منگل، 5 جولائی، 2016

روزہ کا فدیہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم
روزہ کا فدیہ
کسی کا رمضان، نذر یا کفارہ کا واجب روزہ عذر کی وجہ سے فوت ہو اور اس کی قضا کے امکان اور قدرت سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوجائے، تو اس کے تدارک اور تلافی کی ضرورت نہیں اور نہ وہ گنہگار ہوگا۔ مثلا ًکوئی بیمار ہوجائے اور روزہ فوت ہو اور موت تک بیمار ہی رہے یا سفر میں روزہ فوت ہو اور موت تک سفر جاری رہا یا حاملہ اور دودھ پلانے والی کا روزہ فوت ہو اور اسی حال میں انتقال ہو، ان تمام صورتوں میں نہ تلافی کی ضرورت ہے اور نہ گنہگار ہوگا۔
اگر بلا عذر روزہ فوت ہو تو گناہ بھی ہوگا اور تدارک بھی لازم ہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

اگر بلا عذر یا عذر کی وجہ سے روزہ فوت ہو اور قضا کے امکان کے بعد انتقال ہو، تو اس کے ترکہ میں سے ہر دن کے روزہ کے بدلے اپنے شہر کی غالب غذا سے ایک ایک مد(ایک مد =600 گرام) فطرہ کی جنس سے فدیہ ادا کرے یا اس کا کوئی رشتہ دار اس کی جانب سے روزہ رکھے یا کوئی اجنبی رشتہ دار کی اجازت یا میت کی وصیت سے روزہ رکھے۔

نوٹ:- امکان کے بعد انتقال ہوا تو دونوں صورتوں میں گناہ ہوگا، اس لئے موقع ملتے ہی فورا قضا کرنا بہتر ہے۔
احادیث:
1۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" جسکا انتقال ہو اور اس کے ذمہ روزہ ہو تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔"(صحیح بخاری 1952، صحیح مسلم)
2۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے پھر کہا: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزہ تھے، کیا میں ان کو قضاکروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہان! اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی قضا کی جائے۔"( صحیح بخاری 1953، صحیح مسلم)


3۔ کسی کا انتقال ہو اور ذمہ روزہ ہو تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو طعام دیا جائے۔(سنن الترمذی و صحیح وقفہ علی ابن عمر)
4۔ ایک عورت کی والدہ کا انتقال ہوا۔ اور اس کے ذمہ نذر کے روزے تھے تو اس کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اپنی امی کی جانب سے تم روزہ رکھو۔"(صحیح مسلم)

جو شخص ایسے عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑے جس کے ختم ہونے کی کوئی توقع و امید نہ ہو جیسے بوڑھا یا ایسا مرض جس سے شفا یابی کی امید نہ ہو تو ہر روزہ کے بدلہ ایک مد (600 گرام) اناج دے، آئیندہ روزہ قضا کرنے کی ضرورت نہیں۔
 فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (سورہ البقرہ 184)
ترجمہ: "جو شخص تم میں سے (ایسا) ہو جو بیمار ہو (جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو) یا (شرعی) سفر میں ہو تو دوسے ایام کا شمار (کر کے ان میں روزہ ) رکھنا (اس پر واجب ہے) اور ( دوسی آسانی جو بعد میں منسوخ ہوگئی یہ ہے کہ ) جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں ان کے ذمہ فدیہ ہے کہ وہ ایک غریب کا کھانا کھلا دینا یا دے دینا ہے اور جو شخص خوشی سے (زیادہ) خیر (خیرات) کرے (کہ زیادہ فدیہ دے) تو اس شخص کے لئے اور بھی بہتر ہے اور تمہارا روزہ رکھنا ( اس حال میں ) زیادہ بہتر ہے اگر (روزہ کی فضیلت سے )خبر رکھتے ہو۔"

امام بغوی ؒفرماتے ہیں :
"یعنی جو نوجوانی میں میں روزہ پر قادر تھے اور اب بڑھاپے میں عاجز ہیں، ان کے ذمہ ایک فقیر کا کھانا فدیہ ہے۔(تفسیر بغوی)

 اگر مشقت اٹھا کر روزہ رکھے تو یہ کافی ہے۔ فدیہ ادا کرنے سے پہلے (اتفاقا ًاور خلاف توقع) عذر زائل ہو جائے تب بھی فدیہ ادا کرسکتا ہے۔ روزہ رکھنا واجب نہیں۔ دن سے قبل رات ہی میں اس دن کا فدیہ ادا کرسکتا ہے۔  رات سے قبل آئندہ کا فدیہ جائز نہیں۔

درج ذیل افراد کو روزہ کی قضا اور فدیہ ( 600 گرام) دونوں لازم ہیں۔

1۔ کسی آدمی یا حیوان محترم کی زندگی بچانے یا کسی عضو کو یا منفعت کو تلف ہونے سے بچانے کے لئے روزہ توڑنا پڑے۔
مثلا ًکوئی ڈوب رہا تھا اور اس کے بچانے میں پانی اندر چلا گیا اور روزہ ٹوٹ گیا۔

2۔ حاملہ عورت صرف اپنے حمل (جنین) کو نقصان اور خطرہ کی وجہ سے روزہ نہ رکھے۔

3۔ مرضعہ (دودھ پلانے والی عورت) شیر خوار بچہ کو نقصان اور خطرہ ہونے کی وجہ سے روزہ نہ رکھے۔

جنین اور بچہ کو روزہ سے نقصان ہو تو روزہ نہ رکھنا واجب ہے۔ مرضعہ کا بچہ اپنا ہو یا دوسرے کا یہی حکم ہے۔

مذکورہ( اوپر بیان کی ہوئی) تینوں صورتوں میں افطار ( روزہ نہ رکھنے سے) دو افراد کو فائدہ پہنچا اس لئے فدیہ سمیت قضا لازم ہوا۔
آخری دو صوروں کے لئے آیت سابقہ  وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ( سورہ بقرہ 184)  سے بھی استدلال کیا گیا کیوں کہ بقول ابن عباس رضی الہ عنہما ان دونوں کے حق میں یہ آیت منسوخ نہیں۔ ( رواہ البیہقی) 

مسئلہ:-جس شخص کو رمضان کے روزوں کے قضا کا موقع ملے ( یعنی بلا عذر روزہ رکھنے کے ایام میسر ہوں) اور وہ روزہ نہ رکھے، یہاں تک کہ دوسرا رمضان آگیا، تو اسے قضا کے ساتھ ہر روزہ کے بدلہ ایک مد ( 600 گرام) فدیہ دینا واجب ہے۔ کیوں کہ 6 صحابہ کرام نے یہی فتوی دیا ہے اور ان کے مخالف کسی صحابی سے مروی نہیں۔

جتنے سال تاخیر ہوگی اتنے ہی فدیہ واجب ہوں گے، جب کہ ہر سال روزہ رکھنے کی گنجائش کے باوجود مؤخر کرے۔  کیوں کہ مالی حقوق میں تداخل نہیں ہے۔

مثلاً کسی نے باوجود گنجائش کے 5 روزے 3 سال مؤخر کئے تو 5 روزوں کی قضا کے ساتھ ہر روزہ کے بدلہ تین تین مد( 600 گرام * 3 = 1800 گرام) اناج لازم ہے۔

بھول کی وجہ سے یا تاخیر کی حرمت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوئی تو فدیہ کی مقدار میں اضافہ نہ ہوگا۔
مذکورہ صورت میں ایک سال تاخیر کے بعد روزہ کی قضا سے پہلے انتقال کر جائے تو اسکے ترکہ میں سے ہر روزہ کے بدلہ دو مد (2 *600 گرام) نکالے، ایک روزہ کا اور ایک تاخیر کا۔ اور ولی اس کی جانب سے روزہ رکھے تو،  صرف ایک مد ( 600 گرام ) تاخیر کا نکالے۔

مسئلہ:- مذکورہ فدیہ کا مصرف فقیر اور مسکین ہیں۔ کیوں کہ مسکین کا ذکر آیت و حدیث میں ہے اور فقیر اس سے بھی زیادہ تنگ دستی میں ہوتا ہے۔

مسئلہ:- سارے مد ایک فقیر یا مسکین کو بھی دے سکتا ہے، کیوں کہ ہر دن مستقل عبادت ہے لہذا سارے مد مختلف کفاروں کی طرح ہیں۔ 

مسئلہ: ایک ہی مد دو میں تقسیم نہ کرے، بلکہ ایک مد مکمل ایک شخص کو دے۔  

(ماخوذ تحفہ الباری فی الفقہ الشافعی 361 – 363، الفقہ المنھجی)

ہفتہ، 2 جولائی، 2016

ختم قرآن اور اس کے مستحب اعمال و دیگر مسائل



بسم اللہ الرحمن الرحیم


ختم قرآن اور اس کے  مستحب اعمال و دیگر مسائل


پہلا مسئلہ
ختم قرآن کا مستحب وقت:
مستحب ہے کہ قرآن کی تلاوت کرنے والے کے لئے کہ اگر وہ تنہا تلاوت کر رہا ہو تو اس کو نماز میں ختم کرے۔ اور بہتر ہے کہ فجر یا مغرب کی سنت میں ختم کرے۔
مستحب ہے کہ ایک دور قرآن کا دن کی شروعات میں ختم کرے تو دوسرا دور دن کے آخر میں ختم کرے۔
جو نماز کے باہر قرآن ختم کرتے ہیں مستحب ہے کہ وہ اپنے ختم کو دن کی شروعات میں یا رات کی شروعات میں ختم کرے۔
دوسرا مسئلہ:-
ختمِ قرآن کے دن روزہ رکھنا:
مستحب ہے کہ ختم قرآن کے دن روزہ رکھے؛ ہاں اگر وہ دن قرآن ختم ہو جس دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تو روزہ نہ رکھے(مثلا عیدین وغیرہ)۔
ابن ابی داود رحمہ اللہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ
"طلحہ بن مطرف، حبیب بن ابی ثابت اور مسیب بن رافع کوفہ کے تابعین رضی اللہ عنھم اجمعین، وہ سب جس دن قرآن ختم کرتے اس دن روزہ رکھتے۔"
تیسرا مسئلہ:-
ختمِ قرآن کی مجلس میں شریک ہونا:
ختم قرآن کی مجلس میں شریک ہونا بہت زیادہ مستحب ہے؛ چنانچہ صحیحین میں ثابت ہے کہ
"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض والی عورتوں عید کے دن نکلنے کا حکم دیا تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہوں۔"
دارمی اور ابن ابی ابو داود نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ انہوں نے ایک آدمی کو ایک قرآن پڑھنے والے آدمی کی نگرانی پر رکھا تھا تو جب وہ قاری قرآن ختم کرنے والا ہوتا تو یہ آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خبر دیتا تو آپ اس میں شریک ہوتے۔"
اور ابن ابی داود دو صحیح سندوں سے روایت کرتے ہیں کہ جلیل القدر تابعی قتادہ جو انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، فرماتے ہیں:
"جب انس بن مالک  رضی اللہ عنہ قرآن ختم فرماتے اپنے گھر والوں کو جمع کرتے اور دعا کرتے۔"
اور انہوں نے صحیح سندوں سے جلیل القدر تابعی  حکم بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے  کہ انہوں نے فرمایا:
"مجاھد اور عتبہ بن لبابہ رحمہما اللہ نے مجھے بلا بھیجا، ان دونوں نے فرمایا:
"ہم نے آپ کو اس لئے بلا بھیجا ہے کہ ہم قرآن ختم کرنے والے ہیں؛ اور ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔"
اور بعض صحیح روایتوں میں ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے:
" بے شک ختم قرآن کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔"
اور انہوں نے صحیح سند سے مجاھد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ وہ فرماتے ہیں:
"وہ لوگ ختم قرآن کے وقت جمع ہوتے تھے؛ وہ سب کہتے ہیں:  رحمت نازل ہوتی ہے"
 چوتھا مسئلہ:-
ختمِ قرآن کے بعد دعا قبول ہوتی ہے:
ختم قرآن کے فورا ً بعد دعا کرنا بہت زیادہ مستحب ہے جیسا کہ اوپر والے مسئلہ میں ہم نے ذکر کیا۔
دارمی نے اپنی سند سے  حمید الاعرج (تابعی)  سے نقل کیا، فرمایا:
"جو قرآن ختم کرے اور دعا کرے تو اس کی دعا پر چار ہزار (4000) فرشتے آمین کہتے ہیں۔
مناسب ہے کہ وہ الحاح یعنی اصرار کے دعا کرے، اور اہم امور کے متعلق دعا کرے؛ اور مسلمانوں اور ان کے سلطان اور تمام ان کے امور کے والیوں کے لئے  زیادہ سے زیادہ دعا کریں۔
امام حاکم ابو عبد اللہ نیساپوری اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ(مشہور محدث) جب قرآن ختم کرتے تو بہت زیادہ دعا مسلمانوں، مومنوں اور مومنات کے لئے کرتے ۔
اور اس جیسا ان کے علاوہ نے بھی کہا ہے؛
نوٹ:- دعا کرنے والے کو چاہئے کہ جامع دعائیں کریں۔
پانچواں مسئلہ:-
قرآن کے ختم ہونے کے بعد دوسرا دور فوراً شروع کرلیں:
مستحب ہے کہ جب ختم سے فارغ ہو تو فوراً دوسرا دور کی تلاوت شروع کرلے، سلف صالحین نے اسے مستحب کہا ہے اور ان لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" بہترین اعمال حل اور رحلہ ہیں۔
کہا گیا وہ دونوں کیا ہیں؟
فرمایا: قرآن کا شروع کرنا اور اس کا ختم کرنا ہے۔"
          ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
(التبیان فی آداب حملة القرآن للنووي 158-162 ،ملخصا)
فرحان باجري الشافعی۔

منگل، 28 جون، 2016

سجدہ تلاوت کا طریقہ اور اس کے مسائل


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سجدہ تلاوت کا طریقہ اور اس کے مسائل

سجدہ تلاوت سنت ہے پڑھنے والے کے لئے، چاہے پڑھنے والا نماز میں ہو یا نماز کے باہر ہو، اور سننے والے کے لئے جو نماز میں نہ ہو۔
احادیث:-
1۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ابن آدم سجدہ کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا وہاں سے ہٹتا ہے اور کہتا ہے ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدہ کاحکم ہوا تو اس نے سجدہ کیا لہٰذا اسے جنت ملی اور مجھے سجدے کا حکم ہوا اور میں نے نافرمانی کی اس لئے مجھے جھنم ملی۔ (رواہ مسلم)
2۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے قرآن پڑھتے جب سجدہ آتا تو تکبیر کہہ کر سجدہ ریز ہوتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے۔ (رواہ ابو داود و الحاکم)
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سورہ النجم میں سجدہ نہیں فرمایا۔ (متفق علیہ)
نوٹ:-اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔
4۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ میں سورہ نحل کی تلاوت کی جب آیت سجدہ پر پہنچے تو فرمایا: اے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے ہیں تو  جو سجدہ کرے اس نے ٹھیک کیا اور جو سجدہ نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا۔
ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ہیں اللہ تعالی نے سجدہ فرض نہیں کیا الا یہ کہ ہم چاہیں۔ (رواہ البخاری)

سجدہ تلاوت  کل 14 ہیں۔  اور وہ ان سورتوں میں ہے:
1۔ الاعراف،
2۔ الرعد،
3۔ النحل،
4۔ الاسراء،
5۔ مریم،
6،7 ۔ الحج،
8۔ الفرقان،
9۔ النمل،
10۔ الم تنزیل،
11۔ حم السجدة،
12۔ النجم،
13۔ الانشقاق اور
14۔ العلق۔
نوٹ:- سورہ ص کا سجدہ، سجدہ تلاوت نہیں بلکہ شکر کا سجدہ ہے، جو نمازکے خارج تو مستحب ہے لیکن نماز میں یہ سجدہ عمداً کرنے سے نماز طاطل ہوگی؛ بھول کر یا لا علمی کی وجہ سے کرے تو نماز باطل نہ ہوگی لیکن سجدہ سہو کرنا سنت ہے۔

نوٹ:- اگر امام (مثلاً حنفی المسلک ہے اور) "سورہ ص "میں سجدہ کرے تو مقتدی اتباع نہ کرے بلکہ اس سے جدائی کی نیت کرے اور اپنی نمازتنہا مکمل کرے یا قیام میں امام کا انتظار کرے۔
مسائل
مسئلہ:- تلاوت کرنے والا سجدہ نہ کرے تب بھی سننے والے کے لئے سجدہ مسنون ہے ، البتہ اسکے کرنے پر تاکید بڑھ جاتی ہے۔
مسئلہ:- تنہا نمازی اپنی قرات کی وجہ سے سجدہ کرے گا، سجدہ کے بغیر رکوع میں چلا گیا پھر سجدہ کرنے کا ارادہ ہو تو نہیں کرسکتا۔
مسئلہ:- تنہا نمازی کسی اور کی تلاوت کی طرف توجہ دے تو اس کی تلاوت پر سجدہ نہ کرے، کیوں کہ اسے یہ توجہ ممنوع ہے۔ اگر سجدہ کرے گا تو نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ:- امام سجدہ تلاوت کرے تو مقتدی بھی کرے،ورنہ اس کی نماز باطل ہوگی۔ (سوائے سورہ ص کے سجدہ کے جیسا کہ اوپر گذر چکا) اور اگر امام سجدہ نہ کرے تو مقتدی بھی نہ کرے ورنہ اس کی نماز باطل ہوگی۔ نماز کے بعد اس سجدہ کی تلافی کرلینا بہترہے جب زیادہ دیر نہ گزری ہو۔
مسئلہ:- مقتدی (یعنی وہ شخص جو امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو) اپنی تلاوت  کی وجہ سے سجدہ نہیں کرسکتا، بلکہ اسے آیت سجدہ کی تلاوت مکروہ ہے۔
مسئلہ:- مقتدی اپنی تلاوت یا امام کے علاوہ کسی اور کی تلاوت پر سجدہ کرے تو نماز باطل ہوگی۔
مسئلہ:- ایک ہی جگہ سجدہ کی آیتوں کو پڑھے تو ہر ایک کے لئے سجدہ کرے، ایک ہی آیت سجدہ دو بار ایک مجلس میں تلاوت کرے اور پہلی مرتبہ سجدہ نہیں کیا تو اب ایک سجدہ کافی ہے۔ پہلی مرتبہ سجدہ کیا تو دوسری مرتبہ پھر کرے۔
مسئلہ:- نماز میں ایک ہی رکعت میں آیت سجدہ کو دوہرائے تو ایک مجلس کی طرح ہے۔ اور دو رکعتوں میں دوہرائے تو دو مجلس کی طرح ہے۔
مسئلہ: آیت سجدہ کے پڑھنے یا سننے کے فورا ً بعدہی سجدہ کر لینا چاہئے ، کچھ تاخیر ہوجائے تو سجدہ کرلے، زیادہ تاخیر ہوجائے تو سجدہ فوت ہوجائے گا۔ اب اس کی تلافی اور قضا نہ کرے۔
مسئلہ: آیت سجدہ مکمل ہونے سے پہلے سجدہ کرے تو صحیح نہیں، اگرچہ ایک حرف پہلے بھی۔
سجدہ تلاوت کا طریقہ:
سجدہ کی کیفیت کی دو حالتیں ہیں۔
1۔ نماز کے باہر اور  2۔ نماز کے اندر۔
نمازکے باہر سجدہ تلاوت کا طریقہ:
جو سجدہ تلاوت کرنا چاہے تو وہ سجدہ تلاوت کی نیت کرے پھر تکبیر تحریمہ کہے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے،پھر سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہے بغیر دونوں ہاتھ اٹھائے کہ اور نماز کے سجدوں کی طرح ایک سجدہ کرے۔  پھر تکبیر کہتا ہوا سر اٹھائے اور سلام پھیرے۔
سجدہ تلاوت کے شرائط و فرائض:-
نمازکے جو شرائط ہیں وہی سجدہ تلاوت کے لئے بھی شرط ہیں جیسے طہارت،ستر عورت اور استقبال قبلہ وغیرہ۔

(نماز کے باہر ) سجدہ تلاوت کی نیت اور سلام پھیرنا واجب(فرض) ہے۔

نماز میں سجدہ تلاوت:
اگر نماز میں سجدہ کی آیت تلاوت کرے تو نماز کے سجدہ کی طرح بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور تکبیر کہتا ہوا سجدہ سے اٹھے۔ سجدہ تلاوت سے اٹھنے کے بعد سیدھا کھڑا ہوجائے، جلسہ استراحت میں نہ بیٹھے۔
سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے؟:-
سجدہ تلاوت میں یہ ذکر مستحب ہے
سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ
ترجمہ: میرا چہرا اس ہستی کے روبرو سجدہ ریز ہوا جس نے اسکی تخلیق اور صورت گری فرمائی اور اپنی قدرت و قوت سے اس میں سننے و دیکھنے کی طاقت پیدا فرمائی۔ (رواہ احمد و اصحاب السنن و الدار قطنی والحاکم و البیھقی و صححہ ابن السکن) ابن السکن کی روایت میں تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
امام حاکم کی روایت کے آخر میں
" فتبارك الله احسن الله الخالقين" کا اضافہ فرمایا ہے۔ (تلخیص الحبیر 2/10)
یا یہ پڑھنا بھی مستحب ہے:
اللَّهُمَّ اُكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَك ذُخْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُد (عَلَيْهِ السَّلَامُ)
ترجمہ:یا اللہ اس (سجدہ) کی وجہ سے تو اپنے یہاں میرے حق میں نیکی لکھ دے، اور اسے تیرے  پاس میرے لئے ذخیرہ بنا، اور اسکے ذریعے میرے گناہ معاف فرما اور مجھ سے قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام سے قبول فرمایا۔(الترمذی والحاکم وابن حبان و ابن ماجہ)
(مأخوذ الفقہ المنھجی و تحفۃ الباری فی الفقہ الشافعی  مختصراً)
فرحان باجري الشافعی