آداب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آداب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 21 جنوری، 2017

بچوں کی دینی تعلیم والدین پر واجب ہے

بچوں کی دینی تعلیم والدین پر واجب ہے

امام نوویؒ نے فرمایا:

امام شافعیؒ اور ان کے اصحاب رحمھم اللہ نے والدین پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو ان باتوں کی تعلیم دے جو ان پر متعین ہوں گی بالغ ہونے کے بعد، تو ولی پر لازم ہے کہ وہ طہارت، نماز اور روزہ اور اسی طرح کے مسائل سکھائے اور اسے بتائے زنا ، لواطت ،چوری ،شراب نوشی، چھوٹ اور غیبت اور ان جیسی چیزوں کی حرمت ۔ اور اسے بتلائے کہ بالغ ہونے سے وہ شرعی احکام کا مکلف ہوجاتا ہے اور اس کو تعارف کرائے ان باتوں کا جس سے وہ بالغ ہوتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ تعلیم مستحب ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ تعلیم واجب ہے اور یہی امام شافعیؒ کی ظاہری نص ہے اور جیسا کہ اس پر اس (بچے) کے مال پر نظر رکھنا واجب ہے اور یہ بات (یعنی علم) تو  بدرجہ اولیٰ واجب ہوگا۔ اور اس سے زیادہ  جیسے قرآن، فقہ اور ادب کی تعلیم  تو یہ تعلیم مستحب ہے۔ اور اسے بتلائے کہ کیسے اس کا معاش صحیح ہوسکتا ہے۔
دلائل:  اور چھوٹے بچے کی اور مملوک کی تعلیم کے واجب ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نارا "  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، مجاھد اور قتادہ رحمہااللہ نے فرمایا :اس کا معنی ان کو سکھلاؤ جس سے وہ آگ سے نجات پاسکیں اور یہ بات واضح ہے۔

اور صحیحین میں صحیح حدیث ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ یعنی تم میں سے ہر ایک محافظ ہے اور اس سے قیامت کے دن اپنی رعایہ یعنی ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

تعلیم کی اجرت: پھر  تعلیم کی اجرت نوع اول کے لئے یعنی واجب علوم کے لئے وہ بچے کے مال سے دی جائے گی اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس پر واجب ہوگی جس پر ان کا نفقہ واجب ہے۔
رہی بات دوسری تعلیم کی تو امام ابو محمد حسین بن مسعود بغویؒ صاحب التھذیب نے اس سلسلے میں دو صورتیں ذکر کی ہیں اور ان کے علاوہ نے بھی ان کو ذکر کیا ہے ، ان دونوں میں سے صحیح  ترین یہ ہے کہ بچے کے مال سے تعلیم دی جائے اس لئے کہ وہ اس کی مصلحت اور درستگی کے لئے۔ اور جو دوسری صورت ہے وہ یہ ہے کہ ولی(سرپرست) کے مال سے دی جائے اس کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے۔


نوٹ:- جان لینا چاہئے کہ امام شافعیؒ اور ان کے اصحاب نے  ماں کو بھی بچے کی تعلیم کے وجوب میں داخل کیا ہے اس لئے کہ تعلیم بچے کی تربیت میں سے اور بچے کی تربیت کرنا ماں پر واجب ہے جیسے کہ نفقہ واللہ اعلم۔(مختصراً المجموع للنووی 1/26)

ہفتہ، 2 جولائی، 2016

ختم قرآن اور اس کے مستحب اعمال و دیگر مسائل



بسم اللہ الرحمن الرحیم


ختم قرآن اور اس کے  مستحب اعمال و دیگر مسائل


پہلا مسئلہ
ختم قرآن کا مستحب وقت:
مستحب ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنے والے کے لئے کہ اگر وہ تنہا تلاوت کر رہا ہو تو اس کو نماز میں ختم کرے۔ اور بہتر ہے کہ فجر یا مغرب کی سنت میں ختم کرے۔
مستحب ہے کہ ایک دور قرآن کا دن کی شروعات میں ختم کرے تو دوسرا دور دن کے آخر میں ختم کرے۔
جو نماز کے باہر قرآن ختم کرتے ہیں مستحب ہے کہ وہ اپنے ختم کو دن کی شروعات میں یا رات کی شروعات میں ختم کرے۔
دوسرا مسئلہ:-
ختمِ قرآن کے دن روزہ رکھنا:
مستحب ہے کہ ختم قرآن کے دن روزہ رکھے؛ ہاں اگر وہ دن قرآن ختم ہو جس دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تو روزہ نہ رکھے(مثلا عیدین وغیرہ)۔
ابن ابی داود رحمہ اللہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ
"طلحہ بن مطرف، حبیب بن ابی ثابت اور مسیب بن رافع کوفہ کے تابعین رضی اللہ عنھم اجمعین، وہ سب جس دن قرآن ختم کرتے اس دن روزہ رکھتے۔"
تیسرا مسئلہ:-
ختمِ قرآن کی مجلس میں شریک ہونا:
ختم قرآن کی مجلس میں شریک ہونا بہت زیادہ مستحب ہے؛ چنانچہ صحیحین میں ثابت ہے کہ
"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض والی عورتوں عید کے دن نکلنے کا حکم دیا تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں۔"
دارمی اور ابن ابی ابو داود نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ انہوں نے ایک آدمی کو ایک قرآن پڑھنے والے آدمی کی نگرانی پر رکھا تھا تو جب وہ قاری قرآن ختم کرنے والا ہوتا تو یہ آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خبر دیتا تو آپ اس میں شریک ہوتے۔"
اور ابن ابی داود دو صحیح سندوں سے روایت کرتے ہیں کہ جلیل القدر تابعی قتادہ جو انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، فرماتے ہیں:
"جب انس بن مالک  رضی اللہ عنہ قرآن ختم فرماتے اپنے گھر والوں کو جمع کرتے اور دعا کرتے۔"
اور انہوں نے صحیح سندوں سے جلیل القدر تابعی  حکم بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے  کہ انہوں نے فرمایا:
"مجاھد اور عتبہ بن لبابہ رحمہما اللہ نے مجھے بلا بھیجا، ان دونوں نے فرمایا:
"ہم نے آپ کو اس لئے بلا بھیجا ہے کہ ہم قرآن ختم کرنے والے ہیں؛ اور ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔"
اور بعض صحیح روایتوں میں ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے:
" بے شک ختم قرآن کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔"
اور انہوں نے صحیح سند سے مجاھد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ وہ فرماتے ہیں:
"وہ لوگ ختم قرآن کے وقت جمع ہوتے تھے؛ وہ سب کہتے ہیں:  رحمت نازل ہوتی ہے"
 چوتھا مسئلہ:-
ختمِ قرآن کے بعد دعا قبول ہوتی ہے:
ختم قرآن کے فورا ً بعد دعا کرنا بہت زیادہ مستحب ہے جیسا کہ اوپر والے مسئلہ میں ہم نے ذکر کیا۔
دارمی نے اپنی سند سے  حمید الاعرج (تابعی)  سے نقل کیا، فرمایا:
"جو قرآن ختم کرے اور دعا کرے تو اس کی دعا پر چار ہزار (4000) فرشتے آمین کہتے ہیں۔
مناسب ہے کہ وہ الحاح یعنی اصرار کے دعا کرے، اور اہم امور کے متعلق دعا کرے؛ اور مسلمانوں اور ان کے سلطان اور تمام ان کے امور کے والیوں کے لئے  زیادہ سے زیادہ دعا کریں۔
امام حاکم ابو عبد اللہ نیساپوری اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ(مشہور محدث) جب قرآن ختم کرتے تو بہت زیادہ دعا مسلمانوں، مومنوں اور مومنات کے لئے کرتے ۔
اور اس جیسا ان کے علاوہ نے بھی کہا ہے؛
نوٹ:- دعا کرنے والے کو چاہئے کہ جامع دعائیں کریں۔
پانچواں مسئلہ:-
قرآن کے ختم ہونے کے بعد دوسرا دور فوراً شروع کرلیں:
مستحب ہے کہ جب ختم سے فارغ ہو تو فوراً دوسرا دور کی تلاوت شروع کرلے، سلف صالحین نے اسے مستحب کہا ہے اور ان لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" بہترین اعمال حل اور رحلہ ہیں۔
کہا گیا وہ دونوں کیا ہیں؟
فرمایا: قرآن کا شروع کرنا اور اس کا ختم کرنا ہے۔"
          ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
(التبیان فی آداب حملة القرآن للنووي 158-162 ،ملخصا)
فرحان باجري الشافعی۔

جمعرات، 19 مئی، 2016

اللہ اعلم کہنا بھی علم ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ اعلم کہنا بھی علم ہے
السلام علیکم، بہت سے لوگ جو یوٹیوب و سوشل میڈیا میں بہت سا دینی کام اور ریسیرچ پیش کرتے ہیں اور بہت سی باتوںمیں لوگوں کو غلط بات سے دور رکھتےہیں ، بے شک ان کی نیت کی بقدر ان کو اجر ملے گا لیکن اگر وہ بنیادی باتیں اگر معلوم کر لیتے تو بہتر ہوتا تھا۔ بہت سے مبلغین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مفتی بنے بیٹھتے ہیں یا وہ ایسی باتوں میں جس کا انہیں علم نہیں ہے بغیر سوچے سمجھے اس کے بارے میں سوال ہوتے ہی  جواب دی دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ ان کو اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا ہے۔ اور اس سے وہ حدیث کی رو سے جھوٹو ں میں شمار ہوجاتے ہیں کیوں کہ مسلم شریف کی مشہور حدیث ہے کہ "آدمی کا جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات(بغیر تحقیق کے ) دوسروں تک  پہنچا دے۔
یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہر سوال کا برجستہ جواب دینا اور سوال ہوتے ہی جواب دیدینا یہ کمال نہیں ہے۔ اگر آپ کو کسی بات پر علم نہیں تو آپ وقت لے سکتے ہیں اور اس کے بارے میں تحقیق کر کے جواب دے سکتے ہیں اس میں کوئی قباحت کی بات نہیں، جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے سوال کیا جاتا تو اکثر وہ لا ادری(مجھے علم نہیں ) کہتے تھے، اسی طرح امام مالک بن انسؒ سے 48 مسائل پوچھے گئے تو ان میں سے انہوں نے 32 مسائل کے بارے میں لا ادری کہا۔ نیز سفیان بن عیینہ ؒ اور سحنون بن سعیدؒ دونوں نے فرمایا، فتویٰ دینے میں وہ شخص زیادہ دلیر ہوتا ہے جو علم میں کم ہوتا ہے۔(فتاویٰ ابن الصلاحؒ جلد 1 صفحہ 12-13)
اور مزید محدثین و فقہاء کے اقوال کو محدث ابن الصلاحؒ نے اپنی اس کتاب میں نقل کیا ہے۔
اب ہمیں سونچنا چاہئے کہ ان بڑے بڑے مجتھدین و محدثین اکثر لا ادری کہتے تھے تو آج کل کے مترجم کتابیں ہم پڑھ کر کیا ہر بات کا جواب دے سکتے ہیں۔
چاہئے کہ تحقیق کریں اور جواب دیں اور عوام الناس کو بھی چاہئے کہ وہ ماہر علماء سے مسائل کو دریافت کریں۔ اور عوام کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ہر بات کا فوراً جواب دینا یہ کوئی کمال نہیں اگر ہوتا تو صحابہ کرامؓ اور مجتھدین و محدثین کیا باکمال نہیں تھے؟؟؟
قرآنِ کریم آپ پڑھیں کئی جگہ پر آپ کو آیت ملے گی "یسئلونک۔۔۔۔" یعنی لوگ آپ سے سوال کرتےہیں۔۔۔۔ یہ وہ آیتیں جس کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا گیا تھا آپﷺ نے توقف فرمایا اور وحی کے منتظر رہے۔ اسی طرح سورہ کہف اور دیگر سورتیں جن کا شانِ نزول آپ ﷺ سے سوال کیا جانا ہے۔
تو ہمیں یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہئے کہ ہر سوال کا جواب دینے والا باکمال نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے بارے میں تحقیق کر کے جواب دینا اگرچہ اس میں دیر لگے یہ کمال ہے۔ اور کسی بات کا جواب معلوم نہ ہونا اور اس وقت اس کا جواب  نہ دینا ، نہ یہ شرم کی بات ہے نہ کم علمی ، کی بات ہے، بلکہ اس وقت جواب نہ دینا اور تحقیق کر کے جواب دینا یہ تقویٰ اور دیانت داری کی بات ہے۔ جیسا کہ اس حدیث شریف میں ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أعلم فَإِن من الْعلم أَن يَقُول لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ (قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنا من المتكلفين)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (لوگوں کو مخاطب کرکے) کہا۔ لوگو! تم میں سے جو شخص کسی بات کو جانتا ہو وہ اس کو بیان کردے اور جو نہ جانتا ہو اس کی نسبت وہ کہہ دے کہ اللہ ہی جانتا ہے اس لئے کہ جس چیز کا اس کو علم نہیں ہے اس کی نسبت اللہ اعلم( اللہ بہتر جانتا ہے) کہنا بھی علم کی ایک قسم ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے واسطے فرمایا   یعنی میں اس قرآن پر تم سے کوئی اجرت یا بدلہ نہیں مانگتا اور اس میں تکلف کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔(بخاری و مسلم از مشکاۃ المصابیح کتاب العلم فصل الثالث حدیث نمبر272 )

یہ سب باتیں لکھنے کی وجہ ایک ویڈیو بنی ہے جس میں اڈوکیٹ فیض صاحب نے سوال پر بالکل واقعہ کے خلاف جواب دیا ہے اسی طرح بہت سی مرتبہ میں نے ڈاکڑ ذاکر نائک کو بھی دیکھا ہے کہ وہ فوراً جواب دینے میں غلطی کرتے ہیں اور فوراً جواب دینا لوگ کمال سمجھتے ہیں، بلکہ یہ کمال نہیں ہے۔ اسی طرح بعض تبلیغی بھائی بھی وقت لگا کر آکر فتویٰ دینا شروع کردیتے ہیں چاہئے کہ وہ بھی اس سے بچیں۔ اور فیس بک وغیرہ پر تو بہت سے مفتیانِ کرام پھرتے ہیں چاہئے کہ ہم بھی بچیں اور معتبر ذرائع یعنی ماہر علماء سے معلوم کریں۔
ویڈیو کی لنک یہ ہے 
اور ہم نے اصل جو حدیث اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ذہن میں آئی تھی اس کو رومن بھی کردیا وہ آخر میں لکھی ہے۔ اور مضمون ذہن میں آتے گیا تو وہ طویل ہوگیا۔


Hazrat Abdullah bin Masood razi Allahu nahu se riwayat hai ke unho ne kaha: Logo! Tum me se jo Shakhs kisi baat ko jaanta ow wo usko bayan karde aur jo na jaanta ho as ki nisbat wo keh de ke “Allah hi Jaanta hai”  is liye ke jis cheez ka us ko Ilm nahi hai uski Nisbat ALLAHU ALAM  (Allah Behter Janta hai) kehna bhi ILM ki ek Qism hai, Chunache Allah Ta’ale ne Apne Nabi ke waste farmaya “IS QURAN PAR TUM SE KOI UJRAT YA BADLA NAHI MAANGTA AUR US ME TAKALLUF KARNE WALE LOGON ME SE NAHI HUN.(BUKHARI O MUSLIM AZ MISHKAT KITABUL ILM FASL 3 HADEES NO 272)

منگل، 26 اپریل، 2016

باب الاستبابۃ(استنجاء کا بیان)

باب الاستبابۃ(استنجاء کا بیان)
واسع بن حبانؒ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں انہوں نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں جب حاجت کے لئے بیٹھو تو قبلہ کی طرف رخ کر کے مت بیٹھو اور نہ ہی بیت المقدس کی طرف رخ کرو، اور یقیناً میں ہمارے ایک گھر پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو اینٹوں پر بیٹھے دیکھا بیت المقدس کی جانب رخ کئے ہوئے اپنی حاجت پوری کرتے ہوئے۔(متفق علیہ)[1]
2۔ ابو ایوب(خالد بن زید) انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء کو آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے اور نہ اس کی جانب پیٹھ کرے نہ یہ بول(پیشاب) کے لئے اور نہ ہی باپئخانہ کے لئے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب رخ کرو۔[2]
3۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا:  میں نبی  کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"ائے مغیرہ! پانی  کا برتن لے لو ،تو میں نے اس کو لے لیا پھر میں آپ ﷺ کے ساتھ نکلا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے یہاں تک کے مجھ سے غائب ہوگئے پھر آپنے قضاءحاجت کی۔[3]

4۔ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
" تم میں سے کوئی ہرگز ایسے کھڑے ہوئے پانی میں  جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کیا جائے۔[4]
5۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا گذر دو قبروں کے پاس سے ہوا، اور فرمایا: بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے، اور ان دونوں کی کسی بڑی بات پر عذاب نہیں دیا جارہا ہے، (بلکہ) ان میں سے ایک پیشاب(کے چھینٹوں ) سے نہیں بچتا تھا اور رہی بات دوسرے کی تو وہ چغل خوری کرتا پھرتا تھا، پس آپ ﷺ نے ایک تازی (کھجور کی)ٹہنی لی پھر اس کو آدھا آدھا کیا  پھر ان میں سے ہر ایک کو ایک قبر میں لگایا(دھنسایا) تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے یہ کیوں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید(تاکہ) کہ ان دونوں پر (عذاب) ہلکا کیا جائے جب تک یہ دونوں(ٹہنیاں) خشک نہ ہو۔[5]
6۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو فرماتے:
"اللہم انی اعوذبک من الخبث والخبائث" یعنی اے اللہ میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں خبیث مذکر و مؤنث جنات سے۔"[6]
7۔ اور انہی (انس رضی اللہ عنہ )سے مروی ہے،فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہوتے، پس میں اور ایک غلام(لڑکا)  ایک پانی کا برتن لیتے اور ایک عنزہ (لکڑی جس کے نیچے لوہا لگا ہو) لیتے پس آپ ﷺ پانی سے استنجاء فرماتے۔"[7]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی  ڈھیلوں سے استنجاء کرے تو چاہئے کہ وہ طاق عدد (استعمال) کرے۔[8]
9۔ ابو قتادہ حارث بن رِبعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
" تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو پیشاب کرتے وقت اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے ، اور خلاء  میں اسے اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چہوئے اور نہ ہی برتن میں سانس لے۔[9]

(البلغة فی احادیث الاحکام لابن الملقنؒ)




[1]  متفق علیہ، بخاری ۱۴۸،۱۴۹ فی الوضوء: باب التبرز فی البیوت، مسلم ۲۶۶ فی الطہارۃ : باب الاستطابہ، واللفظ لمسلم۔
[2] متفق علیہ، بخاری ۳۹۴ فی الصلاۃ: باب قبلۃ اھل المدینة والشام والمشرق، مسلم ۳۶۴ فی الطھارۃ: باب الاستطابۃ ،واللفظ لہ۔
[3] متفق علیہ، بخاری ۱۸۲ فی الوضوء: باب الرجل یوضیء صاحبہ ۔ ۲۰۳،۲۰۶،۳۶۳،۳۸۸،۲۹۱۸،۴۴۶۱،۵۷۹۸،۵۷۹۹، مسلم ۲۷۳ فی الطہارۃ: باب المسح علی الخفین۔
[4] متفق علیہ، بخاری ۲۳۹ فی الوضوء : باب البول فی الماء الدائم،۸۷۶،۸۹۶،۲۹۵۶،۶۶۲۴،۶۸۸۷،۷۰۳۶،۷۴۹۵، مسلم ۲۸۲ فی الطہارۃ: باب النھی عن البول فی الماء الراکد
[5] متفق علیہ، بخاری ۲۱۶ فی الوضوء: باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ، ۲۱۸،۱۳۶۱،۱۳۷۸،۶۰۵۶،۶۰۵۵ ، واللفظ لہ، مسلم ۲۹۲ فی الطہارۃ: باب الدلیل علی نجاسۃ البول الخ
[6] متفق علیہ، بخاری ۱۴۲ فی الوضوء: باب ما یقول عند الخلاء، مسلم ۳۷۵ فی الحیض: باب ما یقول اذا  اراد دخول الخلاء
[7] متفق علیہ، بخاری 1۵۲ فی الوضوء: باب حمل العنزۃ مع الماء فی الاستنجاء، مسلم ۲۷۱ فی الطھارۃ، باب الاستنجاء بالماء فی التبرز۔
[8]  متفق علیہ، بخاری ۱۶۱،۱۶۲ فی الوضوء: باب الاستجمار وتراً، مسلم ۲۳۷ (۲۰ ) واللفظ لہ۔
[9] متفق علیہ، بخاری ۱۵۳،۱۵۴ فی الوضوء: باب لا یمسک ذکرہ بیمینہ اذا بال، ۵۶۳۰، مسلم ۲۶۷(۶۳) فی الطہارۃ: باب النھی عن الاستنجاء بالیمین واللفظ لہ۔

جمعہ، 24 جولائی، 2015

سلام و ملاقات کے متفرق مسائل

سلام و ملاقات کے متفرق مسائل


مسئلہ ۱۔ کسی گروہ میں بعض کی تخصیص کر کے سلام کرنا یا جواب دینا مکروہ ہے۔
۲۔عجمی(غیر عربی) زبان میں سلام کرنا جائز ہے جب کہ مخاطب سمجھے، گو عربی میں سلام کرنے پر قادر ہو اور اس سلام کا جواب فرض ہے کیوں کہ یہ بھی سلام ہی کہلائے گا۔
۳۔کسی ذمی(غیر مسلم) کو سلام کرنا حرام ہے، اگر سلام کے بعد پتہ چلا کہ وہ ذمہ ہے تو اس سے یہ کہنا مستحب ہے: میں نے اپنا سلام واپس لیا یا میرا سلام لوٹا دو۔
۴۔اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی غیر مسلم بھی ہو تو سلام کرتے وقت دل میں اس کا استثناء کرے۔
۵۔کسی گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہنا سنت ہے۔
۶۔ انسانوں سے خالی کسی جگہ داخل ہو تو یہ کہنا مستحب ہے: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ
۷۔ بلا عذر سلام کے علاوہ کسی دوسرے الفاظ سے ابتداء نہ کرے: مثلاً صبھ بخیر، اور ان الفاظ کا جواب واجب نہیں ہے، اگر جواب میں دعا دے تو بہتر ہے البتہ اس کے سلام نہ کرنے کی وجہ سے تادیباً جواب نہ دینا بہتر ہے۔
۸۔ أَطَالَ اللَّهُ بَقَاءَكَ  (اللہ تمہیں طویل زندگی دے) کے ذریعہ کسی بزرگ،صاحبِ علم یا عادل حکمراں کے لئے دعا دینا بہتر ہے ورنہ مکروہ ہے۔
۹۔ کسی سے  ملاقات پر پشت جُھکانا مکروہ ہے، کسی کی دینی فضیلت مثلاً: زہد و تقوی وغیرہ کی وجہ سے اس کا ہاتھ چومنا (بوسہ لینا) مستحب ہے، مال و دولت اور جاہ وغیرہ کی وجہ سے مکروہ ہے، کمسن بچہ کے گال کا بوسہ لینا گو دوسرے کا بچہ ہو مستحب ہے، نیز اپنے اصول و فروع کا شفقت و رحمت سے بوسہ لینا مستحب ہے۔ تبرکاً کسی نیک میت کے چہرہ کا بوسہ لینے میں حرج نہیں۔
۱۰۔ آنے والے میں کوئی ظاہری فضیلت ہو مثلاً :علمِ، دین داری، شرف، باپ دادا وغیرہ ہونا تو اکرام و احترام کے طور پر اس کے لئے کھڑا ہونا مستحب ہے، نہ  کہ ریا و بڑائی کے طور پر۔ آنے والے کو یہ تمنّا کرنا کہ لوگ مجھے دیکھ کر کھڑے رہیں یعنی وہ بیٹھ جائے اور دیگر لوگ کھڑے رہیں جیسا کہ جابروں کی عادت ہوتی ہے، حرام ہے۔
۱۱۔ ملاقات کے وقت بشاشت کے ساتھ مصافحہ اور مغفرت وغیرہ کی دعا مستحب ہے۔
۱۲۔ کسی کے گھر جانا ہو اور دروازہ بند ہو، تو سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام کرے، پھر اجازت چاہے اگر جواب نہ ملے تو تین مرتبہ اس عمل کو دوہرائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ لوٹ جائے، اگر اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے؟ تو اپنا نام وغیرہ لے کر صراحت کرے کہ وہ پہچان سکے ، میں فلاں شیخ یا فلاں قاضی ہوں کہنا، یا اپنی کنیت بیان کرنے میں حرج نہیں جب کہ اس کے بغیر پہچانا نہ جائے۔ صرف میں ہوں یا خادم ہے وغیرہ کہنا مکروہ ہے۔
۱۳۔ نیک حضرات، پڑوسی جو کہ بدکار نہ ہوں، بھائی بند اور رشتہ داروں کی ملاقات اور ان کا اکرام کرنا مستحب ہے، اس طور پر کہ نہ اسے پریشانی ہو اور نہ انہیں۔ ان سے اپنی ملاقات کا مطالبہ بھی مستحب ہے۔ مریض کی عیادت مستحب ہے۔
۱۴۔ چھینک آئے تو ہاتھ یا کپڑا وغیرہ منہ پر رکھنا، اور حتی الامکان آواز پست کرنا مستحب ہے۔ چھینک کے بعد اَلْحَمْد ُلله  کہے، اگر نماز میں ہے تو آہستہ کہے، اگر پیشاب یا صحبت وغیرہ کر رہا ہو تو دل میں کہے۔ چھینکنے والا اَلْحَمْد ُلله کہے تو تین مرتبہ تک اسے جواب دے یعنی يَرْحَمُكَ الله(اللہ تجھ پر رحم فرمائے) کہے اور چھینکنے والا جواب میں کہے   يَهْدِيكُمْ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ  ( اللہ تمہیں ہدایت بخشے اور تمہارے احوال درست کرے) یا کہے : يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ (اللہ ہمیں اور تمہیں بخش دے) دونوں جو جمع کرنا بہتر ہے کوئی ،
حدیث: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو چاہئے کہ وہ کہے: "الحَمْدُ لِلَّهِ" اور اس کا بھائی یا صاحب اس کو کہے(جواب دے):" يَرْحَمُكَ اللَّهُ" پس جب اس  کو  يَرْحَمُكَ اللَّهُ کہا جائے تو چاہئے کہ وہ کہے:" يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ"(صحیح بکاری 6224)
حدیث ۲: آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی چھینکے تو چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد بیان کرے(الحمد للہ  کہے)  راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بعض محامد بیان کئے اور فرمایا اور جو اس کے پاس ہو اس کو کہنا چاہئے:" يرحمُك اللهُ" اور  یہ ان کو جواب دے"يغفرُ الله لنا ولكم"(سنن ابی داود 5031، سنن کبریٰ نسائی 9982،مستدرک حاکم)
بہت چھینکنے والے کا حکم:- کوئی مسلسل تین سے زائد مرتبہ چھینکے تو بعد میں جواب سنت نہیں، بلکہ کہے کہ آپ کو زکام ہے اور اسے عادفیت کی دعا دے۔
 جو شخص چھینکنے والے سے پہلے ہی کہے وہ دانت،پیٹ اور کان درد سے محفوظ رہے گا۔
۱۵۔جمائی نا پسندیدہ ہے حتی الامکان اسے روکنے کی کوشش کرے، نہ رکے تو ہاتھ وغیرہ سے منہ چھپائے۔ آہ کرتے ہوئے منہ کھول کے اطمینان سے جمائے لینے کی مذمت وارد ہوئی ہے اور اس ہیئت سے شیطان خوش ہوکر ہنستا ہے۔
حدیث: آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتے ہیں اور جمائی کو برا سمجھتے ہیں تم میں سے جس شخص کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو ہر اس مسلمان کا جو چھینک کو سنے یہ فرض ہے کہ وہ جواب میں یرحمک اللہ کہے اور جمائی شیطان کا فعل ہے تم میں سے جس کو جمائی آئے تو جس حد تک ممکن ہو اُسے روکے اس لئے کہ جب کسی شخص کو جمائی آتی ہے تو شیطان دیکھ کر ہنستا ہے۔(مشکوٰۃ از بخاری  ) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تم میں سے جب کوئی "ہا" کہتا ہے یعنی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔(مشکوٰۃ  باب العطاس والتثاؤب)
۱۶۔ کسی سے اللہ کے لئے محبت ہو تو اسے اس کی اطلاع دینا مستحب ہے جو اپنے حسن ساتھ سلوک سے پیش آئے اسے دعا دے۔ جلیل القدر عالم یا بزرگ شخصیت کو اس طرح کہنے میں حرج نہیں: فِداکَ اَبی واُمِّی(میرے والدین آپ پر قربان)

(ملخصاً تحفۃ الباری ۳/۱۸۹-۱۹۰)