احکام مرتب ہوں گے؟
نشہ آور اشیاء کے حرام ہونے اور اس کی حرمت کی حکمت جان لینے کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نشہ آور مشروبات پینے والے پر کیا احکام مرتب ہوں گے؟
نشہ آور اشیاء پینے والے پر دو قسم کے احکام مرتب ہوں گے:
۱۔قضائی، اس کا اثر دنیا میں متحقق ہوگا۔
۲۔اخروی، اس کا اثر آخرت میں قیامت کے دن ظاہر ہوگا۔
                بہرحال جہاں تک پہلے حکم کی بات ہے تو وہ دنیا میں شراب پینے والے پر حد جاری ہوگی جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
جہاں تک  دوسرے حکم کی بات ہے، تو جیسا کہ آپ نے جان لیا کے نشہ آور مشروبات حرام ہیں تو یہ گناہ ہے اور اس کا عذاب ملے گا، اس بارے میں کتبِ حدیث میں بہت سی تفصیلات ہیں ، ہم صرف ایک حدیثِ شریف پر اکتفاء کریں گے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا"
"بے شک اللہ تعالیٰ پر ایک عہد ہے کہ جو کوئی نشہ آور چیز پئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے طینۃ الخبال پلائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ﷺ طینة الخبال کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنمیوں کے پسینہ اور ان کا رس ہے(یعنی پیپ، خون وغیرہ)۔(صحیح مسلم کتاب الاشربة باب بیان ان کل مسکر خمر۔۔ حدیث نمبر 2002)
شراب کی حد: شراب نوشی کی حد چالیس کوڑے ہیں، تاہم حاکم مناسب سمجھے تو اسے بڑھا کر اسّی (80)  تک لے جاسکتا ہے، اور یہ زائد مقدار تعزیری ہوگی۔ آپ ﷺ اور صدیقِ اکبر سے چالیس، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسّی (80) اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے چالیس کوڑے مروی ہیں۔(مسلم) پس فقہائے کرام نے چالیس کو اصل حد اور مزید کو تعزیر قرار دیا ہے۔
                عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ  انہوں نے ولید بن عقبہ بن مُعیط کو کوڑے مارنے کا حکم دیا تو حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے ولید کو کوڑے مارے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گِن رہے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: رک جاؤ، پھر فرمایا: نبی کریم ﷺ نے چالیس کوڑے مارے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسّی کوڑے مارے، اور یہ تمام سنت ہے اور یہ یعنی چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہے۔(صحیح مسلم کتاب الاشربہ باب حد الخمر حدیث نمبر 1707)
حد کب جاری کی جائے:-شربی کو نشہ کی حالت میں سزاد نہ دی جائے۔، کہ اس سے صحیح عبرت اور تنبیہ حاصل نہ ہوگی، بلکہ نشہ ختم ہونے کے بعد سزا دی جائے۔
٭حد کے شرائط: حد کے نفاذ کے لئے درجِ ذیل کسی ایک طریقہ سے شراب نوشی کا ثبوت ہونا چاہئے۔
1.دو عادل مرد کی گواہی، صرف ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی یا حاکم کے علم کی بنیاد پر حد نافذ نہیں ہوگی۔
عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ پر حد جاری کی تو انہوں نے ان پر دو گواہ بنائے۔(صحیح مسلم کتاب الاشربہ، باب حد الخمر، حدیث نمبر 1707)
2.اقرار: شرابی خود اقرار کرے کہ میں نے شراب پی ہے۔
٭ درجِ ذیل صورتوں میں حد کا نفاذ نہ ہوگا۔
جبراً کوئی پلائے، اسے پتہ ہی نہ ہو کہ یہ شراب ہے، شراب کی قئی کرنا، منہ سے شراب کی بو محسوس ہونا، کیوں کہ غلطی یا اکراہ کا بھی احتمال بھی موجود ہے۔
نفاذ کا مستحق ہے: اس حد کو نافذ کرنے کا اصل حق دیگر حدود کی طرح حاکمِ وقت کو ہے۔ عوام الناس کو حد جاری کرنے کی اجازت نہیں۔
تنبیہ: شراب یا کسی دوسرے گناہ کی حد کے مستحق شخص پر یہ لازم نہیں ہے کہ اپنے آپ کو سزا کے لئے عدالت میں قاضی کے سامنے پیش کرے، بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے پکی اور سچی توبہ کر کے اسے معاف کرالے، جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
                حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھ پر حد واجب ہوگئی ہے آپ مجھ پر حد جاری کیجئے ،، بیان کیا کہ آپ ﷺ نے اس سے کچھ نہیں پوچھا ، پھر نماز کا وقت ہوگیا اور ان صاحب نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو وہ پھر آپﷺ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ! مجھ پر حد واجب ہوگئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجئے۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا: کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کردیا یا فرمایا کہ تیری حد(معاف کردی۔)(صحیح بخاری 6823)
پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ شریعت میں مطلوب ہے کہ انسان خود کے گناہ کی ستر پوشی کرے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے سچی پکی توبہ کرلے۔
(تحفۃ الباری جلد ۳، الفقہ المنہجی فی فقہ الشافعی باب الاطعمة والاشربة جلد ۳)

منگل، 21 جولائی، 2015

تصویر و ویڈیو کے احکام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تصویر و ویڈیو کے احکام

احادیث:
حدیث ۱: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔"(مؤطا مالکؒ،بخاری و مسلم)۔
حدیث ۲:  "قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں مصوروں (تصویر بنانے والوں) کو یقیناً شدید ترین عذاب ہوگا۔"(متفق علیہ)۔
حدیث ۳: "بے شک جو تصویر بناتے ہیں، قیامت کے دن ان کو عذاب ہوگا۔" ان سے کہا جائے گا: تم نے جو پیدا کیا اس میں روح پھونکو(زندہ کرو)۔"(متفق علیہ)۔
حدیث ۴: حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: آپ ﷺ ایک مرتبہ سفر سے تشریف لائے اور میں نے ایک تصویر والا پردہ  لٹکا رکھا تھا، پس جب آپ ﷺ نے یہ دیکھا تو اسے ہٹانے کا حکم دیا اور فرمایا:" جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، انہیں قیامت کے دن سخت ترین عذاب ہوگا۔"(متفق علیہ)۔
حدیث ۵: آپ ﷺ نے مصوروں سمیت کئی گناہ گاروں پر ایک حدیث میں لعنت فرمائی ہے۔(صحیح بخاری)۔
          امام نوویؒ نے فرمایا: علماء فرماتے ہیں کہ کسی حیوان کی تصویر بنانا سخت حرام ہے، یہ کبائر میں داخل ہے کیوں کہ اس پر مذکورہ بالا شدید ترین وعید وارد ہے، چاہے تحقیر و تذلیل کے طور پر استعمال کے لئے بنائے یا کسی اور مقصد سے، بنانا ہر حال میں حرام ہے خواہ کپڑے میں بنائے یا بچھونے میں، درہم و دینار( نوٹ وغیرہ) یا برتن و دیوار پر۔
غیر جاندار کی تصویر بنانا حرام نہیں۔ مسلم وغیرہ میں ابن عباسؓ سے اس کی اجازت منقول ہے۔
          امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ مصوروں کو اتنی سخت وعید اس لئے ہے کہ تصویریں اللہ کے علاوہ پوجی جاتی تھیں، نیز اس کو دیکھنا فتنہ کا طاعث ہے اور بعض نفوس اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اگر تصویر سائے دار نہ ہو (یعنی کاغذ کپڑے وغیرہ) پر ہو اور اسے روندا جاتا ہو،(چلنے پھرنے کی جگہ ہو) یا استعمال کے ذریعے اس کی تحقیر و تذلیل ہوتی ہو تو اس چیز کا استعمال جائز ہے(گر چہ اس تصویر کا بنانا حرام ہے) اگر دیوا رپر آویزاں یا پوشاک اور عمامہ وغیرہ پر ہو جس میں تحقیر کا پہلو نہ ہو تو اس کا استعمال بھی حرام ہے۔
          امام رافعیؒ نے جمہور سے نقل فرمایا کہ تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تو ممانعت ختم ہوجائے گی، لیکن امام متولی اس سے متفق نہیں۔
          نہایة، فتح الوھاب اور تحفة وغیرہ کتب میں بچیوں کے لئے گڑیا کو جائز قرار دیا ہے کیوں کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہؓ اس سے کھیلا کرتی تھیں اس میں حکمت یہ کہ اولاد کی تربیت کی مشق حاصل ہوجائے۔ بعض علماء نے ممانعت کی روایت کے پیش نظر اس اجازت کو منسوخ قرار دیا ہے۔
          سکوں پر مکمل تصویر ہو تب بھی اسے استعمال کرنے اور ساتھ رکھنے میں حرج نہیں، اسلاف اسے استعمال کرتے رہے ہیں۔
        ویڈیو سے متعلق تنبیہ: دورِ حاضر میں تصویر ہی کی ایک ترقی یافتہ اور بسہولت دستیاب لعنت و مصیبت ویڈیو ہے جس کا نشہ باوجود کئی مفاسد کے لوگوں کے دماغ پر چھا چکا ہے اور اس زہریلے سانپ کو حسین ہار سمجھ کر گلے میں لٹکالیا ہے، حالانکہ متحرک تصاویر کے مفاسد واضح ہیں، اس کے ذریعہ شادی کی عام مجلسوں کی تصویر کشی تو ایک عام سی بات بن ہی چکی ہے، مزید آگے بڑھ کر عورتوں کھانے پینے وغیرہ کی اداؤں کو بھی محفوظ کیا جارہا ہے۔ بلکہ شیطان نے تو ایسا مخمور کردیا ہے کہ حجلۂ عروسی اور فراشِ عروسی کے مناظر تک اس کیمرہ اور کیمرہ مین کو رسائی حاصل ہورہی ہے، کیا یہی نکاح کے سنت کی ادائیگی کا طریقہ ہے، کہ حیاء کو بالکل بالائے طاق رکھ کر فحاشی اور بے پردگی کا یوں مظاہرہ کیا جائے۔
          یہ مقدس مذہبِ اسلام کی عفت مآب بیٹیاں ہیں، یا نعوذ باللہ کسی قحبہ خانی کی عصمت فروش اور بے حیا عورتیں ؟ ذرا تو ہوش کے ناخن لیجئے، مردوں اور عورتوں کی غیرت اور حیا کہاں مرگئی؟ اللہ تعالیٰ امت کو تمام فتنوں سے بچ کر سنت کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ واللہ اعلم بالصواب۔

(تحفۃ الباری ۳/۶۵)

پیر، 20 جولائی، 2015

نا محرم کو چھونے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نا محرم کو چھونے کا حکم
جہاں نا محرم کو دیکھنا ممنوع ہے، تو اس کو  چھونا بھی حرام ہے، کیوں کہ چھونا شہوت بھڑکانے میں دیکھنے سے بڑھ کر ہے، اسی لئے چھونے سے انزال ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور صرف دیکھنے سے انزال ہوجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
            لہٰذا کسی  آدمی کا امرد  کو بھی چھونا حرام ہے، اور بلا حائل کسی آدمی کی ران رگڑنا بھی حرام ہے۔ حائل کے ساتھ کسی آدمی کی ران رگڑنا جائز ہے، جب کہ بلا شہوت ہو اور فتنہ کا خوف نہ ہو۔ امرد کی ران حائل کے ساتھ بھی چھونا حرام ہے۔
            کبھی چھونا جائز اور دیکھنا حرام ہوتا ہے، مثلاً طبیب جب کہ صرف چھو کر مرض کا پتہ لگا سکتا ہو۔
            نکاح کے قصد، گواہی اور تعلیم کے لئے دیکھنے کی اجازت کے باوجود چھونا حرام ہے۔
محرم کے پیٹ،پشت اور پیر وغیرہ کو بلا حائل بغیر حاجت و شفقت کے چھونا یا اس کا بوسہ لینا حرام ہے۔ حاجت یا شفقت کی صورت میں جائز ہے، جب کہ شہوت یا فتنہ کا خوف نہ ہو۔
آپ ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کا اور حضرت ابو بکرؓ نے حضرت عائشہؓ کا بوسہ لیا تھا۔(بخاری شریف)۔
            صاحبِ مغنی نے حاجت و شفقت کے بغیر بھی جواز کو ترجیح دی ہے۔ والدہ وغیرہ کا پیر دبانا حاجت کی صورت میں جائز ہے۔
بال و ناخن کا حکم: جن اشیاء کا بدن پر ہوتے ہوئے دیکھنا حرام ہے، جدائی کے بعد بھی حرام ہے۔ اسی لئے علماء نے موئے زیرِ ناف اور عورت کے ناخن و بال کو دفن کرنا واجب قرار دیا ہے۔
دو مرد یا دو عورتوں کا ساتھ لیٹنا:۔
دو مرد یا دو عورت کا برہنہ ایک ہی کپڑے میں لیٹنا حرام ہے، جب کہ بستر ایک ہو، گرچہ ایک دوسرے سے مس نہ ہوں، یا ماں باپ کے ساتھ ہوں جب کہ بچہ دس سال  کا ہوچکا ہو، کیوں کہ مسلم شریف کی حدیث میں دو مردوں کو یا دو عورتوں کو اس طرح ایک ہی کپڑے (چادر) میں سونے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث: آپ ﷺ نے فرمایا" سات سال کی عمر میں اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو ، دس سال کے ہو جائیں تو نماز (میں کوتاہی ) پر مارو اور ان کے بستر جدا کردو۔"(ابو داود،حاکم۔تلخیص)۔
            دارقطنی اور حاکم کی ایک روایت میں سات سال میں بستر کی جدائی کا حکم دیا ہے۔
بچہ جب دس سال(یا بعضوں کے نزدیک سات سال) کا ہوجائے تو والدین و بھائی بہنوں سے جدا سلانا واجب ہے جبکہ بدن پر کپڑا نہ ہو ورنہ گنجائش ہے۔

(تحفۃ الباری ملخصاً)۔

اتوار، 19 جولائی، 2015

نا محرم یا اجنبی عورت یا مرد کو دیکھنا،اس کی آواز سننا کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نا محرم یا اجنبی عورت کو دیکھنا،اس کی آواز سننا کیسا ہے؟

ایک بالغ کے لئے اجنبی عورت کے بدن کا کوئی بھی حصہ دیکھنا حرام ہے، یہاں تک کہ ناخن اور بال وغیرہ بدن سے جدا ہونے کے بعد بھی دیکھنا حرام ہے۔ اس کی آواز سننا حرام ہے،گرچہ تلاوت کی آواز ہو، جب کہ فتنہ کا خوف یا آواز سے لطف اندوز ہو،ورنہ حرام نہیں۔ اس میں اَمرد کا بھی یہی حکم ہے۔
اَمرد ایسا نو عمر لڑکا جسے ابھی داڑھی نہ آئی ہو اور غالباً داؑھی اگنے کی عمر تک نہ پہنچا ہو ۔اگر بڑی عمر کے باوجود داڑھی نہ ہو تو وہ امرد نہیں کہلائے گا
            عورت کے لئے سنت ہے کہ اجنبی سے بات کرتے وقت آواز کچھ موٹی اور بھاری نکالے یا منہ پر ہاتھ رکھے۔(قلائد)۔
آیت:  قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ (النور :۳۰)۔
ترجمہ: " آپ مسلمانوں مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے۔"(النور :۳۰)۔
احادیث: ۱۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اتفاق نگاہ کے متعلق سوال کیا، تو فرمایا: "نگاہ پھیر لو"(مسند احمد،مسلم،ابو داود،ترمذی)۔
حدیث۲:۔آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: "اے علی! ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ نہ ڈالو۔۔۔۔"(مسند احمد،ابو داود،ترمذی)۔
حدیث۳ :۔ حجۃ الوداع میں ایک عورت آپ ﷺ سے مسئلہ پوچھنے آئی تو حضرت فضلؓ اس کی طرف دیکھنے لگے، تو آپﷺ نے ان کی ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ دوسری  طرف پھیر دیا ۔۔۔۔۔(بخاری)(نیل الاوطار ۶/۱۲۸)۔
عورت کا کسی اجنبی مرد کو دیکھنا
امام نوویؒ فرماتے ہیں کے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اسے اجنبی مرد کے کسی بھی حصہ کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔
آیت:  وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ (النور :۳۱)۔
ترجمہ: اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔۔۔"(سورہ النور:۳۱)۔
حدیث: ایک مرتبہ حضرت ابن ام مکتومؓ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے حضرت ام  سلمہؓ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کو ان سے پردہ کا حکم دیا، اس پر حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا وہ تو نابینا ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، تم انہیں نہیں دیکھ رہی ہو؟"(ابو داود،نسائی،ترمذی،ابن حبان)۔
امام بلقینیؒ وغیرہ کا قول  ہے کہ فتنہ کا خطرہ نہ ہو تو اسے مرد کے چہرہ اور ہتھیلی کو دیکھنا جائز ہے۔(مغنی  ۳/۱۳۲)۔
امرد کو دیکھنا: اَمرد ایسا نو عمر لڑکا جسے ابھی داڑھی نہ آئی ہو اور غالباً داؑھی اگنے کی عمر تک نہ پہنچا ہو ۔اگر بڑی عمر کے باوجود داڑھی نہ ہو تو وہ امرد نہیں کہلائے گا۔
            شہوت کے ساتھ خوبصورت امرد کی طرف نگاہ بالاجماع حرام ہے،بلکہ شہوت کے ساتھ تو باریش شخص اور محرم عورتوں کی طرف بھی نگاہ قطعاً حرام ہے، اگر دیکھنے سے لطف اندوز ہو(لذت حاصل ہو) تو اسے شہوت کی نگاہ شمار کریں گے۔ شہوت نہ ہو، لیکن فتنہ کا اندیشہ ہو تب بھی امرد کی طرف نگاہ حرام ہے۔
            امام نوویؒ کے نزدیک شہوت اور فتنہ کے خوف کے بغیر بھی امرد کو دیکھنا حرام ہے، جبکہ وہ محرم نہ ہو، اکثر حضرات کے نزدیک اس صورت میں دیکھنا حرام نہیں۔ امرد کے ساتھ خلوت(تنہائی) یا اس کے بدن کے کسی حصہ کو چھونا بھی حرام ہے۔(اعانۃ ۳/۲۶۳)۔

(ملخصاً تحفۃ الباری)۔