منگل، 26 اپریل، 2016

کھانے پینے کے اذکار و آداب

کتاب اذکار الاکل والشرب
جب کسی کے کھانا قریب کیا جائے تو کیا کہنا چاہئے اس کا بیان:
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ روایت کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ سے کھانا قریب کیا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے تھے:
" اللَّهُمَّ بارِكْ لَنا فِيما رَزَقْتَنا، وَقِنا عَذَابَ النَّارِ، بسم الله ".(رواہ ابن السنی)
کھانا پیش کرنے کے وقت مستحب ہے میزبان کے لئے کے وہ اپنے مہمانوں سے کہا: کھائیے یا اسی طرح جو اس معنیٰ میں ہو۔
            جان لو کے مستحب ہے کھلانے والے کے لئے کہ وہ اپنے مہمانوں سے کہے کھانا پیش کرتے وقت: بسم اللہ یا کھائیے، یا الصلاۃ(اجازت ہے) یا اسی طرح واضح اجازت کی عبارت کہیں کھانا شروع کرنے میں، اور واجب نہیں ہے یہ کہنا بلکہ صرف ان کی طرف کھانا پیش کرنا کافی، اور ان کو چاہئے خالی اس میں سے کھائیں بغیر کسی شرطیہ الفاظ کے، اور ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا: کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، پہلا قول صحیح ہے۔
651 احادیث صحیحہ میں جو اجازت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں اس معاملہ میں ان کو استحباب پر محمول کریں گے۔
کھاتے اور پیتے وقت بسم اللہ پڑنے کا بیان
652۔ عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے فرمایا: اللہ کا نام لو(یعنی بسم اللہ کہو) اور سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔(بخاری و مسلم)
653۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو چاہئے کے اس کے شروع میں اللہ تعالیٰ کا نام لے، پس اگر وہ شروع میں اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے تو چاہئے کے وہ کہے: امام ترمذی نے فرمایا: بسم اللَّهِ أوَّلَهُ وآخِرَهُ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ابو داود و ترمذی)
654۔ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے پھر اللہ کا ذکر کرتا ہے اپنے داخل ہوتے وقت اور اپنے کھانے کے وقت، شیطان کہتا ہے: نہ تمہارے رات گذارنے کی جگہ ہے اور نہ ہی رات کا کھانا ہے، اور جب داخل ہوتا ہے پھر اللہ کا ذکر نہیں کرتا اپنے داخل ہوتے وقت، شیطان کہتا ہے: تم میں رات گذارنے کی جگہ پالی ہے، اور جب اپنے کھانے کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، شیطان کہتا ہے: تم نے رات گذارنے کی جگہ اور رات کا کھانا پالیا ہے۔(مسلم)

655۔ انس رضی اللہ عنہ کی روایت جو اللہ کے رسول ﷺ کے معجزاتِ میں سے ایک  واضح معجزہ ہے، جب آپ ﷺ کو ابو طلحہ اور ام سُلیم رضی اللہ عنہما نے کھانے کے لئے بلایا، فرمایا: آپ ﷺ نے فرمایا: دس لوگوں کی اجازت دو، تو ان کی اجازت دی تو وہ سب داخل ہوئے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کھا‍ؤ اور اللہ تعالیٰ کا نام لو، تو ان سب نے کھایا یہاں تک کہ ایسا ۸۰ لوگوں نے کیا۔"(صحیح مسلم)
(کتاب الاذکار للنوویؒ)
جاری

تفسیر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم

الام: باب (التعوذ بعد الافتتاح)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
اللہ تعالی نے فرمایا: "سو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔"
(سورہ النحل 98)
 ہمیں ربیع نے خبر دی ، انہیں امام شافعی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں ابراھیم بن محمد نے خبر دی وہ سعد بن عثمان سے روایت کرتے ہیں وہ صالح بن ابو صالح سے، انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ لوگوں کی امامت کر رہے تھے جھراَ  فرائض میں یہ دعا پڑھتے تھے (جب وہ سورہ فاتحہ سے فارغ ہوتے تھے)
ربنا إنا نعوذ بك من الشيطان الرجيم
ترجمہ:"اے ہمارے پروردگار ہم تیری پناہ  اور حفاظت میں آتے ہیں شیطان مردود سے بچنے کے لئے۔"
-(یعنی ضمّی سورہ سے پہلے پڑھتے تھے)

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما تعوّذ اپنے دل میں پڑہتے تھے یعنی سراً۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آدمی دونوں میں سے جو بھی کرے صحیح ہے، چاہے جھراً کہے یا سراً۔
اور ان میں سے بعض تعوّذ نماز کے شروع میں پڑھتے تھے یعنی سورہ فاتحہ سے پہلے، اور میں(امام شافعی)  بھی یہی کہتا ہوں۔ اور مجھے پسند ہے کے کہا جائے
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
اور جب اللہ سے پناہ مانگے شیطان مردود سے تو جس کلام سے بھی پناہ لے وہ جائز ہے۔
اور وہ اسے کہے پہلی رکعت میں۔
اور کہا جاتا ہے: اگر اسے یعنی تعوّذ کو ہر رکعت کے شروع میں قراۃ سے پہلے پڑھا جائے  تو بہتر ہے، اور اس بارے میں نماز میں کسی بات کا حکم نہیں دیا جاتا، میں اسے پہلی رکعت میں پڑھنے کا حکم دیتا ہوں۔
اگر تعوّذ  پڑھنا چھوڑ دے بھول کر یا لا علمی کی وجہ سے یا عمداً تو اس کے اعادے (لوٹانے) کی ضرورت نہیں اور نہ ہی سجدہ سہو کی ضرورت ہے۔ اور میں عمداً چھوڑنے کو نہ پسند کرتا ہوں۔ اور میں پسند کرتا ہوں کے اگر کوئی اسے یعنی تعوّذ کو پہلی رکعت میں چھوڑ دے تو اسے دوسری رکعات میں پڑھ لے، اور مجھے اس کے اعادہ کا حکم دینے سے یہ حدیث منع کر  رہی ہے: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کو نماز میں جو چیزیں  کافی ہے وہ سکھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تکبیر کہو پھر ام قرآن(سورہ فاتحہ) پڑھو۔۔۔۔۔۔۔ الحدیث۔
امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو تعوّذ کا اور نہ ہی افتتاح کا، تو یہ دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا افتتاح اختیاری تھا، اور اگر تعوّذ کو چھوڑا جائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی۔

مختصر مزنی:
باب صفۃ الصلاۃ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دعا استفتاح پڑھنے کے بعد – پھر تعوّذ پرھے تو کہے:
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
پھر ترتیل کے ساتھ امّ قرآن یعنی سورہ فاتحہ پڑھے۔
احکام القرآن:
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
اللہ تعالی نے فرمایا :
سو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو(سورہ النحل 98)
شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور مجھے پسند ہے کے میں پڑھوں جب نماز شروع کروں امّ القرآن سے پہلے
 أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ۔۔۔
اور جو کوئی بھی کلام ہو جس سے پناہ لی جائے (شیطان مردود سے اللہ کی) تو وہ جائز ہے۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ان اسناد کو املاء کراتے  ہوئے: پھر شروع کرے پھر تعوّذ پڑھے اور کہے:
أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم
یا

أعوذ بالله أن يحضرون.
( تفسير الإمام الشافعي)

نماز جنرل معلومات(متن ابی شجاع)

فرائض کی  سترہ رکعتیں ہیں اس میں ۳۴سجدہ ہیں اور ۹۴ تکبیرات ہیں اور نو تشہدات ہیں اور دس سلام ہیں اور ۱۵۳ تسبیحات ہیں اور نماز کے جملہ ۱۲۶ ہیں اور رباعیات( چار رکعات والی نمازوں) میں ۵۴ ارکان ہیں۔

جو شخص فرض نماز میں قیام سے عاجز ہو تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے اور جو بیٹھنے سے عاجز ہو وہ پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھے۔

جن چیزوں سے نماز باطل ہو جاتی ہے (متن ابی شجاع)

جن چیزوں سے نماز باطل ہو جاتی ہے وہ گیارہ ہیں:
۱۔عمداً کلام کرنا
۲۔عملِ کثیر،
۳۔حدث (بے وضو ہونا)،
۴۔نجاست کا لگ جانا،(حدوث النجاسۃ)،
۵۔ ستر کا کھلنا،
۶۔نیت کا بدل جانا،
۷۔ قبلہ کو پیٹھ کرنا،
۸۔ کھانا
۹۔پینا
۱۰۔ قہقہہ لگانا اور

۱۱۔ مرتد ہونا

مرد و عورت کی نماز میں فرق (متن ابی شجاع)

عورت پانچ چیزوں میں مرد سے الگ کرے گی۔
۱۔ مرد اپنی کہنیوں کو اپنے پہلؤوں سے الگ رکھے گا
۲۔ اپنے پیٹ کو اپنی ران سے الگ رکھے گا رکوع اور سجدوں میں
۳۔ جہری نمازوں میں جہر کرے گا،
۴۔ اور جب نماز میں کسی چیز سے متنبہ کرنا ہو تو تسبیح کہنا ۔
۵۔ مرد کا ستر ناف اور گھٹنوں کے درمیان ہے۔
اور عورت اپنے بعض حصہ کو بعض سے ملائے گی اور اجنبی (نا محرم)مردوں کی موجودگی میں اپنی آواز کو پست رکھے گی، اور جب کسی کو متنبہ کرنا ہو تو تصفیق کرے گی(یعنی دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر مارے گی)

اور پورا جسم آزاد عورت کا ستر ہے سوائے اس کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے اور باندی کے احکام مرد کی طرح۔

نماز کے ارکان، شرائط اور سنتیں (متن ابی شجاع)

نماز میں داخل ہونے سے پہلے اس کی شرطیں پانچ ہیں

۱۔ اعضاء کا پاک ہونا حدث اور نجاست سے،
۲۔ ستر کا چھپانا پاک لباس سے،
۳۔ پاک جگہ پر ٹھہرنا،
۴۔ وقت کے داخل ہونے کا علم ہونا اور
۵۔ قبلہ کی  طرف رخ کرنا۔
دو حالتوں میں قبلہ کی طرف رخ نہ کرنا جائز ہے،
۱۔ شدتِ خوف کے وقت اور
۲۔ سفر میں سواری پر نماز پڑھنے کے وقت۔
فصل:

نماز کے ارکان اٹھارہ ہیں:

۱۔نیت،
۲۔قیام پر قدرت ہونے پر قیام کرنا،
۳۔ تکبیرِ تحریمہ،
۴۔ سورہ فاتحہ کا پڑھنا اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورہ فاتحہ کی ایک آیت ہے،
۵۔رکوع کرنا  ،
۶۔رکوع میں اطمینان،
۷۔رکوع سے اٹھنا اور
۸۔قومہ میں اعتدال اور اطمینان
۹۔سجدےکرنا اور
۱۰۔سجدوں میں اطمینان،
۱۱۔ دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور
۱۲۔ان میں اطمینان،
۱۳۔آخری رکعت  میں بیٹھنا ،
۱۴۔آخری قاعدے میں تشہد پڑھنا،
۱۵۔آخری قاعدے میں نبی ﷺ پر درود پڑھنا،
۱۶۔  پہلا سلام اور
۱۷۔(سلام کے وقت)نماز سے نکلنے کی نیت کرنا اور
۱۸۔ ارکان کی ترتیب جیسا کہ ہم نے ان کو ذکر کیا۔

نماز میں داخل ہونے سے پہلے کی دو سنتیں ہیں

۱۔ اذان اور
۲۔ اقامت۔

نماز میں داخل ہونے کے بعد دو سنتیں ہیں

۱۔ پہلا تشہد اور
۲۔ دعاء قنوت فجر کی نماز میں اور رمضان کے آخری نصف میں وتر میں۔

نماز کی ہیئت میں پندرہ چیزیں ہیں

۱۔دونوں ہاتھوں کا اٹھانا تکبیرِ تحریمہ کے وقت،
۲۔رکوع  جاتے وقت اور

۳۔رکوع سے اٹھتے وقت
۴۔دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا
۵۔توجہ(دعاء استفتاح پڑھنا)،
۶۔تعوذ پڑھنا،
۷۔ جہری نمازوں میں جہر اور سری نمازوں میں سراً پڑھنا
۸۔آمیں کہنا،
۹۔سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھنا
۱۰۔ اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہنا،
۱۱۔ سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہنا
۱۲۔ رکوع اور سجدوں میں تسبیحات پڑھنا
۱۳۔ دونوں رانوں پر دونوں ہاتھ رکھنا قاعدوں میں بائیں ہاتھ کو کھلا رکھنا اور داہنے ہاتھ کو بند رکھنا سوائے مسبّحہ(شہادت کی انگلی کے) کیوں کہ اس سے  گواہی دیتے ہوئے اشارہ کریں گے۔
۱۴۔ تمام قاعدوں میں مفترش بیٹھنا اور آخری قاعدے میں متورک بیٹھنا اور
۱۵۔ دوسرا سلام۔



نماز کا بیان (متن ابی شجاع)

(کتاب الصلاۃ )نماز کا بیان
            پانچ نمازیں فرض ہیں:
۱۔ظہر
اور ظہر کا اول وقت سورج کا زوال ہے اور اس کا آخری وقت جب ہر چیز کا سایہ زوال کے وقت کے سایہ کے بعد اس کے برابر ہوجائے ۔
۲۔عصر
اور عصر کا اول وقت چیز  کے سایہ پر اضافہ ہونا ہے اور آخری وقت اختیار میں سایہ کا دگنا ہونا ہے، اور جواز میں سورج کے غروب ہونے تک ہے۔
۳۔ مغرب
اور مغرب کا  ایک ہی وقت ہے اور وہ سورج کا غروب ہونا ہے اور اذان دینا،وضو کرنا،ستر کا ڈھانکنا،نماز کا قائم کرنا اور پانچ رکعت کا ادا کرنا ہے۔
۴۔ عشاء اور
اور عشاء کا اول وقت جب شفق احمر غائب ہوجائے اور اس کاآخری اختیاری وقت ایک تہائی(۱/۳) رات تک ہوتا ہے اور جوازی وقت طلوعِ فجر ثانی تک رہتا ہے۔
۵۔ فجر
            اور فجر کا اول وقت طلوعِ فجرِ ثانی ہے اور اس کا آخری اختیاری وقت اسفار تک ہے اور جوازی وقت سورج طلوع ہونے تک ہے۔
فصل:
نماز کے واجب ہونے کی تین شرطیں ہیں
۱۔اسلام،
۲۔ بالغ ہونا اور
۳۔ عقل کا ہونا
اور یہ مکلف ہونے کی حد ہے۔
مسنون نمازیں پانچ ہیں:
۱،۲۔عیدین
۳،۴۔سورج و چاند گہن
۵۔ استسقاء
اور فرائض کے تابع مسنون نمازیں ۱۷  رکعتیں  ہیں
۱۔ دو رکعت فجر سے پہلے،
۲۔چار رکعت ظہر سے پہلے
۳۔دو رکعت ظہر کے بعد،
۴۔چار رکعت عصر سے پہلے،
۵۔دو رکعت مغرب کے بعد،
۶۔ تین رکعت عشاء کے بعد اور وتر ان میں ایک رکعت سے ادا کریں گے۔
اور تین نفل مؤکد ہیں
۱۔ تہجد کی نماز،
۲۔چاشت /اشراق کی نماز اور
۳۔ تراویح کی نماز۔