اعتکاف کا سنت وقت
امام نووی شافعیؒ فرماتے ہیں
اعتکاف سنت ہے اجماعاً، صرف نذر کی وجہ سے اعتکاف واجب ہوتا
ہے۔ اور کثرت کرنا مستحب ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی سنیت و استحبابیت اور
مو ٔکد ہوجاتی ہے، مذکورہ احادیث کی وجہ سے، اور پچھلے باب یعنی لیلۃ القدر کے باب
اس کی تلاش میں اور امید میں۔ امام شافعیؒ اور فقہاء شوافع کہتے ہیں جو رمضان کے
آخری عشرہ میں اعتکاف میں نبی کریم ﷺ کی اقتداء و اتباع کرنا چاہتا ہے تو اس کے
لئے مناسب ہے کہ وہ مسجد میں 21ویں تاریخ کے غروبِ شمس سے پہلے داخل ہوجائے، اور
عید کی رات (چاند رات) کے غروب کے بعد نکلے تاکہ اس سے کوئی چیز نہ چھوٹے چاہے
مہینہ مکمل ہو (30 کا) یا ناقص ہو (29 کا)۔ اور افضل ہے کہ عید کی رات مسجد ہی میں
رہے یہاں تک کہ اس میں عید کی نماز پڑھ لے یا وہاں سے عید گاہ کی طرف نکلے عید کی
نماز کے لئے اگر عید گاہ میں عید کی نماز ہورہی ہو۔ (ملخصاً من المجموع شرح المھذب
6/475)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں