منگل، 15 مئی، 2018

روزے کے ارکان


روزے کے ارکان

روزے کے ارکان جن کو فرائض بھی کہا گیا ہے وہ چار ہیں۔
1۔ نیت:
نیت دل سے ہے، زبان سے اظہار کیا جائے یا نہ کیا جائے، نیت کی تبییت یعنی رات میں ہی پایا جانا ضروری ہے سگر وہ فرض یا نذر کا روزہ ہو۔
 نفل روزے میں تبییت کی قید نہیں ہے۔ فرض روزے میں روزے کا تعین بھی واجب ہے۔ جیسا کہ رمضان کا روزہ۔
رمضان کے روزے کی اقل (کم از کم) نیت یہ ہے،" نَوَيْتُ صَوْمَ رَمَضَانَ "( میں رمضان کے روزہ کی نیت کرتا ہوں) اور اکمک نیت یہ ہے
 نَوَيْتُ صَوْمَ غَدٍ عَنْ اَدَاءِ فَرْضِ شَهْرِ رَمَضَانَ هٰذِهِ السَّنَةَ  لِله تَعَالٰى (میں اس کے رمضان کے کل کے روزے کی اللہ تعالی کے لیے نیت کرتا ہوں)
2۔ عمدا کھانے پینے سے پرہیز کرنا، بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کھائے یا پیے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بشرطیکہ ناواقفیت علماء سے دوری کی وجہ سے ہو۔
3۔ جماع سے پرہیز کرنا۔ بھول کر جماع کا حکم وہی ہے جو کھانے پینے کا ہے۔
4۔ عمداً قئے کرنے سے پرہیز کرنا، اگر اپنے سے قئے ہو جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔( المتوسط احمد جنگ ص  113)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں