انسان و حیوان کے باطن سے نکلنے والی اشیاء کا حکم
1۔لعاب (تھوک)،
آنسو، پسینہ اور بلغم کا وہی حکم ہوگا جو اس حیوان کا ہے۔ اگر حیوان نجس ہو تو مذکورہ اشیاء بھی نجس، ورنہ طاہر (کتے اور
سور کا تھوک وغیرہ بھی نجس ہے، مویشیوں وغیرہ کا تھوک، پسینہ سب پاک ہے۔)
2۔ خون، پیشاب،
پاخانہ، بیٹ اور قئی جیسی چیزیں تمام حیوانات کی نجس ہیں۔ آپ ﷺ کے بدن اطہر سے
نکلے ہوئے ان فضلات کو بھی جمہور نے نجس کہا ہے۔ لیکن امام بغوی قاضی، سبکی،
بارزی، زرکشی، ابن الرفعہ، بلقینی، حافظ ابن حجر اور رملی رحمہم اللہ وغیرہ حضرات
نے اس کے برعکس طہارت کے قول کو ترجیح دی ہے۔ (حاشیۃ الجمل 1/174)
3۔ مچھلی اور
ٹڈی کا خون اور بیٹ، ایسے جانداروں کا پاخانہ جن میں بہنے والا خون نہ ہو، اور تلی
اور جگر سے ٹپکنے والا خون نجس ہے۔
4۔ مأکول
اللحم یعنی ایسے جانور جن کا گوشت کھانا
جائز ہے کا دودھ پاک ہے، اور غیر مأکول اللحم یعنی وہ جانور جن کا گوشت کھانا
جائز نہیں ہے ، ان کا دودھ نجس ہے۔
5۔ کتے اور
سوّر اور ان کے فرع کی منی ناپاک ہے۔ انسانوں سمیت بقیہ سارے جانداروں کی منی پاک
ہے۔
6۔ انڈے پاک
ہیں، چاہے غیر مأکول اللحم پرندے کے ہوں۔
7۔ مشک پاک ہے،
مشک کا نافہ اگر ہرنی کی زندگی میں جدا ہوا ہو تو پاک ہے ورنہ نجس ہے۔
8۔ جو کھیتی
اور پودے نجاست پر اُگے ہیں نجس العین نہیں، لیکن نجاست کے لگنے سے نجس ہوجاتے
ہیں۔ لہٰذا دھونے سے پاک ہوجائیں گے۔ ان پودوں کی بالیوں میں تیار ہونے والے دانے
پاک ہیں۔
9۔ پیپ نجس ہے،
اسی طرح زخموں کا پانی اگر متغیر ہو تو نجس ہے، ورنہ نہیں۔
10۔ نجاست کا
دھواں بھی نجس ہے
11۔ عورت کے
فرج (اگلی شرمگاہ) کی رطوبت (تری) علقہ (جما ہوا خون) اور مضغہ پاک ہیں۔
12۔ صفراء اور جگالی نجس ہیں،
13۔ نیند کی
حالت میں منہ سے بہنے والی رال حلق کے کوے سے نکلے تو پاک ہے اور معدے سے نکلے تو
نجس ہے۔ طویل نیند کی صورت میں بہنا بند ہو تو وہ کوے سے نکلنے والا سمجھا جائے
گا، اگر شک ہو تو نجس نہیں سمجھیں گے، البتہ احتیاطاً دھو دینا بہتر ہے۔
14۔ جس شخص کو
نیند کی حالت میں کثرت سے رال کی شکایت ہو، باجود نجس ہونے کے اس کے حق میں اسے
معاف رکھا جائے گا۔
15۔ دانہ کسی
جانور کے کھانے کے بعد پاخانہ میں صحیح سالم نکل آئے اور اس کی سختی اس حد تک باقی
ہو کہ بونے کی صورت میں اُگ سکتا ہے تو وہ دانہ پاک ہے۔ صرف اوپری حصہ دھو دینا
ضروری ہے۔ لیکن اگر دوبارہ اُگنے کے قابل نہیں رہا تو نجس العین ہوچکا۔(تحفۃ الباری
فی الفقہ الشافعی 1/71)